| 88193 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
مسجد کے منتظم نے بینک سے سود کماکر مسجد کی تعمیر میں لگا دیا اورلوگوں کوسودکی کمائی کا بعد میں علم ہواتو اس صورت میں کیاکرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مسجد اللہ تعالٰی کا گھر کا ہے۔اللہ اپنے گھر کے لیے پاک اور حلال مال کو پسند فرماتے ہیں۔لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر زمین اورمکمل تعمیرات حرام مال سے کی گئی ہوں تو ایسی مسجد میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے،اگر ساتھ میں کوئی اور مسجد نہ ہو تو اس مسجد میں نماز پڑھنے کی گنجائش ہے،اور اگر زمین تو حلال مال سے لی گئی ہو،لیکن تعمیر، دیواریں اور فرش وغیرہ حرام مال سےہوں تو پھر بھی اس میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے،البتہ اگر فرش حلال مال سے ہواور صرف دیواریں وغیرہ حرام مال کی ہوں تو اس میں نماز پڑھنا صحیح ہے۔اسی طرح زمین اور تمام تعمیرحلال مال سےہو، اور صرف تھوڑا سا چندہ حرام مال کا ہوتو اس صورت میں بھی نماز پڑھنا صحیح ہے۔
جبکہ حرام رقم سے تعمیر کی گئی ہو یا کچھ اشیاء حرام سے بنائی گئی ہوں تو جلد از جلد ایسی تعمیر کوحلال رقم سے تبدیل کر لینا چاہیے، اس کی صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس تعمیر یا ان اشیاء کی لاگت اگر پاک مال سے ادا کردی جائے تو یہ چیزیں قابل انتفاع ہوجائیں گی۔اسی طرح کفایت المفتی میں ہےکہ اگر کسی مسجدمیں جو پہلے سے شرعی مسجد ہو،اس قسم کے غیر طیب مال سے کوئی تعمیر کرائی گئی ہوتو اس میں نماز پڑھناتو جائزہے،کیوں کہ وہ پہلے سے باقاعدہ مسجد ہے، البتہ ان اشیاء سےنفع اٹھانا مکروہ ہے ،اس سے بچنے کی صورت یہ ہےکہ فرش پر جوخراب مال سے لگوایا گیا ہے،اپنا کپڑا بچھالیاجائےاور ایسے نل سے وضو نہ کیا جائےوغیرہ، اوران چیزوں کی لاگت اگر پاک مال سے ادا کردی جائے تو یہ چیزیں قابل انتفاع ہوجائیں گی۔( کتاب الوقف، باب أحکام المسجد، 120/15، ط: دار الاشاعت )
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (1/ 658):
قوله لو بماله الحلال) قال تاج الشريعة: أما لو أنفق في ذلك مالا خبيثا ومالا سببه الخبيث والطيب فيكره لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله. اهـ. شرنبلالية (قوله إلا إذا خيف إلخ) أي بأن اجتمعت عنده أموال المسجد وهو مستغن عن العبارة، وإلا فيضمنها كما في القهستاني عن النهاية (قوله وتمامه في البحر) حيث قال: وقيدوا بالمسجد إذ نقش غيره موجب للضمان إلا إذا كان معدا للاستغلال تزيد الأجرة به فلا بأس به، وأرادوا من المسجد داخله فيفيد أن تزيين خارجه مكروه؛ وأما من مال الوقف فلا شك أنه لا يجوز للمتولي فعله مطلقا لعدم الفائدة فيه، خصوصا إذا قصد به حرمان أرباب الوظائف كما شاهدنا في زماننا.
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
25/محرم الحرام /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


