| 88165 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین اس بارے میں کہ 2020ءایک لڑکی اور لڑکے کے نکاح کا حق مہر پانچ ہزار نقد اور چار تولےسونا طے پایا، جس میں سے ایک تولہ موقع پر دیا گیا اور تین تولہ بعدمیں دینا تھا، ساتھ ایک گھر پانچ مرلے کا جس میں صحن اور ایک کمرہ شامل ہے مقرر ہوا، ان دنوں یونین کونسل کے سیکرٹری نے نکاح خوانوں کو کہہ رکھا تھا کہ جوچیزیں مہر میں طے ہوں اس کی قیمت بھی لکھا کریں، نکاح خواں نے فریقین کی رضامندی سے اس موقع پر سونے اور گھر کی قیمت چار لاکھ 75 ہزار روپےلکھی۔ اتفاق سے اب میاں بیوی میں طلاق ہو چکی ہے لڑکی کہتی ہے کہ مجھے سونا اور گھر دیا جائے یا اس کی موجودہ قیمت دی جائے جبکہ لڑکے کا کہنا یہ ہے کہ چار لاکھ 75 ہزار جو مقرر ہوا تھا میں وہ دوں گا۔ نکاح نامہ کا پرت استفتاء کے ساتھ لف کیا جا رہا ہےشریعت محمدیہ کی روشنی میں اس مسئلے کا حل بتائیں کہ بیوی کا موقف درست ہے یاشوہر کا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال کے ساتھ منسلک نکاح نامہ پر لکھی گئی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل حق مہر چار تولہ سونا اور ایک کمرہ بمع صحن تھا، جس میں سے ایک تولہ سونا عورت کو اسی وقت دے دیا گیا تھا، بقایا تین تولہ سونا اور پانچ مرلہ پرمشتمل کمرہ مع صحن دینا باقی ہے، جس کا اصل حکم یہ تھا کہ اسی وقت عورت کو اس کا مکمل حق مہر ادا کر دیا جاتا، لیکن جب شوہر نے ابھی تک بقایا حق مہر ادا نہیں کیا تو اب بقایا تین سونا اور پانچ مرلہ زمین دینا لازم ہے اور اگر فریقین باہمی رضامندی سے قیمت دینا طے کرلیں تو ان دونوں چیزوں کی ادائیگی کے وقت مارکیٹ ریٹ کے حساب سے قیمت ادا کی جائے گی، نکاح کے وقت کی قیمت کا اعتبار نہیں ہو گا۔
جہاں تک نکاح نامے میں ان چیزوں کی قیمت لکھنے کا تعلق ہے تو یہ صرف طے شدہ حق مہر کی مالیت کی تعیین کے لیے تھا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت کو لکھی گئی رقم دی جائے گی، ورنہ چار تولہ سونا اور کمرہ مع صحن شروع میں لکھنے کا کیا فائدہ تھا؟ اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر شرکاء کے درمیان کوئی مشترکہ زمین تقسیم کی جائے اور ہر ایک کے حصہ کی زمین کی مقدار (پیمائش) لکھنے کے ساتھ بطورِ وضاحت اس کی مالیت بھی لکھ دی جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو لکھی گئی رقم دی جائے گی، بلکہ ہرشریک طے شدہ زمین کا ہی حق دار ہو گا، البتہ اگر فریقین اتفاق کر کے قیمت ادا کرنا چاہیں تو ادائیگی کے وقت کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 86) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:
وإذا تزوجها على هذا العبد وهو ملك الغير، أو على هذه الدار (التي) هي ملك الغير، فالنكاح جائز والتسمية صحيحة، فتسمية مال الغير صداقا صحيح؛ لأن المسمى مال معلوم، فبعد ذلك ينظر؛ إن أجاز صاحب الدار وصاحب العبد ذلك فلها عين المسمى، وصار الجواب في النكاح مع المستحق التسمية نظير الجواب في البيع. وإن المستحق لا يبطل النكاح ولا التسمية، حتى لا يجب مهر المثل، وإنما تجب قيمة المسمى بخلاف البيع.
(الفتاوى الهندية،کتاب النکاح ،الباب السابع في المهر ،الفصل الأول ،ج1ص303):
وإذا تزوجها على هذا العبد وهو ملك الغير أو على هذه الدار وهي ملك الغير فالنكاح جائز والتسمية صحيحة فبعد ذلك ينظر إن أجاز صاحب الدار وصاحب العبد ذلك فلها عين المسمى وإن لم يجز المستحق لا يبطل النكاح ولا التسمية حتى لا يجب مهر المثل وإنما تجب قيمة المسمى كذا في المحيط.
الفتاوى الهندية (1/ 312) الناشر: دار الفكر، يروت:
وإذا تزوج امرأة على أرض على أن فيها ألف نخلة وحددها أو تزوجها على دار وحددها على أنها مبنية بالآجر والجص والساج فإذا الأرض لا نخل فيها وإذا الدار لا بناء فيها فهي بالخيار إن شاءت أخذت الدار والأرض ولا شيء لها غير ذلك، وإن شاءت أخذت مهر مثلها، وإن طلقها قبل أن يدخل بها لم يكن لها إلا نصف الأرض ونصف الدار على ما وجدتها عليه إلا أن تكون متعتها أكثر من ذلك.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
25/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


