| 88115 | نان نفقہ کے مسائل | بیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل |
سوال
میں سَید شجاعت علی گزارش گزار ہوں کہ میری بیٹی مسمّاة سیدہ لائبہ کا نکاح تقریباً پانچ ماہ قبل عزیز احمد سے ہوا۔ اس نکاح میں مہر بارہ تولہ سونا معجّل اور پچھتّر لاکھ روپے غیر معجل مقرر ہوا۔نکاح کے بعد شادی کی تقریب کے انتظامات کے لیے دولہے عزیز احمد نے تین لاکھ روپے دیے، جن میں سے دو لاکھ ستر ہزار روپے خرچ ہوئےاور باقی تیس ہزار روپے واپس کرنے پر عزیز احمد نے کہا :یہ پیسے اپنے بچوں کی ضروریات میں خرچ کر لیں۔
شادی کے بعد داماد نے چند مہینے کے لیے گلگت میں کرائے کا مکان لے کر بیوی کو وہاں رکھا اور خود تین بار گلگت آیا، کبھی تین دن اور کبھی دس دن قیام کیا۔ بعد ازاں عزیز احمد نے میری بیٹی کو تین طلاقیں دے دیں۔
طلاق کے بعد ایک جرگہ تشکیل دیا گیا، جو دونوں فریقین سے باقاعدہ اختیارات لینے کے بعد مانسہرہ میں منعقد ہوا۔ عزیز احمد کی طرف سے اس کے بھائی فاروق خلیل موجود تھے۔ جرگہ داروں نے آپس میں مشورے کے بعد چند سطروں پر مشتمل ایک تحریری فیصلہ تیار کیاجس پر میں نے دستخط کیے۔ چونکہ میں تعلیم یافتہ نہیں ہوں، اس لیے فیصلہ مکمل پڑھا نہیں جا سکا اور دستخط مجبوری کے تحت کیے گئے۔
اب ان امور میں شرعی رہنمائی درکار ہےکہ نکاح میں بارہ تولہ سونا (معجل) اور 75 لاکھ روپے (غیر معجل) مہر مقرر ہوا تھا۔ اب تک بارہ تولہ سونا ادا کیا گیا ہےاور پچھتر لاکھ میں سے 14 لاکھ روپے ادا کیے گئے،بقیہ 61 لاکھ میں سے جرگہ داروں نے 44 لاکھ روپے اقساط میں ادا کرنے کا طریقہ طے کیا ہےاور 17 لاکھ روپے یہ کہہ کر منہا کر دیے کہ دس لاکھ روپے شادی کے ولیمہ کے اخراجات کے طور پرکاٹے گئے،اور سات ہزارکرایہ کے مکان اور دیگر اخراجات کے نام پر ۔ اب سوال یہ ہے کیا دعوت کے اخراجات اور مکان کا کرایہ مہر کی رقم سے منہا کرنا شرعاً جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت کا حکم یہ ہے کہ نکاح کے بعد شوہر کے ساتھ رہنے کی وجہ سے بیوی کے نان نفقہ، لباس اور رہائش کا خرچہ شوہر پر لازم ہے،اور اسی طرح نکاح کے بعد عورت کا طے کیا گیا مہر شوہر کے ذمہ واجب ہے۔لہذاسوال میں مذکور تفصیل کے مطابق جرگے کی طرف سے 17 لاکھ روپے کو مہر سے منہا کرنا 10 لاکھ ولیمہ کےلیے اور باقی رقم گھر کے کرایہ کےلیے شرعا ناجائز ہے۔ ولیمہ چونکہ ایک مسنون عمل ہے ، لہذا شوہر کی مالی استطاعت کے مطابق اس کا اہتمام خود شوہر پر لازم ہے نہ کہ بیوی کے مہر سے۔
حوالہ جات
النهاية في شرح الهداية - السغناقي» (9/ 129 بترقيم الشاملة آليا):
والأصل فيه قوله تعالى: {وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف} وقال تعالى: {وبما أنفقوا من أموالهم}.وقال تعالى: {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} معناه: أسكنوهن من حيث سكنتم، وأنفقوا عليهن من وجدكم، وبه قرأ عبد الله بن مسعود رضي الله عنه وقال عليه السلام: أوصيكم بالنساء خيرا، فإنهن عندكم عوان، اتخذتموهن بأمانة الله، واستحللتم فروجهن بكلمة الله، وإن لكم عليهن أن لا يوطئن فرشكم أحدا، وأن لا يؤذن في بيوتكم لأحد تكرهونه، فإذا فعلن ذلك فاضربوهن ضربا غير مبرح، وإن لهن عليكم نفقتهن وكسوتهن بالمعروف»، كذا في المبسوط والذخيرة.
العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير ط الحلبي» (4/ 397):
وعلى الزوج أن يسكنها في دار مفردة ليس فيها أحد من أهله إلا أن تختار ذلك) لأن السكنى من كفايتها فتجب لها كالنفقة، وقد أوجبه الله تعالى مقرونا بالنفقة، وإذا وجب حقا لها ليس له أن يشرك غيرها فيه لأنها تتضرر به، فإنها لا تأمن على متاعها، ويمنعها ذلك من المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع، إلا أن تختار لأنها رضيت بانتقاص حقها (وإن كان له ولد من غيرها فليس له أن يسكنه معها) لما بينا ولو أسكنها في بيت من الدار مفرد وله غلق كفاها لأن المقصود قد حصل.
محمد ابرہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
23 /محرم الحرام /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


