| 88109 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میں (محمد ایان خان) نے ایک لڑکی (یمشاه کنول) کو عدالت میں لے جا کر نکاح کیا، پھر میں (محمد ایان خان) نے لڑکی (یمشاه کنول) کو گھر بھیج دیا تھا، گھر میں نکاح کا پتہ چل جانے کے بعد دونوں کے ماں باپ نے دونوں پر یعنی لڑکا(محمد ایان خان) اور لڑکی(یمشاه کنول) پر دباؤ ڈالا، دھمکیاں دیں، لڑکا (محمد ایان خان) اور لڑکی (یمشاه کنول) کے راضی نہ ہونے کی وجہ سے بات یہاں تک آگئی کہ لڑکی (یمشاه کنول) کےبھائی ارتضی نے لڑکے کو جان سے مارنے کی دھمکی دی اور لڑکی (یمشاه کنول) نے بھی لڑکے (محمد ایان خان) کو بتایا کہ یہ لوگ تمہیں مار دیں گے ،اگر تم نے دستخط نہیں کیے۔
لڑکی (یمشاه کنول) کے بھائی نے لڑکے کے گھر پولیس لا کر بدتمیزی کرنے کو بھی کہا اور لڑکے (محمد ایان خان) سے کہا کہ اگر وہ دستخط نہیں کرے گا تو پولیس والے گھر پر لا کر دستخط کروا لیں گے اور لڑکے (محمد ایان خان) کو مارنے کی دھمکی بھی دی، لڑکے (محمد ایان خان) کی جان خطرہ میں تھی، لڑکی (یمشاه کنول) کا بھائی لڑکے (محمد ایان خان) کے گھر پر لڑکے بھی لے کر آیا، بدتمیزی کی،لڑکے (محمد ایان خان) کے باپ کو بھی دھمکیاں دیں، پھر اگلے دن لڑکی (یمشاه کنول) سے جبراً خلع نامہ بنوا کر لایا، جسے نہ تو لڑکے (محمد ایان خان)کو پڑھایا گیا اور نہ ہی پڑھنے دیا گیا،لڑکے (محمد ایان خان) نے منہ زبانی کچھ بھی نہیں بولا اور یہاں تک کہ لڑکےپر بہت دباؤ ڈالا گیا اوراسے یقین تھا کہ اگر وہ دستخط نہیں کرتا تو یہ لوگ اسے(محمد ایان خان) اور لڑکی (یمشاه کنول) کو ماردیتے اور لڑکے کے ماں باپ کی بھی جان خطرے میں تھی، انہوں نے لڑکے(محمد ایان خان) کے ماں باپ کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر دستخط کروانے کو کہا، جس کی وجہ سے لڑکے کے ماں باپ نے اور اس کے ماں باپ نے مجھے ڈرایا، دھمکایا اور دباؤ اور دھمکیوں کے زور پر ز بردستی دستخط کروالیے،اب پہلا سوال تو یہ ہے کہ یہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟ اور اگر ہو گئی ہے تو دوسرا سوال یہ ہے کہ وہ دونوں اپنی رضامندی سے دوبارہ نکاح کر کے الگ رہنا چاہتے ہیں ،کیا اس کی گنجائش ہے؟
تنقیح:سائل نے وضاحت کی کہ ان دونوں نے کورٹ میرج کی تھی،لڑکی شیعہ مذہب سے تعلق رکھتی تھی،لیکن نکاح سے پہلے سنی ہوگئی تھی اور لڑکا اس کے برابر کا ہے،کورٹ میرج کے بعد لڑکی کے بھائی نے ان دونوں کو خلع کے کاغذات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا اور دستخط نہ کرنے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی تھیں۔
جن کا غذات پر میاں بیوی سے دستخط لئے گئے ہیں ان پر درج ذیل جملے درج تھے:
1۔مسمی محمدایان ولد شکیل احمد خان اپنی بیوی مسماة یمشاہ کنول بنت سید نعیم رضا کو طلاق بذریعہ خلع دیتا ہوں ۔
2۔ مسمی محمدایان ولد شکیل احمد خان اپنی بیوی مسماة یمشاہ کنول بنت سید نعیم رضا کو طلاق بذریعہ خلع دیتاہوں ۔
3۔ مسمی محمدایان ولد شکیل احمد خان اپنی بیوی مسماة یمشاہ کنول بنت سید نعیم رضاکو طلاق بذریعہ خلع دیتا ہوں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح والدین اور اولیاء بلکہ تمام قریبی رشتہ داروں کو شامل کرکے انجام دینا چاہیے،کیونکہ شادی کوئی عارضی اور وقتی چیز نہیں،بلکہ زندگی بھر کا معاملہ ہے،اس لیے اس کی انجام دہی کے لیے غور وفکر،تجربہ اور بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ تمام چیزیں بالعموم ایک لڑکے اور لڑکی کے فیصلے میں نہیں پائی جاتیں،کیونکہ عموما لڑکا اور لڑکی محض وقتی محبت اور جذباتی کیفیت کی بنیاد پر یہ اقدام کرتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ والدین کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جانے والے عدالتی نکاح دونوں خاندانوں کے درمیان بہت سی ناچاقیوں اور اختلافات کا سبب بنتےہیں اورعمومانوبت طلاق یا قتل و قتال تک پہنچ جاتی ہے،جس کے نتیجے میں دونوں خاندان ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کےدشمن بن جاتے ہیں،اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے۔
تاہم اس کے باوجود اگر کسی بالغ لڑکے اوربالغ لڑکی نے والدین کو اعتماد میں لیے بغیر نکاح کرلیا تو اگر لڑکا حسب نسب،مالداری اور دینداری میں لڑکی کے ہم پلہ ہویعنی لڑکی اورلڑکےدونوں کا تعلق معاشرےمیں ہم رتبہ سمجھے جانےوالےخاندانوں سے ہو،لڑکا لڑکی کے مہر اور نان نفقہ کی ادائیگی پر قادر ہو،کردار اور سیرت کے لحاظ سے بھی دونوں ایک جیسے ہوں یعنی یا تو دونوں دیندار ہوں یا دونوں فاسق، ایسی صورت میں عدالت میں کیا گیا نکاح منعقد ہوجائےگا،لیکن والدین کی نافرمانی کا گناہ ہوگا۔
تاہم اگر نکاح میں مہر مثل (یعنی شکل و صورت،سیرت اور عمر میں خاندان کے اندر اس جیسی لڑکی کا عام طور پر جو مہر طے کیا جاتا ہے وہ مہر مثل کہلاتا ہے)سے کم مہر طے کیا گیا ہو تو اولیاء کو اس پر اعتراض کا حق حاصل ہوگا اور آپ کے ذمے مہر مثل کی تکمیل لازم ہوگی۔
چونکہ آپ کے بقول آپ حسب نسب،مالداری اور دینداری میں لڑکی کے ہم پلہ ہیں،اس لیے اگرآپ لڑکی کے مہر اور نان نفقہ کی ادائیگی پر بھی قادر ہیں تو مذکورہ نکاح منعقد ہوچکا ہے،لہذا اب جب تک آپ اسے طلاق نہ دے دیں یا اپنی رضامندی سے اسے خلع نہ دے دیں وہ بدستور آپ کے نکاح میں رہے گی۔
اور مذکورہ صورت میں ان کاغذات پر دستخط کرنے کا حکم یہ ہے کہ اگر آپ کو اس بات یقین یا غالب گمان تھا کہ اگر آپ ان کاغذات پر دستخط نہ کرتے تو آپ کی بیوی کا بھائی آپ کو جان سے ماردیتا تو پھر مذکورہ صورت میں زبان سے طلاق کے الفاظ کہے بغیر مجبوراً محض ان کاغذات پر دستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
لیکن اگر بیوی کے بھائی نے محض آپ پر دباؤ ڈالنے کے لئے آپ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی اور آپ کو اس بات کا یقین یا ظن غالب تھا کہ اگر آپ ان کاغذات پر دستخط نہ کرتے تو وہ عملی طور پر آپ کوجان سے مارنے کا اقدام نہیں کرسکتا تھا تو پھر مذکورہ صورت میں ان کاغذات پر دستخط کرنے سے خلع کے ذریعے ایک بائن طلاق واقع ہوگئی ہے،جس کے بعد دوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے لئے باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا اور تجدیدِ نکاح کے بعد آپ کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
حوالہ جات
"الهداية في شرح بداية المبتدي"(1/ 191):
" وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها وإن لم يعقد عليها ولى،بكرا كانت أو ثيبا عند أبي حنيفة وأبي يوسف " رحمهما ﷲ " في ظاهر الرواية وعن أبي يوسف " رحمهﷲ " أنه لا ينعقد إلا بولي وعند محمد ينعقد موقوفا " وقال مالك والشافعي رحمهما ﷲ:لا ينعقد النكاح بعبارة النساء أصلا؛لأن النكاح يراد لمقاصد والتفويض إليهن مخل بها إلا أن محمدا رحمه ﷲيقول:يرتفع الخلل باجازة الولي ووجه الجواز أنها تصرفت في خالص حقها وهي من أهله لكونها عاقلة مميزة ولهذا كان لها التصرف في المال ولها اختيار الأزواج وإنما يطالب الولي بالتزويج كيلا تنسب إلى الوقاحة ثم في ظاهر الرواية لا فرق بين الكفء وغير الكفء ولكن للولي الاعتراض في غير الكفء وعن أبي حنيفة وأبي يوسف أنه لا يجوز في غير الكفء ؛لأنه كم من واقع لا يرفع ويروي رجوع محمد إلى قولهما ".
"الدر المختار " (3/ 21):
"(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر".
"الدر المختار " (3/ 94):
"(ولو نكحت بأقل من مهرها فللولي) العصبة (الاعتراض حتى يتم) مهر مثلها (أو يفرق) القاضي بينهما دفعا للعار".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ : (قوله :فللولي العصبة) أي لا غيره من الأقارب ولا القاضي لو كانت سفيهة، كما في الذخيرة نهر. والذي في الذخيرة من الحجر المحجور عليها إذا تزوجت بأقل من مهر مثلها ليس للقاضي الاعتراض عليها ؛لأن الحجر في المال لا في النفس. اهـ. بحر.
قلت: لكن في حجر الظهيرية: إن لم يدخل بها الزوج ،قيل له :أتم مهر مثلها، فإن رضي وإلا فرق بينهما وإن دخل فعليه إتمامه ولا يفرق بينهما ؛لأن التفريق كان للنقصان عن مهر المثل وقد انعدم حين قضى لها بمهر مثلها بالدخول. اهـ".
"الفتاوى الهندية" (1/ 379):
"رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان".
"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع "(7/ 175):
"وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا".
"الدر المختار " (6/ 129):
"(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى ".
"البحر الرائق " (3/ 264):
"وقيدنا بكونه على النطق لأنه لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية، وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع اهـ".
"الدر المختار " (3/ 461):
"قال :خالعتك على ألف، قاله ثلاثا فقبلت ،طلقت بثلاثة آلاف لتعليقه بقبولها".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:" (قوله: طلقت بثلاثة آلاف) أي طلقت بثلاثة آلاف كما صرح به في البحر عن المحيط عند قول الكنز ولزمها المال وقال :لأنه لم يقع شيء إلا بقبولها ؛لأن الطلاق يتعلق بقبولها في الخلع فوقع الثلاث عند قبولها جملة بثلاثة آلاف. اهـ.
قلت: وهذا إذا كان بمال وإلا لم يكن معاوضة فلا يتوقف على القبول فتقع الأولى ويلغو ما بعدها ؛لأن البائن لا يلحق البائن، ولذا قال في جامع الفصولين: قال لها: قد خلعتك وكرره ثلاثا وأراد به الطلاق فهي واحدة بائنة".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
23/محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


