| 88192 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں نے حال ہی میں اللہ کے فضل و کرم سے ایک نیا گھر خریدا ہے، جس کی قیمت تقریباً 15 کروڑ روپے ہے، جو میں نے اپنے ذاتی اور حلال کمائی سے خریدا ہے۔ میں اس گھر میں اپنے والد محترم، والدہ محترمہ، اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ منتقل ہونا چاہتا ہوں،اس گھر کے دو فلور ہیں، نیچے والا فلور والدین کی رہائش کے لئے چاہتا ہوں اور اوپر والا فلور اپنی بیوی، بیٹی اور اپنے لیے رکھنا چاہتا ہوں،گھر پر منتقل ہونے سے پہلے میں اس کی تزئین و آرائش (رینوویشن) کروانا چاہتا ہوں، جس پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ آئے گا۔اس میں باتھ رومز، فرش، ٹائلز، پینٹ اور گھر کے باہر نیا رنگ و پتھر کی تبدیلی شامل ہے تاکہ گھر زیادہ آرام دہ اور خوبصورت ہو جائے۔ یہ تمام اخراجات میں اپنی خوشی سے اپنی آمدنی سے کرنا چاہتا ہوں، الحمدللہ میری آمدنی اتنی اچھی ہے کہ اس خرچے سے میرے مالی معاملات پر کوئی فرق نہیں پڑےگا۔میرے والد محترم کا کہنا ہے کہ یہ سب فضول خرچی (اسراف) ہے اور وہ کسی بھی قسم کی تبدیلی کو ناپسند کرتے ہیں، حتیٰ کہ رنگ یا ٹائلز تبدیل کرنے کو بھی۔ میں نے انہیں بہت سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ یہ میرے ذاتی اخراجات ہیں اور میں اسے اپنے اور آپ کے لیے بہتر اور آرام دہ بنانا چاہتا ہوں، مگر وہ نہیں مانتے اور اس بات پر ناراضگی ظاہر کرتے ہیں۔جہاں میں نے 15 کروڑ کا گھر خریدا ہے، وہاں اس پر 1.5 کروڑ روپے لگانا (رینوویشن پر) کوئی خاص فرق نہیں ڈالتا، بنسبت اس کے کہ میں 1 کروڑ کا گھر لے کر اس پر 2 کروڑ خرچ کروں، جو واقعی اسراف محسوس ہوتا ہے۔برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں:
- اسراف کسے کہتے ہیں؟
- کیا اسلام میں اپنے ذاتی گھر کو بہتر بنانے (رینوویشن) اور آرام دہ بنانے کے لیے اس طرح کے اخراجات کرنا اسراف میں شمار ہوتا ہے؟
- کیا ایسی تبدیلیاں جو انسان کی آسائش و سہولت کے لیے ہوں، مثلاً ٹائلز، باتھ رومز، پینٹ وغیرہ، شرعی طور پر جائز ہیں؟
- کیا والد کو اولاد کے ذاتی گھر میں اس طرح کی تبدیلیوں پر زبردستی کرنے یا ناراض ہونے کا حق ہے؟
- میری نیت صرف بہتر رہائش اور آسائش کی ہے، تو کیا یہ نیت شرعاً درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)اسراف کا معنی اعتدال سے تجاوز کرنا ہے ،نیز اسراف اور تبذیر میں فرق بیان کرتے ہوئے فقہائے کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ؛"اسراف اس بات کانام ہے کہ مناسب جگہ پر مناسب مقدار سے زائد مال خرچ کیا جائے، جبکہ تبذیر یہ ہے کہ نامناسب (ناجائز) مواقع پر خرچ کیا جائے "۔
حکیم الامت مولانااشرف علی تھانوی ؒ فرماتے ہیں:
’’ اگرکوئی شخص بقدرِ ضرورت مکان بنوالے جس میں اسراف و تفاخر نہ ہو تو کوئی حرج نہیں اور یہ ہرشخص خود سمجھ سکتا ہے کہ اس کو کتنا مکان ضروری ہے؛ کیوں کہ لوگوں کے درجات مختلف ہیں اور انہیں درجات کے لحاظ سے ضروریات بھی مختلف ہیں، کسی کو ایک حجرہ آسائش و راحت کے لیے کافی ہوجاتاہے اور کسی کو ایک بڑا مکان بھی مشکل سے کافی ہوتاہے۔ بہرحال ہرشخص اپنی ضرورت کو خود ہی سمجھ سکتاہے۔ ہاں ضرورت سے آگے ایک درجہ آرائش کاہے وہ بھی جائزہے، بشرطیکہ اس میں اسراف اور حدود شرعیہ سے تجاوز نہ ہو اور نہ قصد عجب و فخر کا اختلاط ہو؛ کیوں کہ یہ درجہ نمائش کاہے جو کہ ناجائزہے۔‘‘(خطبات حکیم الامت،ج:4ص:428)
حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم "اسراف" کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ؛
"بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خلجان رہتا ہے کہ شریعت میں ایک طرف فضول خرچی اور اسراف کی ممانعت آئی ہے، اور دوسری طرف یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ گھر کے خرچ میں تنگی مت کرو، بلکہ کشادگی سے کام لو، اور اب سوال یہ ہے کہ دونوں میں حد فاصل کیا ہے؟ کون سا خرچہ اسراف میں داخل ہے اور کون سا خرچہ اسراف میں داخل نہیں ؟
اس خلجان کے جواب میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے گھر کے بارے میں فرمایا کہ ایک گھر وہ ہوتا ہے جو قابل رہائش ہو۔ مثلاً جھونپڑی ڈال دی، یا چھپر ڈال دیا ، اس میں بھی آدمی رہائش اختیار کر سکتا ہے۔ یہ تو پہلا درجہ ہے، جو بالکل جائز ہے، دوسرا درجہ یہ ہے کہ رہائش بھی ہو، اور ساتھ میں آسائش بھی ہو، مثلا پختہ مکان ہے، جس میں انسان آرام کے ساتھ رہ سکتا ہے اور گھر میں آسائش کے لئے کوئی کام کیا جائے تو اس کی ممانعت نہیں ہے اور یہ بھی اسراف میں داخل نہیں مثلاً ایک شخص ہے وہ جھونپڑی میں بھی زندگی بسر کر سکتا ہے اور دوسرا شخص جھونپڑی میں نہیں رہ سکتا ،اس کو تو رہنے کے لئے پختہ مکان چاہیے اور پھر اس مکان میں اس کو پنکھا اور بجلی بھی چاہیے ۔ اب اگر وہ شخص اپنے گھر میں پنکھا اور بجلی اس لئے لگاتا ہے تا کہ اس کو آرام حاصل ہو۔ تو یہ اسراف میں داخل نہیں۔تیسرا درجہ یہ ہے کہ مکان میں آسائش کے ساتھ آرائش بھی ہو۔ مثلاً ایک شخص کا پختہ مکان بنا ہوا ہے، پلاستر کیا ہوا ہے بجلی بھی ہے پنکھا بھی ہے لیکن اس مکان پر رنگ نہیں کیا ہوا ، اب ظاہر ہے کہ رہائش تو ایسے مکان میں بھی ہو سکتی ہے لیکن رنگ و روغن کے بغیر آرائش نہیں ہو سکتی ، اب اگر کوئی شخص آرائش کے حصول کے لئے مکان پر رنگ و روغن کرائے تو شرعاً وہ بھی جائز ہے۔اس کے بعد چوتھا درجہ ہے نمائش، اب جو کام کر رہا ہے اس سے نہ تو آرام مقصود ہے، نہ آرائش مقصود ہےبلکہ اس کام کا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگ مجھے بڑا دولت مند سمجھیں ، اور لوگ یہ سمجھیں کہ اس کے پاس بہت پیسہ ہے، اور تاکہ اس کے ذریعہ دوسروں پر اپنی فوقیت جتاؤں ، اور اپنے آپ کو بلند ظاہر کروں ، یہ سب نمائش کے اندر داخل ہے اور یہ شرعاً ناجائز ہے۔ اور اسراف میں داخل ہے۔
یہی چار درجات لباس اور کھانے میں بھی ہیں بلکہ ہر چیز میں ہیں ایک شخص اچھا اور قیمتی کپڑا اس لئے پہنتا ہے تا کہ مجھے آرام ملے اور تا کہ مجھے اچھا لگے، اور میرے گھر والوں کو اچھا لگے، اور میرے ملنے جلنے والے اس کو دیکھ کر خوش ہوں، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اگر کوئی شخص اچھا اور قیمتی لباس اس نیت سے پہنتا ہے، تا کہ مجھے دولت مند سمجھا جائے ، مجھے بہت پیسے والا سمجھا جائے ، اور میرا بڑا مقام سمجھا جائے تو یہ نمائش ہے اور ممنوع ہے ۔ اس لئے حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اسراف کے بارے میں واضح حد فاصل کھینچ دی کہ اگر ضرورت پوری کرنے کے لئے کوئی خرچہ کیا جا رہا ہے یا آسائش کے حصول کے لئے یا اپنے دل کو خوش کرنے کے لئے آرائش کی خاطر کوئی خرچہ کیا جا رہا ہے وہ اسراف میں داخل نہیں" ۔(اسلام اور ہماری زندگی،اسلام کاخاندانی نظام،ج:5،ص:109)
(2)اپنے ذاتی گھر کو بہتر بنانے (رینوویشن) اور آرام دہ بنانے کے لیے اخراجات کرنا،سوال نمبر ایک کے جواب میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق،اعتدال سے تجاوز نہ ہو اور نمود نمائش کے لیے نہ ہو،تو یہ اسراف میں داخل نہیں۔نیز اگر واقعی کسی چیز میں کمی یا خرابی ہو تو اس کو درست کرواسکتے ہیں،محض زیادہ جاذب نظر بنانے کی اجازت نہیں۔
(3)جائز ہیں،بشرطیکہ نمود ونمائش مقصود نہ ہو۔
(4) یاد رہےوالد ین کے حق کو اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں اپنی بندگی اورا طا عت کے فوراً بعد ذکر فرمایا، یہ اس بات کی طرف اشا رہ ہے کہ رشتوں میں سب سے زیادہ اور بڑا حق والدین کا ہے ۔
چنانچہ سورہ بنی اسرائیل آیت 23 میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے،جس کا مفہوم یہ ہے کہ :’’اور تیرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ، اگر وہ تیری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں، چاہے ان میں ایک پہنچے یا دونوں (اورا ن کی کوئی بات تجھے ناگوار گزرے تو) ان سے کبھی’’اف ‘‘ بھی مت کرنا اور نہ ان سے جھڑک کر بولنا اور ان سے خوب ادب سے بات کر نا، اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کر تے رہنا :اے ہمارے پروردگار ! تو اُن پر رحمت فرما، جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے (صرف ظاہر داری نہیں، دل سے اُن کا احترام کرنا) تمہارا رب تمہارے دل کی بات خوب جانتا ہے اور اگر تم سعادت مند ہو تو وہ توبہ کرنے والے کی خطائیں بکثرت معاف کرنے والا ہے۔‘‘
اس آیتِ کریمہ میں اللہ جل جلالہٗ نے سب سے پہلے اپنی بندگی و اطاعت کا حکم ارشاد فرمایا ہے کہ میرے علاوہ کسی اور کی بندگی ہر گز مت کرنا، اس کے بعد فرمایا کہ: اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ۔ اولاد کو یہ سوچنا چاہیے کہ والدین نہ صرف میرے وجود کا سبب ہیں، بلکہ آج میں جو کچھ ہوں‘ انہی کی برکت سے ہوں، والدین ہی ہیں جو اولاد کی خاطر نہ صرف ہر طرح کی تکلیف، دکھ اور مشقت کو برداشت کر تے ہیں، بلکہ بسا اوقات اپنا آرام و راحت، اپنی خوشی و خواہش کو بھی اولاد کی خاطر قربان کردیتے ہیں،لہٰذا والدین کو ہمیشہ خوش رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بہرحال آپ کوشش کریں کہ والدین کو راضی کرتے ہوئے رینوویشن وغیرہ کروائیں تاکہ والدین کی ناراضگی کی وجہ سے بے برکتی نہ ہو،اسی طرح والدین کو بھی چاہیے کہ اگر اولاد اپنی اور والدین کی سہولت کے لیے یا آسائش و آرائش کے لیےشریعت کی حدود میں رہتے ہوئے کوئی کام کررہی ہو تو خوش دلی سے اس کی اجازت دے دیں ۔
(5)درست ہے،بشرطیکہ جواب نمبر دو میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق ہو ورنہ نہیں۔
حوالہ جات
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 528)
(وينفق على نفسه وعياله بلا إسراف ولا تقتير) ولا يتكلف لتحصيل جميع شهواتهم ولا يمنعهم جميعا بل يكون وسطا قال الله تعالى {والذين إذا أنفقوا لم يسرفوا ولم يقتروا وكان بين ذلك قواما} [الفرقان: 67]
الموسوعة الفقهية الكويتية (4/ 176)
من معاني الإسراف في اللغة : مجاوزة القصد ، يقال : أسرف في ماله أي أنفق من غير اعتدال ، ووضع المال في غير موضعه . وأسرف في الكلام ، وفي القتل : أفرط . وأما السرف الذي نهى الله تعالى عنه فهو ما أنفق في غير طاعة الله ، قليلا كان أو كثيرا . أما في الاصطلاح الشرعي ، فقد ذكر القليوبي للإسراف المعنى اللغوي نفسه ، وهو : مجاوزة الحد .وخص بعضهم استعمال الإسراف بالنفقة والأكل . يقول الجرجاني في التعريفات : الإسراف تجاوز الحد في النفقة .وقيل : أن يأكل الرجل ما لا يحل له ، أو يأكل ما يحل له فوق الاعتدال ومقدار الحاجة .
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 759)
والتبذير يستعمل في المشهور بمعنى الإسراف، والتحقيق أن بينهما فرقا وهو أن الإسراف صرف الشيء فيما ينبغي زائدا على ما ينبغي، والتبذيرصرفه فيما لا ينبغي صرح به الكرماني في شرح البخاري يعقوب…
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
25.محرم1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


