| 88163 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کچھ کمپنیاں مارکیٹنگ کا کام کرتی ہیں، پہلے کچھ رقم ایڈوانس جمع کروانی ہوتی ہیں اور پھر ممبر بنانے کے پوائنٹس ملتے ہیں ،جب مطلوبہ پوائنٹ پورے ہو جاتے ہیں تو پھرتنخواہ /Sellery ملنا شروع ہو جاتی ہے۔کیا ایسی کمپنی جوائن کرنا درست ہے؟
وضاحت:سائل نے استفسار پرکمپنی کے لوگو/ Logo، ٹوئٹر لنک اور فیس بک لنک پر مشتمل Forwarded Massage بھیجا،جس میں آور ایلیٹ ہیلتھ نامی کمپنی کوایف بی آر اور ایس ای سی پی سے رجسٹرڈ ہونے کے علاوہ پاکستان میں تین سال سے کام کرتے ہوئے خواتین کے لیے کمائی کا بہترین پلیٹ فارم ظاہر کیا گیاہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے وضاحت کی کہ ایک خاتون نے تین سو روپے فیس دے کر اس کمپنی کو جوائن کیا ،کیونکہ کمپنی کی طرف سے اس کی رکنیت اختیار کرنے کے لیے ایڈوانس رقم جمع کروانے کے مختلف پیکجز ہوتے ہیں،جن کے مطابق پھر کم یازیادہ کمیشن ملتا ہے،اورکمپنی مالک کے بقول یہ ایڈوانس جوائننگ فیس مختلف ٹریننگزاور ورکشاپس کروانے کے عوض لی جاتی ہے ۔ ایڈوانس فیس جمع کرنے کے بعد دو دن ٹریننگ کے طور پر کلاس ہوئی جس میں کمپنی اور اس کے چار ڈپارٹمنٹ کا تعارف کروایا گیا، وقت کی اہمیت کے حوالے سے ایک پینٹنگ بنانے والے کی کہانی سنائی گئی ،نیز ایک کتاب اور اس کے مصنف کا نام بتایا گیا۔ پھر دودن کی کلاس کے حوالے سے انٹرویو ہوا اور یہ پوچھا گیا کہ آپ یہ کام کیوں کرنا چاہتی ہیں؟ انٹرویو میں پاس ہو نے کے بعد انہیں کہا گیا کہ آپ نے اب فیس دے کر اکاؤنٹ اوپن کروانا ہے،اس کے لیے انہوں نے چھ ہزار روپے فیس دی جس پر انہیں چالیس پوائنٹ ملے۔
اس خاتون کو ان کی کزن نے ممبربنایاجنہوں نے خود پندرہ سوروپے فیس دینے کے بعد چھ ہزار روپے سے کام شروع کیا تھا،جب ان کی کزن نے انہیں ورکشاپ کے لیے تیار کیا تو ان کی پانچ سوروپے فیس سے آدھی رقم ان کی کزن کو ملی اور باقی رقم کمپنی کے اکاؤنٹ میں جمع کی گئی،جبکہ اِن کے اکاؤنٹ کھلوانے پر چھ ہزار میں سے دوہزار ان کی کزن کو ملے اور باقی چار ہزارکمپنی کو جمع کیے گئے۔انٹرویو کے بعد مزید تین کلاسز ہوئی ہیں جس میں کام کو آگے لے کر چلنے اور نئے ممبربنانے کا طریقہ سکھایا گیا،نیز ہر کلاس میں دین کے بارے میں خصوصا نماز پڑھنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے۔ابھی تک ان خاتون کو کوئی تنخواہ یا کمیشن نہیں ملا، بلکہ جب یہ نئے ممبر لائیں گی تو اُن کی فیس سے اور اُن ممبرز کےممبرز کی فیس سےان کو کچھ کمیشن ملےگا،جبکہ دیگرمختلف سرگرمیوں مثلاً مخصوص سیل یا خریداری پر ، تربیت یا سسٹم میں حصہ لینے پر اور کسی ہدف کے مکمل کرنے پر جو پوائنٹس ملتے ہیں جن کے ذریعے ایک خاص اسکیل پورا ہونے پر الگ سے بونس ملے گا۔
نیز سائل نے important voice note by company owner sir Umair Younasکے عنوان کے ساتھ چودہ منٹ کا طویل Forwarded Massageبھی بھیجا،جس میں کمپنی کے مالک نئے ممبرز کے شکوک کودور کرنے کے لیے کمپنی کے نظام پر گفتگو کرتے ہیں۔ اس گفتگو میں پہلے وہ لوگوں کوکمپنی کی حرام کمائی کا کہہ کر اس سے منع کیے جانے پرحرام کا مطلب اپنی طرف سے بتاتے ہیں،پھرکمپنی کے پیسہ کماکرکمیشن دینے کے طریقۂ کار کو درست ثابت کرنے کے لیے سکول اور یونیورسٹی فیس کاحوالہ دیتے ہیں کہ اگرچہ وہاں طالب علم ناکام ہوجاتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ فیس واپس نہیں کی جاتی اور یہ فیس وہاں کے اساتذہ ، چوکیدار اوران کے ہیڈنگران کے درمیان تقسیم ہوتی ہے،اسے کوئی رشوت بھی نہیں کہتا،جبکہ ہم یہاں کام کی ترغیب دیتے ہیں، کام سکھاتے ہیں ، ساتھ ساتھ دین کی دعوت بھی دیتے ہیں اور جو فیس لیتے ہیں وہ فیصدی اعتبار سےچھوٹے سے بڑے ممبرزمیں تقسیم کی جاتی ہے۔اسی طرح دوسری مثال یہ دیتے ہیں کہ کسی ریسٹورنٹ وغیرہ سے آپ کوئی چیز خریدکر اس کے بدلےمیں پیسے دیتے ہیں تو یہاں کمپنی بھی آپ کو اکاؤنٹ اور پوائنٹس دیتی ہےاور اس کے آپ نے پیسے دینے ہوتے ہیں۔اکاؤنٹ میں آپ کی ماہانہ آمدن بھیجی جاتی ہےاور پوائنٹس کی بنیاد پر آپ کام کررہے ہوتے ہیں،لہذایہاں سکھانے،چیزیں دینے اور ان کی آگے فروخت سے کمائی حاصل کرنے پر یہ پیسے لیے جاتے ہیں تو یہ حرام نہیں ہوتے۔
پھریہ بتاتے ہیں کہ ہمارے موٹیویشنل اسپیکرز کی آمدن کا نظام یہ ہے کہ وہ دن رات محنت کرکے رہنمائی فراہم کرتے ہیں اورپھر مہینے کے بعد ان کو نتخواہ ملتی ہے،اس طرح یہ رقم مختلف جگہوں پر تقسیم کرنےاور نیٹ بل کی ادائیگی کےبعد کمپنی کے پاس ایک فیصد باقی بچ جاتی ہے،یعنی میرے پاس ٹوٹل چار سو روپےبچتے ہیں اوراس سے میں پراپرٹی کا کام کرتا ہوں،جبکہ اس رقم کا استعمال میراذاتی معاملہ ہےاور مجھے آپ کو اس کا بتانا ضروری نہیں ہے،کیونکہ ہر شخص نے خود ہی اپنے معاملات کا اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے۔مزیدکہتے ہیں کہ ہم اس کاروبار میں لوگوں کو دھوکہ دہی یاغلط رہنمائی کے بجائے صحیح کام سکھاتے ہیں اور دین کی باتیں بھی بتاتے ہیں، لیکن پھر بھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ دھوکہ دیتے ہیں تو یہ ہمارے لوگوں کی غلط اور گھٹیاسوچ ہے،انہیں مثبت سوچنا چاہیے۔ کامیابی اور ناکامی انسان کے ہاتھ میں ہوتی ہے،انسان چاہے تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے، میں نے بھی محنت کی اورلوگوں کی باتیں سنی ہیں، لیکن مثبت سوچ سے کام کرتے ہوئے ترقی کی،ورنہ دیکھاجائے تو جتنے بھی کام ہورہے ہیں ہر جگہ رشوت ہے۔کوئی بھی ایسا ادارہ نہیں جہاں رشوت نہ لی جاتی ہو،پھر وہی پیسہ ہم سب لوگوں میں تقسیم ہوتا ہے تو اس طرح سب ہی حرام کما رہے ہیں،جبکہ یہاں اگر آپ چھوٹی سی رقم چرچ کرکے زیادہ کما رہے ہیں تو کیا ہماری یہ سوچ غلط ہے؟
ان کے بقول پاکستان میں آپ نے کوئی بھی کام کروانا ہو،جیسے لائسینس بنوانا ہویا زمین اپنے نام کروانی ہوتو اس کے لیے آپ کو پیسہ دینا پڑتا ہے،یہاں تک کہ مولوی بھی پیسہ دیتا ہےاورہم کہاں کی سوچ لے کر بیٹھے ہیں؟ ہرکام اور ہر چیز میں دونمبری ہےمگر اس پر سوال نہیں کرتے ،اپنے ہاتھ سے جو رشوت دیتے ہیں وہ انہیں نظر نہیں آتی اور ہمارے کام کو حرام بنادیتے ہیں۔میں نے خود عالم دین جوفتوے دے رہے ہوتے ہیں انہیں رشوت دیتے ہوئے دیکھا ہے،میں کسی کی برائی بیان نہیں کررہابلکہ جو چیز ہورہی ہے وہ آپ کو بتا رہا ہوں،آپ ہمیشہ اپنے ذہن کو مثبت رکھ کر چلا کریں ان شاء اللہ سب بہتر ہوتا ہے۔آخر میں کہتے ہیں کہ سب کچھ واضح کردیا ہے لیکن پھر بھی آپ کو سمجھ نہیں آتی تو آپ کو کوئی نہیں سمجھا سکتا،آپ نے سب سے پہلے نماز پڑھنی ہے ،دین کی طرف چلنا ہےاور اپنے آپ کو بہتر کرنا ہے، پھر اس کا م کو مثبت ذہن سے دیکھیں کہ آپ کاروبار سکھانے کے لیے لوگوں کو لائیں ، یہاں سکول کے بچوں کی طرح جو خود محنت نہیں کرتے وہ نہیں سیکھتے ،اور پھر کمپنی کو تنقید کرتے ہیں۔ یونیورسٹی اور کالجوں میں تو بے حیائی اور ڈانس سکھایا جاتا ہے،جبکہ یہاں آپ کی زندگی کو بدلا جارہا ہے،لہذا ہمیشہ وہ کام کیا کریں جو آپ کو اچھا لگے۔یہ سسٹم ٹھیک ہے مگر سسٹم کو بدنام کرنے والے لوگ زیادہ ہوتے ہیں، جواپنے کام کو اچھا ثابت کرنے کے لیے آپ کے ذہن میں سوالات ڈال کر آپ کو پریشان کر دیتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کسی مارکیٹنگ کمپنی کے کمیشن دے کر اپنے ممبر بڑھانے کو نیٹ ورک مارکیٹنگ یا ملٹی لیول مارکیٹنگ کہا جاتا ہے۔ اس کی نمایاں خصوصیت مختلف ممبرشپ پلانز اور درجہ بندیوں کے ذریعے صارفین کو ممبر شپ دے کر مزید ممبر سازی ہے،جس کے لیے برائے نام ٹریننگ پر فیس یا چندمصنوعات کے بدلے قیمت لے کر کمپنی کی رکنیت دی جاتی ہے، اور پھر ان ممبرز کے ذریعےآگے مزیدممبر سازی کر کے کمیشن در کمیشن کمائی کا ایک سلسلہ اور جال/ Networkتشکیل دیا جاتا ہے۔اس کمپنی سے متعلق آپ کے فراہم کردہ ٹوئٹر لنک میں About OEH: Your Ultimate Planning Hub کے عنوان کے تحت اس کمپنی کو خریدوفروخت کا ایک ہمہ جہت اور متحرک آن لائن پلیٹ فارم بتایا گیا ہے،جہاں وہ ایک معروف ملٹی وینڈر ای کامرس اسٹورکے طور پر مختلف مصنوعات اور خدمات کی وسیع رینج مہیا کرتے ہیں ،جبکہ اس کمپنی کے ویب سائٹ لنک ourelitehealth.com.pk پر دی گئی معلومات کے مطابق یہ کمپنی خود کو بزنس کوچنگ، نیٹ ورکنگ اور مالی آزادی کے مواقع فراہم کرنے کا پلیٹ فارم ظاہر کرتی ہے۔ یہ پلیٹ فارم مختلف ممبرشپ پلانز اور درجہ بندیوں کے ذریعے صارفین کو شامل کرتا ہے، جن میں "بزنس ممبر"، "سلور ممبر"اور "گولڈ ممبر" وغیرہ شامل ہیں۔اس ویب سائٹ پر Winning work Methodکے تحت نیٹ ورکنگ /Networking، موٹیویشنل اسپیکر / Motivational Speaker اور انوائٹیٹر /Invitator کا طریقہ اپنایا گیا ہے،یعنی اس نظام کو ایک جال کی طرح استعمال کیا جائے کہ آپ اس میں بطور موٹیویشنل اسپیکر اور ٹرینر کام کرتے ہوئے نیچے موجود نیٹ ورک کی رہنمائی کریں گے، اور نئے آنے والے ممبران اور نظام کے درمیان ایک رابطہ کا کردار ادا کریں گے۔آپ ان کا نظام سے تعارف کرواکر ان کی شمولیت کو یقینی بنائیں گے، اور ان کی تربیت کے شیڈول کا انتظام بھی آپ ہی کریں گے۔
اس تمہید کے بعد ایسی نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنی کے حوالے سے شرعی حکم کی تفصیل یہ کہ لوگ ایسی کمپنی کے ممبر بن کرآگے ممبرسازی پر کمیشن حاصل کرنے کے لیے مجبورا اس کی مصنوعات یا ٹریننگ کے بدلے جوقیمت اورفیس اداکرتے ہیں اور پھرکمپنی کے ساتھ اکاؤنٹ کھلوانے کے نام پربھی مزید فیس دیتے ہیں، یہ شرعی لحاظ سے رشوت کے زمرے میں آتی ہے،کیونکہ یہ کمیشن کے اصل معاملہ میں ایک ممبر کے داخل ہونے پر اس سے مختلف ناموں کے ساتھ ایک اضافی رقم کے طور پر لی جاتی ہے۔پھر ایسی کمپنی کے ممبرشپ پلانز اور درجہ بندیوں کے مطابق دی جانے والی مصنوعات اور ٹریننگز بذاتِ خود مقصود بھی نہیں ہوتیں، بلکہ ان کے ذریعے ممبرشپ دے کر مزید ممبر سازی کرنا اوراس پر کمیشن در کمیشن پیسہ کمانا اصل مقصد ہوتا ہے،اس لیے باقاعدہ کسی ایسی کمپنی کے تحت بلا کسی معتبر ضرورت کے اس طرح سے ایک مجہول اور غیریقینی معاملے کے لیے صارفین کا فیس یاقیمت کے نام پر اپنی رقم کو داؤ پر لگانا جوئے کی ایک نئی شکل ہے۔
نیٹ ورک مارکیٹنگ میں شرعی اعتبار سے رشوت اور جوے کے علاوہ صفقہ فی صفقہ یعنی ایک معاملے کو دوسرے معالے کے ساتھ مشروط کرنا،ربح مالم یضمن یعنی سرمایہ لگانےیا عمل کرنے یا ضمان وذمہ داری اٹھانےکے بغیر نفع کمانا،غرر اور جہالت جیسی خرابیاں بھی پائی جاتی ہیں،جیسے کہ مذکورہ صورت میں ایڈوانس رقم جمع کرکے کمپنی کےممبر بننے کے ساتھ مزیدمخصوص تعداد میں ممبر بنانے کو مشروط کیا گیا ہے،آپ کے فراہم کیے گئے ممبرز کے مزید ممبر بنانے پر ان کا کمیشن آپ کو ملنا ربح مالم یضمن ہے،جبکہ مخصوص مقدار میں مزید ممبر بنانے کے رینک میں کامیابی اور ناکامی کی صورت میں بونس ملنے نہ ملنے اور کم ممبر بنانے پر اصل ممبر کے کمیشن میں غرراور جہالت پائی جاتی ہے، لہذا آور ایلیٹ ہیلتھ نامی کمپنی یا اس ماڈل اور طریقے پر کام کرنے والی کسی دوسری مارکیٹنگ کمپنی میں شریک ہونااور اس کے ذریعے مزیدممبر سازی پر کمیشن لینا ناجائز ہے۔نیز کمپنیوں کے نگران حکومتی ادارے SECP کی طرف سے بھی اس طرح کی سوشل میڈیا اورواٹس ایپ گروپس کے ذریعے چلنے والی سرمایہ کاری تربیتی اسکیموں کے خلاف خبردار کیا گیا جو کہ معروف شخصیات یا کمپنیوں کا نام اورجعلی سرٹیفیکیٹ استعمال کر کے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔
آپ کے مالکِ کمپنی کی طویل گفتگو پر مشتمل بھیجے گئے Forwarded Massageسے معلوم ہوتا کہ وہ خود ہی چند بنیادی غلط فہمیوں کا شکار ہیں، اوران کی بنیاد پر جان بوجھ کر یا انجانے میں وہ عوام خصوصا کمپنی سے منسلک خواتین کومغالطے میں ڈال رہے ہیں،لہذا ان کی اس گفتگوپر ہرگزاعتماد نہ کیا جائے۔کسی عمل یا کاروبار کے شرعی طور پرجائزاور قابلِ قبول ہونے کے لیےایمان کے بعد اس کے سرانجام دینے والے کی نیت و جذبہ کا درست ہونا اور مثبت ذہن سے کام کرنا کافی نہیں ہے ، بلکہ اس کام کا طریقہ شرعی اصولوں کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے،اور اس کا تعلق صرف نماز اور روزہ وغیرہ چند عبادات کے ساتھ نہیں بلکہ زندگی کے تمام اعمال اور کاروباری معاملات سے بھی ہے،جس کے لیے حلال وحرام کے بنیادی علم کے ساتھ ساتھ جوکام باقاعدہ کاروبار کے طور پر کرنا ہوتواس میں علماءِ کرام سے شرعی رہنمائی لینا ضروری ہے،لہذا کمپنی کے مالک صاحب کا دینی علم حاصل کیے بغیر خود ہی غلط طور پر اپنے کاروبار کو چند مثالوں سے درست قراردینا، معاشرے میں کیے جانے والے کاموں کو ازخود حرام یا رشوت کہنا اور اپنے غلط کاروبار کے ساتھ ساتھ خود سے دینی مسائل کی رہنمائی کرتے ہوئے لوگوں کو اس میں شریک کرنا خطرناک اقدام ہے۔ نماز اداکرنے کے ساتھ لوگوں کی بھلائی کے لیے صرف مثبت ذہن سے کوئی کاروبار کرنے سے وہ کاروبار شریعت کے مطابق نہیں بن جاتا،لہذا انہیں چاہیے کہ وہ اپنے اس فعل سے توبہ کرتے ہوئے مستند علماء کرام سے اپنے کاروبار ی ماڈل کا درست متبادل معلوم کرکے اس کے مطابق کام کریں،اور دین کی طرف عمومی دعوت کے علاوہ خود سے شرعی مسائل بتانے سے احتراز کریں ۔
حوالہ جات
أحكام القرآن للجصاص ط العلمية (1/ 398)
قال الله تعالى: {يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير} قال أبو بكر: دلالته على تحريم الميسر كهي على ما تقدم من بيانه. ..وقال ابن عباس وقتادة ومعاوية بن صالح وعطاء وطاوس ومجاهد: الميسر القمار...وروى حماد بن سلمة عن قتادة عن حلاس أن رجلا قال لرجل: إن أكلت كذا وكذا بيضة فلك كذا وكذا، فارتفعا إلى علي فقال: هذا قمار، ولم يجزه.ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار.
مسند أحمد مخرجا (6/ 324)
حدثنا حسن، وأبو النضر، وأسود بن عامر، قالوا: حدثنا شريك، عن سماك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صفقتين في صفقة واحدة .
فقه البیوع ط مکتبۃ معارف القرآن کراتشی (273/1)
من المقرر أن العاقد لايجوز له أن يطالب العاقد الآخر عوضاعن مجرد دخوله في العقد علاوةًعلي مايستحقه بالعقد؛فإنه رشوة.
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 203)
نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن صفقتين في صفقة، ونهى عن بيع وشرط ،(و)عن شرطين في بيع، وعن بيع وسلف، وعن ربح ما لم يضمن ،وعن بيع ما لم يقبض، وعن بيع ما ليس عند الإنسان...وأما ربح ما لم يضمن فهو أن يشتري عبدا فيوهب له هبة قبل القبض، أو اكتسب كسبا قبل القبض من جنس الثمن أو من خلافه، فقبض العبد مع هذه الزوائد لا يطيب له الزوائد؛ لأنه ربح ما لم يضمن.
About OEH: Your Ultimate Planning Hub, At OEH, we are dedicated to providing a dynamic platform where sellers and buyers connect in a versatile, multipurpose environment.
At OurEliteHealth, we believe success is built on connections, collaboration, and growth. Our platform is designed to bring professionals together, empowering individuals to turn their ambitions into achievements...Winning work Method: Networking, Motivational Speaker, Invitator. Networking means net & work means work; you Should use this department like a net...Work as motivational speaker & as a trainer in our system...You would act as a connection between the incoming members and introduce them to the system. Ensure the joining process of their system. U would manage their training schedule Also.
Islamabad, September 3: The Securities and Exchange Commission of Pakistan (SECP) has issued a public alert regarding the increasing number of fraudulent social media and WhatsApp groups that are operating under the guise of investment training courses. These groups are impersonating well-known local and international business personalities or reputable international financial companies to deceive the public.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
24 /محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


