| 88143 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
فقہی حنفی کی کتابوں میں امامت کا اہل کون ہے؟ اس کے تحت یہ مسائل آئے ہیں کہ امام وہ بنے جس کی بیوی خوبصورت ہو ۔ ایک جگہ ہے امام وہ بنے جس کا سر بڑا اور عضو چھوٹا ہو ، حاشیہ الطحطاوی میں عضو کی تفصیل" ذکر" سے کی ہے، کیا ایسی باتیں مناسب ہیں؟ اگر درست ہيں، تو ہم( ایسی رازداری کی چیزوں کا) کیسے پتہ لگائیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح ہو کہ مذکورہ بالا امور امامت کے شرائط میں سے نہیں،شرط وہ ہوتی ہے جس کے نہ ہونے سے نماز بھی نہ ہو،یہ صفات کا بیان ہے کہ مختلف لوگوں میں جب شرائط برابری کے طور پر موجود ہوں، تو اس ذریعے سے کسی ایک کو ترجیح دی جائے،اگر یہ نہ بھی کیا جائے تو بھی نماز ہوجاتی ہے ۔
جہاں تک ایسی صفات کی بات ہے تو فقہاء کرام نے امام کے لئے مختلف اوصاف متعین کئے ہیں ، جن میں سے کچھ صفات ایسی ہیں جن پر تمام فقہاء متفق ہیں ،کچھ صفات میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے اور کچھ ایسی ہیں جو بالکل شاذ آراء ہیں۔
سب سے پہلے فقہاء کرام کے نزدیک امام کی متفق علیہ صفات بیان کی جاتی ہیں :
جو مندرجہ ذیل صفات میں بالترتیب جتنا کامل ہو گا وہ امامت کا اتنا زیادہ حقدار ہو گا؛
۱۔سب سے زیادہ حقدار وہ ہے جو سنت کو زیادہ جاننے والا ہو۔
۲۔ اس کے بعد جو قرآن زیادہ اچھا پڑھنے والا ہو۔
۳۔ اس کے بعد جو سب سے زیادہ گناہوں اور شبہات سے پرہیز کرنے والا ہو۔
۴۔اس کے بعد جو عمر میں سب سے بڑا ہو ،وہ امامت کا زیادہ حقدار ہو گا۔
جب مذکورہ بالاتمام صفات میں لوگ برابر ہوں تو بعض فقہاء کرام نے چند مزید صفات ذکر کی جو متفق علیہ نہیں ، یعنی بعض فقہاء نے ان کو ذکر کیا ، بعض نے ذکر نہیں کیا :
۱۔اس کے بعد ایسا شخص امامت کا زیادہ مستحق ہو گا،جو سیرت واخلاق کے لحاظ سے بہتر ہو۔
۲۔اس کے بعد ایسے شخص کو امام بنایا جائے جو شکل و صورت کے لحاظ سے بہتر ہو۔
۳۔اس کے بعد ایسے شخص کو امام بنایا جائے جو حسب و نسب میں بہتر ہو۔
جب مذکورہ بالا صفات میں بھی لوگ برابر ہو ں ،تو اس صورت میں "فتاوی ہندیۃ "اور " درر الحکام " کے مطابق لوگوں کو اختیا ر ہے کہ جس کو بہتر سمجھیں ،اس کو اپنا امام مقرر کر لیں۔
تاہم حنفیہ کی چند دیگر کتب مثلاً "حاشیۃ الطحطاوی " اور "البحر الرائق " وغیرہ میں چند دیگر صفات بھی ذکر کی گئی ہیں،جبکہ جمہور نے ان صفات کا تذکرہ نہیں کیا :
ا۔مذکورہ بالا امور میں بھی لوگ برابر ہوں ،تو پھر دیکھیں گے کہ جس کی آواز زیادہ اچھی ہو وہ امامت کا زیادہ مستحق ہے۔
۲۔آواز میں بھی سب برابر ہوں جو جس کا لباس زیادہ صاف ستھرا ہو ،وہ امامت کا زیادہ حقدار ہے۔
۳۔اس کے بعد جس کی بیوی زیادہ خوبصورت ہو گی ،وہ امامت کا زیادہ مستحق ہوگا۔
۴۔ اس کے بعد جس کا سر بڑا اور باقی اعضاء چھوٹے(متناسب) ہوں وہ امامت کا زیادہ مستحق ہو گا۔
۵۔اگر اس میں بھی برابر ہوں تو جو زیادہ مالدار ہوگاوہ امامت کا زیادہ مستحق ہوگا۔
جہاں تک آخری پانچ صفات کی بات ہے تو پہلی بات یہ ہے کہ یہ فقہاء کرام کی متفق علیہ آراء نہیں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ انتہائی شاذ ونادر ہے کہ کئی ایسا موقع آجائے ، کیونکہ اس سے قبل جمہور کی ذکر کردہ سات صفات موجود ہیں ،اگر بالفرض اس کی نوبت آ بھی جائے ، تو یہ بات کہ امام کی بیوی کیسے معلوم کی جائے، تو ہمسایہ اور رشتہ دار لوگوں کو اپنی عورتوں کے ذریعے معلوم ہو جاتا ہے،جیسا کہ کوئی آدمی نکاح کرتا ہے تو لڑکی کی حالت اپنی عورتوں سے معلوم کرتا ہے۔
جہاں تک الدرالمختار کی عبارت " ثم الاكبر رأسا والاصغر عضوا" کی بات ہے تو اس کی تفصیل علامہ شامی رحمہ اللہ نے یہ کی ہے کہ عقل کے لحاظ سے بہتر ہو اور جسمانی اعضاء باہم متناسب ہوں،حاشیۃ الطحطاوی میں "عضو " کی تفصیل "ذکر" سے کرنے کو راجح نہیں قرار دیا گیا ،علامہ شامی رحمہ اللہ نے "رد المحتار "میں اس معنی کی تردید کی ہے۔
یہ بات بھی واضح رہے کہ آج کل مساجد میں امام باقاعدہ مقرر کیے جاتے ہیں، لہٰذا پہلے سے مقرر شدہ امام ہی نماز پڑھانے کا زیادہ حق دار ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار(ص76):
(والاحق بالامامة) تقديما بل نصبا.مجمع الانهر (الاعلم بأحكام الصلاة) فقط صحةوفسادا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة، وحفظه قدر فرض، وقيل واجب، وقيل سنة (ثم الاحسن تلاوة) وتجويدا (للقراءة، ثم الاورع) أي الاكثر اتقاء للشبهات.
والتقوى: اتقاء المحرمات (ثم الاسن) أي الاقدم إسلاما، فيقدم شاب على شيخ أسلم، وقالوا: يقدم الاقدم ورعا، وفي النهر عن الزاد: وعليه يقاس سائر الخصال، فيقال يقدم أقدمهم علما ونحوه، وحينئذ فقلما يحتاج للقرعة (ثم الاحسن خلقا) بالضم ألفة بالناس (ثم الاحسن وجها) أي أكثرهم تهجدا، زاد في الزاد: ثم أصبحهم: أي أسمحهم وجها،
ثم أكثرهم حسبا (ثم الاشرف نسبا) زاد في البرهان: ثم الاحسن صوتا، وفي الاشباه قبيل ثمن المثل، ثم الاحسن زوجة، ثم الاكثر مالا، ثم الاكثر جاها، ثم الانظف ثوبا، ثم الاكبر رأسا والاصغر عضوا، ثم المقيم على المسافر.
حاشية ابن عابدين (1/ 558):
(قوله ثم الأكبر رأسا إلخ) لأنه يدل على كبر العقل يعني مع مناسبة الأعضاء له، وإلا فلو فحش الرأس كبرا والأعضاء صغرا كان دلالة على اختلال تركيب مزاجه المستلزم لعدم اعتدال عقله اهـ ح. وفي حاشية أبي السعود؛ وقد نقل عن بعضهم في هذا المقام ما لا يليق أن يذكر فضلا عن أن يكتب اهـ وكأنه يشير إلى ما قيل أن المراد بالعضو الذكر۔
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص301):
وأصغرهم عضوا" فسره بعض المشايخ بالأصغر ذكرا لأن كبره الفاحش يدل غالبا على دناءة الأصل ويحرر ومثل ذلك لا يعلم غالبا إلا بالاطلاع أو الأخبار وهو نادر۔
البناية شرح الهداية (2/ 332):
فإن تساووا فأحسنهم وجها؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: من كثرت صلاته بالليل حسن وجهه بالنهار.
حاشية ابن عابدين (1/ 559):
(و) اعلم أن (صاحب البيت) ومثله إمام المسجد الراتب (أولى بالإمامة من غيره) مطلقا.
(قوله مطلقا) أي وإن كان غيره من الحاضرين من هو أعلم وأقرأ منه.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
20/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


