03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کے بے جا غصہ کا حکم
88132طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میں نے اپنی بیوی سے کسی بات  پر جھگڑا کیا، پھر ایک موقع پر میں نے اپنی بیوی سے کہا : "تم میرے ساتھ رہو گی، لیکن میرے جسم کو ہاتھ نہیں لگاؤ گی،  میں تمہارا پکایا ہوا کھانا نہیں کھاؤں گا اور نہ ہی  میرے کپڑے دھونا۔ اگر تم نے  ایسا کیا تو تم اپنے ماں باپ کا سر کھاؤ گی" ۔کیا یہ بات کہنا کسی مسئلے کا سبب بن سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ  میں شوہر نے جو جملہ  کہا ہے""تم میرے ساتھ رہو گی، لیکن میرے جسم کو ہاتھ نہیں لگاؤ گی،  میں تمہارا پکایا ہوا کھانا نہیں کھاؤں گا اور نہ ہی  میرے کپڑے دھونا۔ اگر تم نے  ایسا کیا تو تم اپنے ماں باپ کا سر کھاؤ گی" اس سے کوئی شرعی حکم(طلاق  وغیرہ) ثابت نہیں ہوتا ، لہذا دونوں میاں بیوی کا نکاح برقرار ہے۔ البتہ ایسے غیر ضروری جملے کہنے سے بچنا بہتر ہے اور شوہر کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہئے، تاکہ غصہ میں آئندہ  اس سے کوئی سخت بات نہ کہہ دے اور پھر وہی بات میاں بیوی کے لئے تکلیف کا باعث بنے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

23/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب