| 88132 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میں نے اپنی بیوی سے کسی بات پر جھگڑا کیا، پھر ایک موقع پر میں نے اپنی بیوی سے کہا : "تم میرے ساتھ رہو گی، لیکن میرے جسم کو ہاتھ نہیں لگاؤ گی، میں تمہارا پکایا ہوا کھانا نہیں کھاؤں گا اور نہ ہی میرے کپڑے دھونا۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم اپنے ماں باپ کا سر کھاؤ گی" ۔کیا یہ بات کہنا کسی مسئلے کا سبب بن سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں شوہر نے جو جملہ کہا ہے""تم میرے ساتھ رہو گی، لیکن میرے جسم کو ہاتھ نہیں لگاؤ گی، میں تمہارا پکایا ہوا کھانا نہیں کھاؤں گا اور نہ ہی میرے کپڑے دھونا۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم اپنے ماں باپ کا سر کھاؤ گی" اس سے کوئی شرعی حکم(طلاق وغیرہ) ثابت نہیں ہوتا ، لہذا دونوں میاں بیوی کا نکاح برقرار ہے۔ البتہ ایسے غیر ضروری جملے کہنے سے بچنا بہتر ہے اور شوہر کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہئے، تاکہ غصہ میں آئندہ اس سے کوئی سخت بات نہ کہہ دے اور پھر وہی بات میاں بیوی کے لئے تکلیف کا باعث بنے۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
23/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


