| 88136 | خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
تین مرلے زمین جس میں ہم ایک بھائی اور پانچ بہنیں شریک ہیں، ہم تمام شرکاء اس زمین کو فروخت کرنا چاہتے ہیں، لیکن شرکاء میں سے ایک بہن نابالغ ہے،یہ نابالغ بہن اپنے حقیقی والدین کی زندگی میں ہی زید اور ہندہ کے زیر پرورش (لے پالک) رہی ہے، اب ہمارے والدین وفات پا چکے ہیں، سوال یہ ہے کہ اس نابالغ بچی کا شرعی ولی کون ہوگا؟ کیا حقیقی بھائی ولی بن کر اس نابالغ بہن کا حصہ فروخت کر سکتا ہے؟ یا زید اور ہندہ جنہوں نے اسے پالا ہے، اس کے ولی بن کر اس کا حصہ فروخت کر سکتے ہیں؟
اگر مذکورہ افراد کو بیچنے کا حق حاصل نہیں ہے تو برائے مہربانی متبادل کی رہنمائی فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مذ کورہ صور ت میں زید ،ہندہ اور نابالغ بچی کے بھائی میں سے کوئی بھی مالی معاملات میں نابالغ بچی کا ولی نہیں ہے اور نہ ہی ان میں سے کسی کو نابا لغ بچی کی زمین فروخت کرنے کا حق حاصل ہے۔
نابالغ بچی کے والد اور دادا موجود نہ ہوں تو مال کی ولایت کسی اور رشتہ دار کو حاصل نہیں ہے، بلکہ اس صورت میں مال کا ولی قاضی ہو گا، اگر قاضی موجود نہ ہو، جیسا کہ آج کل عدالت کی طرف سے یتیموں کے اموال کی حفاظت اور ان کی نگرانی کا کوئی انتظام نہیں ہے، اس لیے اب قاضی کے قائم مقام جماعت المسلمین ہو گی، لہذا محلے کے تین چار صالح اور سمجھدار آدمی (جن میں سے ایک یا دو عالم بھی ہوں) آپس میں مشورہ کر کے اتفاقِ رائےسے کسی امانت دار اور صالح شخص کو اس کے مال کا نگران بنا دیں۔
اصولی طور پر اس نگران کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہو گا کہ وہ نابالغ بچی کی زمین کو فروخت کرے ، تاہم فقہاء کرام نے چند صورتوں میں اس کی اجازت دی ہے، جس میں سے ایک یہ ہے کہ زمین میں نقصان کا ندیشہ ہو۔
مذکورہ صورت میں اگر کل مشترکہ زمین ہی صرف تین مرلے ہے ، باقی تمام شرکاءاپنا حصہ فروخت کررہے ہیں تو نابالغ بچی کے حصے میں ایک مرلے سے بھی کم زمین باقی رہ جائے گی ۔
اگر زمین کا نگران دیانتاً یہ سمجھتا ہو کہ زمین کے اس قطعے کی حفاظت مشکل ہو گی اور مستقبل میں اس کا حصول دشوار ہو جائے گا ، جس سے نابالغ بچی کے مال میں نقصا ن کا ظنِ غالب ہے ،تو اس صورت میں نگران کے لئے ا س زمین کو فروخت کر نا درست ہو گا اور نگران بچی کے ہوشیار اور سمجھدار ہونے تک زمین سے حاصل ہونے والی قیمت کی حفاظت کرے گا۔
حوالہ جات
سورة الاحزاب(٣٣)
وَما جَعَلَ أَدْعِياءَكُمْ أَبْناءَكُمْ ذلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْواهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ.
رد المحتار ط الحلبي» (6/ 714):
الولاية في مال الصغير للأب ثم وصيه ثم وصي وصيه ولو بعد، فلو مات الأب ولم يوص فالولاية لأبي الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه فإن لم يكن فللقاضي ومنصوبه، ولو أوصى إلى رجل والأولاد صغار وكبار فمات بعضهم وترك ابنا صغيرا فوصي الجد وصي لهم يصح بيعه عليه كما صح على أبيه في غير العقار فليحفظ. وأما وصي الأخ والأم والعم وسائر ذوي الأرحام ففي شرح الإسبيجابي أن لهم بيع تركة الميت لدينه أو وصيته إن لم يكن أحد ممن تقدم لا بيع عقار الصغار إذ ليس لهم إلا حفظ المال ولا الشراء للتجارة ولا التصرف فيما يملكه الصغير، من جهة موصيهم مطلقا لأنهم بالنظر إليه أجانب، نعم لهم شراء ما لا بد منه من الطعام والكسوة وبيع منقول ورثة اليتيم من جهة الموصي لكونه من الحفظ لأن حفظ الثمن أيسر من حفظ العين.
رد المحتار ط الحلبي (6/ 711):
وجاز بيعه عقار صغير من أجنبي لا من نفسه بضعف قيمته، أو لنفقة الصغير أو دين الميت، أو وصية مرسلة لا نفاذ لها إلا منه، أو لكون غلاته لا تزيد على مؤنته، أو خوف خرابه أو نقصانه، أو كونه في يد متغلب ،درر وأشباه ملخصا.قلت: وهذا لو البائع وصيا لا من قبل أم أو أخ فإنهما لا يملكان بيع العقار مطلقا ولا شراء غير طعام وكسوة.
(قوله وجاز بيعه عقار صغير إلخ) أطلق السلف جواز بيعه العقار وقيده المتأخرون بالشروط المذكورة كما في الخانية وغيرها. قال الزيلعي: قال الصدر الشهيد وبه يفتى: أي بقول المتأخرين.
(قوله لا من قبل أم أو أخ) أي أو نحوهما من الأقارب غير الأب والجد والقاضي.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
21/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


