| 88116 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
دوسرا سوال یہ ہے کہ میری بیٹی اس وقت حاملہ تھی، اور خود عزیز احمد نے ایک وائس میسج کے ذریعے کہا تھا: "مجھے بچے کی ضرورت نہیں، اسے ضائع کر دو۔"مگر میری بیٹی نے بچے کو ضائع نہیں کیا اور حمل کو باقی رکھا۔ اب جب بچہ پیدا ہو چکا ہے اور دودھ پیتا ہےتو جرگہ داروں نے فیصلہ دیا کہ ایک سو دنوں کے اندر بچے کو باپ یعنی عزیز احمد کے حوالے کر دیا جائے۔کیا ایسے شیر خوار بچے کو زبردستی ماں سے جدا کر کے باپ کے حوالے کرنا شرعاً درست ہے؟ جبکہ ماں بچے کو ہرگز دینا نہیں چاہتی ۔ماں بچے کو پالنے اور پرورش دینے پر راضی ہے، اب سوال یہ کہ ماں سے زبردستی شیرخوار بچہ چھیننا شرعا درست ہے اور بچے کی پرورش کا حق والدین میں سے کس کو ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں شوہر نے بیوی سے جویہ کہا ہے کہ بچہ ضائع کردے مجھے ضرورت نہیں ہےتو اس سےبچے کا نسب والد سے کٹ نہیں گیا ، پھرجب عورت نے اسے ضائع نہیں کیا تو اب پیدائش کے بعد اس بچے کا والد شوہر ہی شمار ہوگا ،باپ ہونے کی حیثیت سے اس بچے کا نفقہ بھی اسی پر واجب ہوگا۔
جبکہ حق پرورش سے متعلق شرعی اصول یہ ہے کہ سات سال تک بچے کی پرورش کا حق ماں کو ہے، بشرطیکہ ماں نے بچے کے کسی نامحرم سے نکا ح نہ کیا ہو ۔ اگر ماں نے ایسا نکاح کرلیا ہو تو نکاح سے عورت کا حقِ پرورش ساقط ہو جاتا ہے اور یہ حق نانی کومنتقل ہوجاتا ہے ،اگروہ نہ ہویا اِس پرورش پر راضی نہ ہو تو پھر دادی، پھر خالہ اور پھر پھوپھی کوحق پرورش حاصل ہو تا ہے،پرورش کے حق میں اس ترتیب کا لحاظ ضروری ہے۔اگر بچے کی ماں نے کسی نامحرم مرد سے نکاح کرلیا ہوتو ایسی صورت میں بچے کی پرورش کا حق نانی کو اس وقت تک حاصل ہوتا ہےجب تک وہ لڑکا خود کھانے پینے،لباس پہننے اور طہارت واستنجاء کے قابل ہو جائے،اوریہ عموما سات سال کی عمر تک ہوتا ہے۔
اس کےبعد عورتوں کا یہ حق ختم ہو کر والد کو حاصل ہوجاتا ہے، کیونکہ اس عمر میں بچے کو تربیت، اخلاق، علم اور مردانہ کردار سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ والد بہتر طریقے سے انجام دےسکتا ہے۔اگر والد موجود نہ ہوتو پرورش کا حق مردوں میں سے قریبی نسبی رشتہ داروں کو حاصل ہوتا ہے ، جنہیں "عَصَبہ" کہا جاتا ہے۔ لہذامسئولہ صورت میں حق پرورش تو سات سال تک ماں کے پاس ہے، البتہ اگروالد بچے سے ملنا چاہیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ مناسب وقفے سے بچے سے ملاقات کروائیں اور اس سے نہ روکیں ۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (4/ 42):
وأما وقت الحضانة التي من قبل النساء فالأم والجدتان أحق بالغلام حتى يستغني عنهن فيأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده كذا ذكر في ظاهر الرواية، وذكر أبو داود بن رشيد عن محمد ويتوضأ وحده يريد به الاستنجاء أي ويستنجي وحده ولم يقدر في ذلك تقديرا وذكر الخصاف سبع سنين أو ثمان سنين أو نحو ذلك.وأما الجارية فهي أحق بها حتى تحيض كذا ذكر في ظاهر الرواية وحكى هشام عن محمد حتى تبلغ أو تشتهي.
شرح مختصر الطحاوي» للجصاص (5/ 327):
قال: وإذا استغنى الغلام أو الجارية، وخرجا من الحضانة: فالأب أحق بهما بغير تخيير للغلام والجارية؛وذلك لأنه لا قول لهما في حال الصغر، واختيارهما كلا اختيار، ألا ترى أنهما لا قول لهما في سائر الأحكام، فكذلك في اختيار أحد الأبوين.
ترتيب الأحق بالحضانة ،قال أبو جعفر: ثم الجدة التي من قبل الأم، ثم الجدة من قبل الأب، ثم الأخت من الأب والأم، ثم الأخت من قبل الأم، ثم الخالة، ثم الأخت من الأب، ثم العمة.قال أبو بكر: وروى بشر بن الوليد عن أبي يوسف عن أبي حنيفة: أن الأخت من الأب أولى من الخالة، وهو أيضًا قول زفر.ووجهه: أنها أقرب إلى الصبي من الخالة.والأصل في هذه المسائل: أن الأم لما كانت أولى بولاية الحضانة من الأب، وجب أن يكون من كان جهة الأم أقرب إلى الصبي، فهو أولى بالولاية منه، فكانت الجدة من قبل الأم أولى من الجدة من قبل الأب، لأن لها ولادًا من جهة الأم، فكانت أولى. وقال النبي الله عليه وسلم للأم: "أنت أحق به ما لم تزوجي"، يعني: بالولد الصغير.
محمد ابرہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
23 /محرم الحرام /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


