03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مصنوعی، ذہانت، سے، کارٹون، بنوانا
88145جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

آج کل AI کے ذریعے ویڈیوز بنانا، آوازیں بدلنا، اور مشہور شخصیات کو بچوں، جانوروں یا کسی اور شکل میں تبدیل کرنا ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے۔ مثلاً:

بعض لوگ مشہور شخصیات (جیسے عالم دین، سیاستدان یا اداکار) کے چہروں کو AI کے ذریعے بچوں (Kids) میں تبدیل کر دیتے ہیں، اور ان پر فرضی آوازیں یا الفاظ بھی شامل کرتے ہیں۔یوٹیوب پر Monkey Vlogs جیسے چینلز موجود ہیں جہاں بندر یا دیگر جانوروں کے ویڈیوز کو انسانوں جیسا دکھایا جاتا ہے، اور ان میں انسانی جذبات اور بات چیت شامل کر کے ایک کہانی بنائی جاتی ہے۔

میں نے خود ایک عالمِ دین کو یوٹیوب پر یہ کہتے سنا کہ اگر کوئی AI سے کہے کہ میرے لیے فلاں شخصیت کی آواز یا انداز میں ویڈیو بنا دو، تو یہ "مصوری کی جدید شکل" ہے، اور یہ حرام ہو سکتی ہے۔

کیا AI سے اس قسم کی ویڈیوز بنانا، جہاں فرضی چہرے، آوازیں یا جذبات شامل کیے جائیں، شرعی طور پر جائز ہے یا ناجائز؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مصنوعی ذہانت (AI) سے  ویڈیو بنوانا  جائز ہے، بشرطیکہ وہ مواد موسیقی یا بے حیائی جیسے ناجائز عناصر سے پاک ہو۔ اگر ویڈیو یا تصویر کے پسِ منظر میں موسیقی شامل ہو، یا ان میں ایسے مناظر ہوں جو  غیر اخلاقی امور پر مشتمل ہوں، تو ایسی ویڈیوز بنوانا شرعاً ناجائز ہوگا۔

اس تمہید کے بعد سوال کا جواب درج ذیل ہے:

مصنوعی ذ ہانت (AI) سے  ویڈیو  بنوانے میں فرضی  چہروں اور فرضی آوازوں  کا استعمال کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ موسیقی اور بے حیائی پر مشتمل نہ ہو، اس کے  بیک گراونڈ میں موسیقی کا استعمال نہ  کیا گیا ہو اور نہ ہی اس میں غیر اخلاقی مواد ہو۔

حوالہ جات

تكملة فتح الملهم (4 / 162)::

أما التلفزون و الفديو فلا شك في حرمة استعمالهما بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعۃ والمجون ، والکشف عن النساء المتبرجات او العاریات ، و ما الی ذلک من اسباب الفسوق ،ولکن ھل یتاتی فیھما حکم التصویر بحیث اذا کان التلفزیون او الفیدیو خالیا من ھذہ المنکرات باسرھا ، ھل یحرم بالنظر الی کونہ تصویرا؟ فان لھذا العبد الضعیف ۔عفااللہ عنہ۔ فیہ وقفۃ : وذلک لان الصورۃ المحرمۃ ما کانت منقوشۃ او منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃ الاستقرار علی شیء ،وھی الصورۃ التی کان الکفار یستعملونھا للعبادہ ،أما الصورة التي ليس لها ثبات و استقرار و ليست منقوشة على شيئ بصفة دائمة فانها بالظل اشبه منها بالصورة و يبدوا أنَّ صورة التلفزون و الفديو لا تستقر على شيئ في مرحلة من المراحل.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

22/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب