03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
كریڈٹ كارڈ كےاستعمال کا حکم
88156سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعے مختلف دکانوں سے خریداری کرتا ہوں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کریڈٹ کارڈ کے استعمال کا شرعی حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے  کہ  اصولی طورپرکریڈٹ کارڈبنواناشرعاجائزنہیں،کیوں کہ کریڈٹ کارڈ ہولڈر کا معاہدہ ہی ادھار پر سود دینے کا ہوتا ہے، اس معاہدہ میں اگرچہ بینک ایک متعین مدت فراہم کرتا ہے کہ اگر اس متعین مدت کے اندر ادائیگی کردے تو سود نہیں دینا پڑے گا، لیکن اصلاً معاہدہ سود کی بنیاد پر ہوتا ہے اور سود کی ادائیگی کا وعدہ بھی کریڈٹ کارڈ ہولڈر کو کرنا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اس میں تجدید مدت (Rescheduling) کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے، جس سے ادائیگی کی مدت بڑھ جاتی ہے، البتہ اس کے ساتھ ساتھ شرح سود میں بھی  اضافہ ہوجاتا ہے اور بعض صورتوں میں اضافی رقم لے جاتی ہے۔چونکہ اس میں معاہدہ اصلاً سود کی بنیاد پر ہوتا ہے اور جس طرح سود لینا اور دینا منع ہے، اسی طرح سود دینے کا معاہدہ اور وعدہ کرنا بھی منع ہے،اس لئے اصولی طورپرکریڈٹ کارڈبنوانا اوراس کا استعمال کرنا شرعاًجائز نہیں ہے،تاہم اگرکسی جگہ ضرورت ہواورڈیبٹ کارڈ وغیرہ سےگزارانہ چل سکتاہوتواس صورت میں جائزمقاصد کےلئےکریڈٹ کارڈکےاستعمال کی درج ذیل شرائط کےساتھ اجازت  ہوگی:

۱۔کسٹمروقت معین سے پہلےپہلےاس رقم کی ادائیگی کااہتمام کرےتاکہ سود عائدہونےکاامکان باقی نہ رہے۔

۲۔کسٹمراس کارڈ کو غیر شرعی امورمیں استعمال نہ کرے۔

۳۔اگرضرورت ڈیبٹ کارڈ سے پوری ہورہی ہوتوبہتریہ ہےکہ اس کارڈ کواستعمال نہ کرے۔

لہذا اگرمذکورہ بالا شرائط کو ملحوظ رکھ کر بینک سےکریڈٹ کارڈ لیاجائےتواس کواستعمال کیاجاسکتاہے،ایسی صورت میں بینک کی طرف سےجوچارجز پروسیسنگ فیس(اس کارڈکےاجراءکےحقیقی اخراجات)کی مدمیں وصول کیےجاتےہیں،ان کاحکم اجرت کا ہوتاہے،لہذایہ سودکےزمرےمیں نہیں آتا،اس کی ادائیگی شرعاجائزہے،کوئی حرج نہیں۔( ماخوذ از تبویب:80877)

حوالہ جات

«المعاییر الشرعیۃ» رقم 2،المادۃ،( 2/4):

«یجو زللمؤسسات المصدرۃ للبطاقۃ ان تتقاضی عمولۃ من قابل البطاقۃ بنسبۃ من ثمن السلع والخدمات.»

وفی المادۃ،( 2/4):

یجوز للمؤسسات المصدرۃ للبطاقۃ ان تتقاضی من حامل البطاقۃ رسم عضویۃ ،ورسم تجدید ورسم استبدال .

«المعاییرالشرعیۃ» رقم 19،المادۃ،(1/9):

«یجوز للمؤسسۃ المقرضۃ ان تاخذ علی خدمات المقروض مایعادل مصروفیاتہا الفعلیۃالمباشرۃ ،ولا یجوز لہا ان تاخذ زیادۃ علیہا،وکل زیادۃ علی المصروفیات الفعلیۃ محرمۃ ۔ویجب ان تتوخی الدقۃ فی تحدید المصروفیات الفعلیہ بحیث لا یؤدی الی زیادۃ تئول  الی فائدۃ ۔والاصل ان یحمل کل قرض  بتکلفتہ الخاصۃ بہ الا اذا تعسرذالک،کمافی اوعیۃ الاقراض المشترکۃ ،فلامانع من تحمیل التکالیف الاجمالیۃ  االمباشرۃ عن جمیع القروض علی اجمالی المبالغ.

فی المعاییرالشرعیۃ:

یجوز للمؤسسات اصدار بطاقۃ الحسم الفوری مادام حاملھا یسحب من رصیدہ،ولایترتب علی التعامل بھا فائدۃ ربویۃ ۔

یجوز اصدار بطاقۃ الاتمان والحسم الآجل بالشروط الآتیۃ :

(۱)الایشترط علی حامل البطاقۃ فوائدربویہ فی حال تاخیرہ عن سداد المبالغ المستحۃ علیہ ۔

(۲)ان تشترط المؤسسۃ علی حامل البطاقۃ عدم التعامل بھا فیماحرمۃ الشریعۃ وانہ یستحق للمؤسسۃ سحب البطاقۃ فی تلک الحالۃ ۔

ولایجوز للمؤسسات اصدار بطاقات الائتمان ذات الدین المتجدد الذی یسدد حامل البطاقۃ علی اقساط آجلۃ بفوائد ربویۃ.»

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (6/ 203):

«قوله (وما لا يبطل بالشرط الفاسد القرض) بأن قال أقرضتك هذه المائة بشرط أن تخدمني شهرا مثلا فإنه لا يبطل بهذا الشرط وذلك؛ ‌لأن ‌الشروط ‌الفاسدة ‌من ‌باب ‌الربا وأنه يختص بالمبادلة المالية وهذه العقود كلها ليست بمعاوضة مالية فلا تؤثر فيها الشروط الفاسدة.»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

25/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب