| 88114 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
اگر کسی زمین پر مالک کے علاوہ کسی دوسرے شخص نے وہ زمین اجارے پر لے کر پھلوں کے درخت اور فصلیں اگائی ہوں، اور پھر وہ زمین فروخت ہو جائے، اور نیا مالک یہ چاہتا ہو کہ درخت وغیرہ بھی اس کی ملکیت میں شامل ہوں، کیونکہ ہمارے ہاں عموماً زمین کی فروخت کے ساتھ درخت بھی فروخت ہو جاتے ہیں، لیکن یہاں درختوں کا مالک ایک تیسرا شخص ہے۔تو ایسی صورت میں درخت وغیرہ کی قیمت کس پر لازم ہوگی؟کیا یہ قیمت پرانے مالک (جو بائع ہے) پر ہوگی یا نئے مالک (جو مشتری ہے) پر؟جبکہ نیا مالک قیمت مکمل ادا کر چکا ہے اس یقین کے ساتھ کہ درخت بھی زمین کے ساتھ شامل ہیں۔
سائل نے زبانی طور پر بتایا کہ وقتِ فروخت بائع اور مشتری دونوں کو معلوم تھا کہ درخت تیسرے فریق کی ملکیت ہیں، اور زمین بیچنے والے (مُؤجِر) نے زمین مجبوری کی وجہ سے فروخت کی۔ عقد کے وقت درخت شامل ہونے کی کوئی تصریح نہیں کی گئی تھی۔ یہ بھی وضاحت کی گئی کہ مستأجر کو بھی بیع کے بارے میں علم تھا اور اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اجارے کے لیے مدت متعین ہوئی تھی یا نہیں، اس بارے میں علم نہیں۔ بظاہر وہ بنجر زمین تھی اور اس کی مدت متعین نہیں کی گئی تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
درخت زمین کی بیع میں اس وقت شامل ہوتے ہیں جب وہ زمین کے مالک کی ملکیت میں ہوں۔ جبکہ مسئولہ صورت میں زمین کا مالک درختوں کا مالک نہیں ہے، مستأجر (اجارہ دار)اس کاملک ہیں،اور یہ بات بوقتِ معاملہ دونوں فریق (بائع و مشتری) کو معلوم بھی تھی، جیسا کہ سوال میں تصریح ہے۔ لہٰذا شرعاً یہ درخت بیع میں شامل نہیں ہیں اور ان کی ملکیت بدستور مستأجر کے پاس ہے۔پس، بائع و مشتری میں سے جو بھی ان درختوں کو خریدنا چاہے گا، وہی مستأجر کو راضی کر کے ان کی قیمت ادا کرے گا۔اور اگر کوئی خریدنے پر آمادہ نہ ہو، یا درختوں کا مالک (مستأجر) فروخت پر راضی نہ ہو، تو پھر وہ ان درختوں کو کاٹ کر زمین خالی کرے گا اور نئے مالک کے سپرد کرے گا(لأنه ليس له نهاية معلومة فيقلع)۔ ہاں، اگر نیا مالک مفت میں اپنی زمین میں یہ درخت چھوڑ دے یا اس سے اجارے کا نیا عقد کر لیا جائے، تو پھر ان درختوں کو کاٹنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس صورت میں زمین نئے مالک کی اور درخت مستأجر کے رہیں گے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (4/ 515)
الآجر إجارة طويلة إذا باع المستأجر ثم جاء مدة الخيار هل ينفذ بيعه فيه روايتان والصحيح أنه ينفذ وهو كما لو آجر إجارة مضافة ثم باع قبل مجيء وقت الإضافة وكان الشيخ الإمام الأجل ظهير الدين - رحمه الله تعالى - يقول عندي لا ينفذ بيعه وفي ظاهر الرواية ينفذ بيعه. كذا في فتاوى قاضي خان.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 510)
وإذا باع الآجر المستأجر بغير إذن المستأجر نفذ البيع في حق البائع والمشتري، ولا ينفذ في حق المستأجر حتى لو سقط حق المستأجر يعمل ذلك البيع ولا يحتاج إلى تجديده. وذكر الصدر الشهيد في الباب الأوّل من رهن «الجامع» في هذا الفصل روايتان، قال: والصحيح أنه لا يحتاج إلى تجديد البيع وإنما أجاز المستأجر البيع نفد البيع في حق الكلّ، ولكن لا تنزع العين من يد المستأجر إلى أن يصل إليه ماله، وإن رضي بالبيع واعتبر رضاه بالبيع تفسخ الإجارة لا للانتزاع من يده، وعن بعض مشايخنا أن الآجر إذا باع المستأجر بغير رضا المستأجر، وسلم ثم أجاز المستأجر البيع والتسليم بطل حقه في الحبس، وإذا باع الآجر بغير رضا المستأجر وأراد المستأجر فسخه فقد ذكرنا في كتاب البيوع أنه ليس له ذلك.وذكر الصدر الشهيد في «الفتاوى الصغرى» : أن له ذلك في ظاهر الرواية، وفي رواية الطحاوي ليس له ذلك، وأحاله إلى رهن الجامع لشمس الأئمة الحلواني رحمه الله، وكان القاضي الامام الإسبيجابي يقول: ليس للمستأجر حق الفسخ وهو اختيار شمس الأئمة السرخسي رحمه الله، وهكذا ذكره نجم الدين النسفي رحمه الله في شرح «الشافي» والسيد الإمام أبو شجاع في رهن الجامع.وذكر شيخ الإسلام خواهر زاده رحمه الله في «شرح الجامع» : إن في المسألة روايتان في رواية ليس له ذلك، وإنه استحسان وعليه الفتوى وقد ذكرنا هذه المسألة في الفصل السابع.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 252)
(سئل) في بيع المأجور إذا أجازه المستأجر ووصل إليه ما بقي له من الأجرة فهل ينفذ البيع وينزع المأجور من يده؟(الجواب) : نعم في جامع الفصولين البيع بلا إذن المستأجر ينفذ في حق البائع والمشتري لا في حق المستأجر فلو سقط حق المستأجر عمل ذلك البيع ولا حاجة إلى التجديد وهو الصحيح ولو أجازه المستأجر نفذ في حق الكل ولا ينزع من يده حتى يصل إليه ماله إذ رضاه بالبيع يعتبر لفسخ الإجارة لا للانتزاع من يده وعن بعضنا أنه لو باع وسلم وأجازه المستأجر بطل حق حبسه ولو أجاز البيع لا التسليم لا يبطل حق حبسه. اهـ.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (9/ 16)
(قوله: بخلاف الغرس؛ لأنه ليس له نهاية معلومة فيقلع دفعا للضرر عن المالك) أقول: لقائل أن يقول: إذا كان وقت في الغرس كان له نهاية معلومة بالتوقيت فينبغي أن لا تؤخذ الأرض منه هنا أيضا إلى تمام ذلك الوقت مراعاة للحقين. والجواب أن المراد أن الغرس ليس له في نفسه نهاية معلومة، وبالتوقيت لا يتقرر له نهاية لجواز أن لا يقلعه المستعير في تمام ذلك الوقت، إما بعمد منه لخيانة نفسه، أو بمانع يمنعه عنه فيلزم أن يتضرر المالك، بخلاف الزرع فإن له في نفسه نهاية معلومة لا يتأخر عنه بالضرورة فافترقا.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 178)
(سئل) في رجل استأجر أرض وقف وغرس فيها ثم مضت مدة الإجارة فهل للمستأجر استبقاؤها بأجر المثل؟
(الجواب) : للمستأجر استبقاؤها بأجر المثل حيث لم يكن في ذلك ضرر بالوقف.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
23/01/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


