| 88170 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
اگر کوئی شخص ا للہ تعالی کی شان یا نبی کریم ﷺ کی شان میں یا قرآن کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے یا گستاخی کرتا ہے تو اس کو اس نیت سےفیس بک یا واٹس ایپ پر پھیلاناتاکہ کہ اس کواس جرم (گستاخی)کی سزا ملے تو یہ کیسا ہے؟اور اس کا صحیح طریقہ جو ہو وہ بھی لازمی بتائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
گستاخانہ مواد شیئر کرنےکے حوالے سے اصولی حکم یہ ہے کہ :
۱۔ کسی قول کو گستاخی قرار دینا، یا کسی شخص کو اللہ تعالیٰ، رسول اکرم ﷺ یا قرآن مجید کا گستاخ ٹھہرانا نہایت نازک اور حساس معاملہ ہے، اس سلسلے میں یہ فیصلہ کرنا کہ کونسا مواد گستاخانہ ہےاور کونسا نہیں؟ہر کس و ناکس کاکام نہیں ہے۔
۲۔گستاخی کے ثبوت کے لیے پہلے مکمل تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے،کہ وہ ویڈیوز ،پوسٹس،میسیجز، وغیرہ جعلی نہ ہو،اس میں ایڈیٹنگ نہ ہوئی ہو ،یا وہ پرانا واقعہ نہ ہوجسے ایک نئے تناظر میں غلط استعمال کیا جارہا ہو۔
۳۔ان دو وجوہات کے ساتھ ساتھ نیز اس وجہ سے بھی کہ بلا تحقیق ایک واقعہ کو پھیلانے سے حدیث میں ممانعت آئی ہے،لہذا گستاخانہ مواد کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا ور پھیلانا غلط اور ناجائز ہے۔
علاوہ ازیں آج کے دور میں دشمنانِ اسلام کی طرف سے اسلام کے خلاف اور مسلمانوں کی ایمانی حمیت کو کم کرنے کے لیے طرح طرح کی سازشیں کی جارہی ہیں ان میں سے ایک سازش یہ بھی ہے کہ وہ ذات باری تعالیٰ، رسالت مآبﷺاور دینِ اسلام کے بارے میں گستاخانہ باتیں مختلف پیجز (pages) اور ویب سائٹس کے ذریعے نشر کرتے رہتے ہیں۔ اس سے جہاں ان کا مقصد اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور دینِ اسلام کی شان میں گستاخی کرنا ہوتا ہے، وہیں آگے شیئر کروا کر لاشعوری طور پر مسلمانوں کو بھی اس جرم کی اشاعت میں شریک کرنا ہوتا ہے۔
۴۔گستاخانہ مواد آگے شیئر کرنا یہ قانونابھی جرم ہے ۔
لہٰذا ایسی توہین آمیز اور گستاخانہ باتوں، میسیجز، پوسٹس اور ویڈیوز کو ہرگز آگے شیئر نہ کریں۔البتہ اگر کسی شخص کی گستاخی معتمد ذرائع سے ثابت ہوجائے، تو عوام میں پھیلانے کے بجائے متعلقہ اداروں یا ان تک رسائی رکھنے والی بااختیارشخصیات کو اس کی اطلاع دی جائے،اور بطور ثبوت اس کو ویڈیوز وغیرہ بھی بھیجی جاسکتی ہیں تاکہ اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جاسکے۔
حوالہ جات
سورۃ النور،آیت نمبر:19:
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيمْ
رياض الصالحين - ت الفحل(ص434):
وعن أبي هريرة رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «كفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع. رواه مسلم.
Content Regulation and Penalties:
The DRPA has the authority to control various types of content that are
considered illegal. This includes:
- Blasphemy
- Hate speech
- Inciting violence
- Obscene content
- Defamation (damaging someone's reputation)
- Material that threatens the defense or security of Pakistan
عمار بن عبد الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
25 /محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عماربن عبدالحق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


