03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دین کے کسی حکم کا مذاق اڑانا
88232ایمان وعقائدکفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان

سوال

السلام عليكم و رحمت اللہ و برکاتہ ایک بندے نے عبداللہ چکڑالوی، جو کہ صرف قرآن کا پیروکار ہونے کا دعوٰی کرتا تھا، اس کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ جملہ بول دیا حج کا لغوی معنی ہوتا ہے زیارت کرنا؟ کس چیز کی زیارت کرنا؟ اس(چکڑالوی) کے منہ کی؟ یہ یاد رہے کہ فورا غلطی کا احساس ہو گیا اور توبہ بھی کر لی۔ جملہ بھی کسی اور سے نہیں اپنے سے بولا تھا۔ تو کیا یہ جملہ بولنے سے کفر تو لازم نہیں آ جاتا؟ اگر آتا ہے تو پھر کیا پوری زندگی کی نیکیاں ضائع ہو گئیں؟ توبہ کے بعد ان نیکیوں کو ملنے کی کوئی امید ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شر عی امور  پر بات کرتے ہوئے ہمیشہ سوچ سمجھ کر اور ادب کی رعایت رکھتے ہوئے بات کر نی چاہیے تاکہ بعد میں پچھتا وانہ ہو۔بظاہر بولنے والے کا مقصد اس معنی کا اثبات نہیں بلکہ انکار کرنا تھا کہ حج کا ایک خاص مطلب ہے،ہر ایک کی زیارت کوحج نہیں کہہ سکتے۔ لہذا یہ بولنے سے  قرآن یا حج  کی بے ادبی  نہیں ہوتی اور یہ کفریہ کلام نہیں ہے،اور نہ ہی اس سے اعمال  ضائع ہو تے ہیں قائل کا پریشان ہونا اور تو بہ کی طرف متوجہ ہو نا مستحسن ہے۔

حوالہ جات

قال ابن عابدين رحمۃ اللہ :وفي ‌الخلاصة ‌وغيرها: إذا كان في ‌المسألة ‌وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم. (حاشية ابن عابدين: 4/ 224)

أنه ‌لا ‌يفتى ‌بكفر ‌مسلم ‌أمكن ‌حمل ‌كلامه على محمل حسن، أو كان في كفره اختلاف، ولو رواية ضعيفة. (الموسوعة الفقهية الكويتية : 12/ 191)

محمد اسماعیل  بن محمداقبال

دارالافتاء جا معۃ الرشید کراچی

25/ محر الحرام 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن محمد اقبال

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب