| 88119 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
ایک صاحب کوذہنی مرض لاحق ہوگیا ہے اور اس کا علاج ماہر نفسیات ڈاکٹر وقار سے چل رہا ہے ،یہ مرض گذشتہ 8 ماہ قبل ہوگیا تھا،ڈاکٹر (ماہر نفسیات)کی دواؤں سے بہتر ہوگیا تھا،اس اثناء میں اس کی بیوی 8 ماہ قبل اپنی والدہ کو بلا کر اپنے میکے چلی گئی ،اس صاحب نےطبیعت بہتر ہونے پر ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا کھانا چھوٕڑ دی ،جبکہ ڈاکٹر نے سختی سے کہا تھا کہ دوا مت چھوڑنا،اب اس کی کنڈیشن یہ ہے کہ پل میں تولہ اور پل میں ماشہ،نرم اتنا ہوجاتا ہے کہ پاؤں دبانے لگ جاتا ہے اور کبھی اتنا غصے میں آجاتا ہے ماں باپ کو بھی گالیاں دینا شروع کردیتا ہے،ماہر نفسیا ت ڈاکٹر نے کہا کہ دواؤں سے 60فیصد مریض ریکور کرلیے،اور 40 فیصد بہکی بہکی باتیں کرے ہیں،وسوسے آتے ہیں،الہامی آوازیں آتی ہیں،تین دن قبل ان صاحب کو وسوسہ آیا یا الہامی حکم ملا تو اس سے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دی کہ میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیتا ہوں ،اور میرے سسرال والوں کو کہہ دیں کہ اپنا سامان اٹھا کرلے جائیں،آج یہ صاحب کہ رہے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہی نہیں،وہ میری بیوی ہے،ماہر نفسیات ڈاکٹر نے اس کی بیماری شزوفیمیا بتائی ہے ،اب اس کا شرعی مسئلہ کیا کہ آیا کہ ان صاحب کی بیوی ان کے نکاح میں ہے یا طلاق ہوگئی ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر واقعتا طلاق کے جملے بولتے وقت اس کے ہوش و حواس قائم نہ تھے اور اپنے اقوال و افعال کے نتیجے کا ادراک نہیں تھا کہ جو الفاظ وہ بول رہاہے اس کا نتیجہ کیا ہوگا اوراس کا اس کیفیت سے دوچار ہونا لوگوں میں مشہور ہے اور وہ حلفیہ بیان دے کہ طلاق کے الفاظ بولتے وقت اس پر یہی کیفیت طاری تھی یا اگر یہ کیفیت لوگوں میں معروف نہ ہو مگردو معتبر مرد یا ایک معتبر مرد اور دو عورتیں یہ شہادت دیں کہ بوقت طلاق اس پر یہ کیفیت
طاری تھی تو بھی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔
لیکن اگر طلاق کے جملے بولتے وقت اس کی کیفیت ایسی تھی کہ اسےاس بات کا ادراک تھا کہ بیوی سے مخاطب ہوکر اسے طلاق دے رہاہے اور طلاق پر مرتب ہونے والے نتیجے کا بھی اسے احساس تھا تو پھر مذکورہ صورت میں اس کیفیت میں دی گئی تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،اور بیوی حرام ہوچکی ہے۔
حوالہ جات
" رد المحتار" (3/ 244):
"وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان. اهـ".
"العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية "(1/ 38):
"(سئل) في رجل حصل له دهش زال به عقله وصار لا شعور له لأمر عرض له من ذهاب ماله وقتل ابن خاله فقال في هذه الحالة يا رب أنت تشهد على أني طلقت فلانة بنت فلان يعني زوجته المخصوصة بالثلاث على أربع مذاهب المسلمين كلما حلت تحرم فهل لا يقع طلاقه؟
(الجواب) : الدهش هو ذهاب العقل من ذهل أو وله وقد صرح في التنوير والتتارخانية وغيرهما بعدم وقوع طلاق المدهوش فعلى هذا حيث حصل للرجل دهش زال به عقله وصار لا شعور له لا يقع طلاقه والقول قوله بيمينه إن عرف منه الدهش وإن لم يعرف منه لا يقبل قوله قضاء إلا ببينة كما صرح بذلك علماء الحنفية رحمهم الله تعالى".۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
23/ محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


