| 88126 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
حکومت پنجاب نے" اپنی چھت اپنا گھر" سکیم کا اجراء کیا ہے۔ اس سکیم کے تحت حکومت پندرہ لاکھ روپے کا بلا سود قرضہ دے رہی ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے اسمبلی خطاب کے دوران اس بات کا اعلان کیا ہے کہ مذکورہ پندرہ لاکھ روپے کا سود حکومت ادا کرےگی۔براہ کرم اس با رے میں رہنمائی فرمائیں کہ اس قرضہ کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
"اپنی چھت ،اپنا گھر" اسکیم حاصل کرنے کے لئے درج ذیل اقدامات کرنا ضروری ہے:
۱۔چارجز / فیس: کارڈ کی سالانہ فیس: PKR 25,000 + FED واجب الادا کی منظور شدہ حد سے وصول کی جائے گی۔
۲۔اضافی چارجز: لائف انشورنس، کارڈ کا اجراء اور ڈیلیوری چارجز اسکیم میں شامل ہیں۔
۳۔اقساط کی تاخیر سے ادائیگی کی صورت میں، بینک کی پالیسی / چارجز کے شیڈول کے مطابق دیر سے ادائیگی کے چارجز وصول کیے جائیں گے۔
موجودہ معلومات کے مطابق مذکورہ اسکیم سودی قرضے پر مشتمل ہے۔ اس اسکیم اور عام سودی قرضے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ عام سودی قرضے میں صارف بذات خود سود ادا کرتا ہے، جبکہ مذکورہ اسکیم میں صارف کی طرف سے حکومت پنجاب سود ادا کرے گی اور ایسا قرضہ لینا بھی جائز نہیں ہے ، جس کا سود صارف کے علاوہ کوئی تیسرا شخص ادا کررہا ہو۔ اس کے علاوہ اگر صارف اسکیم کی قسط بر وقت ادا نہیں کر پا تا تو اس پر لاگو ہونے والا اضافی سود بھی صارف کو خود ادا کرنا پڑے گا، لہذا اس اسکیم سے قرضہ لینا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
........
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
23/محرم الحرام /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


