| 88180 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میرا بڑا بھائی ہارون احمد خان گزشتہ 9 سال سے لاپتہ ہے۔ ہم نے اس کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کی، متعلقہ اداروں سے رابطہ کیااور بالآخر ہائی کورٹ میں بھی پٹیشن دائر کی، جہاں اب بھی کیس زیرِ سماعت ہے، مگر تاحال ہمیں نہ ان کی زندگی کی کوئی اطلاع ملی ہےاور نہ ہی ان کے انتقال کی کوئی خبر۔میری بھابھی، جو کہ ہارون احمد خان کے ساتھ گزشتہ 10 سال سے نکاح میں ہیں، اس وقت سخت ذہنی اور معاشرتی پریشانی کا شکار ہیں۔ ان کے کوئی اولاد نہیں ہوئی اور ہارون احمد خان کا نکاح بھی نادرا میں رجسٹرڈ نہیں ہے، یعنی نادرا ریکارڈ میں ان کا ازدواجی اسٹیٹس تاحال غیر شادی شدہ ظاہر ہو رہا ہے۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ میری بھابھی اس نکاح سے شرعی طور پر آزادی (فسخِ نکاح) حاصل کرنا چاہتی ہیں تاکہ وہ اپنی آئندہ زندگی عزت و سکون کے ساتھ گزار سکیں۔لہٰذا گزارش ہیکہ موجودہ حالات اور شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ:کیا اس نکاح کو فسخ کیا جا سکتا ہے؟اگر ہاں، تو اس کا شرعی طریقۂ کار کیا ہوگا؟
وضاحت: بیوی گھر میں اکیلے رہتی ہےگھر میں تنہائی اور عزت وعصمت وغیرہ کے مسائل کی وجہ سے پریشان ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ سائل کا بیان درست ہے کہ اس کی بھابھی کا شوہر نو سال سے لاپتہ ہے ،تو وہ عدالت کے ذریعہ موجودہ نکاح ختم کروا کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ عدالت میں اپنے شوہر کے لاپتہ ہونے کا دعوی دائر کرے اور جج کے سامنے گواہوں کے ذریعہ اپنے دعوی کو ثابت کردے کہ میرا شوہر اتنے عرصہ سے لاپتہ ہے، نیز اس کے ساتھ اپنی عزت وناموس کے عدمِ تحفظ پر بھی حلفیہ بیان بھی دے (اس کے لیے زبانی بیان دینا ضروری نہیں، بلکہ دعوی میں حلفاً یہ بات ذکر کردینا کافی ہے)، اس کے بعد جب عدالت گواہوں کی بنیاد پر نکاح فسخ کر دےیا شوہر کے قائم مقام ہو کر عورت پر ایک طلاق کے وقوع کا فیصلہ کر دے تو اس دن سے تین ماہواری عدت گزارنے کے بعدعورت کے لئے دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔
نوٹ: واضح رہے کہ معصیت کے اندیشہ کی صورت میں مالکیہ کے مسلک کے مطابق بعض اکابر کے فتاوی اور حیلہٴ ناجزہ کی عبارت میں عدالت سے رجوع کے بعد قاضی کی طرف سےایک سال کی مہلت دینے کا بھی ذکر ہے، لیکن فتاوی عثمانی(448/2)، احسن الفتاوی (422/5) اور حاشیہ حیلہٴ ناجزہ (ص:109)کی ایک عبارت میں قاضی کے بغیر مہلت دیے فوری طلاق دینے کا بھی ذکر ہے اورآج کل چونکہ ہماری عدالتوں میں تنسیخِ نکاح کے کسی بھی مسئلہ میں مہلت نہیں دی جاتی، بلکہ عورت کے مطالبے پر فوری نکاح ختم کر دیا جاتا ہے، اس لیے مذکورہ مسئلہ میں بھی اسی قول کو لیتے ہوئے قاضی کے فوری طلاق دینے کا حکم لکھا گیا ہے، خصوصاً جبکہ اس سے قبل نو سال کی مدت گزر چکی ہے۔
اور اگر دوسری شادی کے بعد پہلا شوہر لوٹ آئے تو مذکورہ خاتون کا نکاح اس کے پہلے شوہر سے بدستور قائم رہےگا، دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا نکاح خود بخود باطل ہو جائے گا، اس لیے دوسرے شوہر سے فوراً علیٰحدگی لازم ہوگی اور اگر اس خاتون کی دوسرے نکاح کی رخصتی بھی ہو گئی ہو تو پہلے شوہر کو اس کے ساتھ صحبت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہوگا جب تک وہ دوسرے شوہر کی عدت پوری نہ کرلے۔
حوالہ جات
(ماخوذ از تبویب87620)
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 292):
[كتاب المفقود](هو) لغة المعدوم. وشرعا (غائب لم يدر أحي هو فيتوقع) قدومه (أم ميت أودع اللحد البلقع) أي القفر.
منح الجليل شرح مختصر خليل (4/ 318) دار الفكر – بيروت:
(فيؤجل) بضم التحتية وفتح الهمز والجيم، المفقود الحر (أربع سنين إن دامت نفقتها) أي زوجة المفقود من ماله ولو غير مدخول بها ولم تدعه للدخول بها قبل غيبته حيث طلبتها الآن واشتراط الدعاء له في وجوب إنفاق الزوج في الحاضر فقط ويكفي في وجوبها في مال الغائب أن لا تظهر الامتناع منه فإن لم تدم نفقتها من ماله فلها التطليق لعدم النفقة بلا تأجيل وكذا إن خشيت على نفسها الزنا فيزاد على دوام نفقتها عدم خشيتها الزنا.
الشرح الكبير للشيخ الدردير وحاشية الدسوقي (2/ 479) الناشر: دار الفكر:
(قوله:) (فيؤجل) أي المفقود الحر أربع سنين سواء كانت الزوجة مدخولا بها أم لا دعته قبل غيبته للدخول أو لا والحق أن تأجيل الحر بأربع سنين والعبد بنصفها تعبدي أجمع الصحابة عليه (قوله وإلا طلق عليه) أي من حين العجز عن خبره من غير تأجيل بعد ذلك.
الدر المختار مع الرد (ج5، ص414، ط: دار الفكر،بيروت):
"(ولو قضى على الغائب بلا نائب ينفذ) في أظهر الروايتين عن أصحابنا ذكره منلا خسرو في باب خيار العيب.
قال ابن عابدين: قلت: ويؤيده ما يأتي قريبًا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لايجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه اهـ".
التاج والإكليل لمختصر خليل (5/ 502) الناشر: دار الكتب العلمية:
وأما مسألة ذات المفقود تتزوج في عدتها فقال أبو عمران في زوجة المفقود إذا مضت الأربع سنين ثم تزوجت قبل انقضاء أربعة أشهر وعشر بعد الأربع سنين: فإن الحاكم يفسخ نكاحها لأنه نكاح في عدة، فإن ثبت بعد ذلك أن المفقود قد مات قبل ذلك وأن نكاحها إنما كان بعد عدة وفاته فإن الفسخ برد وترجع لمن تزوجته وهو مثل المنعي لها زوجها.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 295):
مطلب في الإفتاء بمذهب مالك في زوجة المفقود،(قوله: خلافا لمالك) فإن عنده تعتد زوجة المفقود عدة الوفاة بعد مضي أربع سنين، وهو مذهب الشافعي القديم وأما الميراث فمذهبهما كمذهبنا في التقدير بتسعين سنة، أو الرجوع إلى رأي الحاكم. وعند أحمد إن كان يغلب على حاله الهلاك كمن فقد بين الصفين أو في مركب قد انكسر أو خرج لحاجة قريبة فلم يرجع ولم يعلم خبره فهذا بعد أربع سنين يقسم ماله وتعتد زوجته، بخلاف ما إذا لم يغلب عليه الهلاك كالمسافر لتجارة أو لسياحة فإنه يفوض للحاكم في رواية عنه، وفي أخرى يقدر بتسعين من مولده كما في شرح ابن الشحنة، لكنه اعترض على الناظم بأنه لا حاجة للحنفي إلى ذلك أي؛ لأن ذلك خلاف مذهبنا فحذفه أولى. وقال في الدر المنتقى: ليس بأولى، لقول القهستاني: لو أفتى به في موضع الضرورة لا بأس به على ما أظن اهـ»
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
25 /محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


