| 88189 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
کچھ عرصہ قبل میری بیوی سے کچھ باتیں سرزد ہوئی جو اخلاقاً اور شرعاً معیوب تھی۔میں نے اپنی بیوی کو سمجھاتے ہوئے کہا :’’ اگر میں نے دوبارہ ایسا سنا تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔‘‘میری نیت صرف بیوی کو ڈرانا تھا تاکہ وہ دوبارا ایسا نہ کرے ۔ان الفاظ سے طلاق واقع کرنے کی نیت نہیں تھی بلکہ مقصد دھمکانا اور ڈرانا تھا یا مستقبل میں ایسا فیصلہ کروں گا سے باخبر کرنا تھا ،تاکہ وہ ڈرجائے اور باز آجائے۔اب کچھ روز پہلے میں نے سوشل میڈیا پر تعلیقِ طلاق کے متعلق پڑھا ہے تو وسوسے آرہے ہیں کہ کیا ایسے طلاق معلق تو نہیں ہوتی جبکہ میری ایسی کوئی نیت نہیں تھی ،نہ ذہن میں ایسی کوئی بات تھی۔ میری بیوی کو الفاظ یاد نہیں ہیں۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ ایسی صورت حال میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
’’ اگر میں نے دوبارہ ایسا سنا تو سب کچھ ختم ہو جائے گا‘‘ کہنے کی صورت میں اگر شوہر کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی(جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔(مستفاد از تبویب جامعۃ الرشید:84377)
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 376):
ولو قال لم يبق بيني وبينك شيء ونوى به الطلاق لا يقع وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع كذا في العتابية.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 433):
إذا قال لامرأته في حالة الغضب: إن فعلت كذا إلى خمس سنين تصيري مطلقة مني وأراد بذلك تخويفها ففعلت ذلك الفعل قبل انقضاء المدة التي ذكرها فإنه يسأل الزوج هل كان حلف بطلاقها فإن أخبر أنه كان حلف يعمل بخبره ويحكم بوقوع الطلاق عليها وإن أخبر أنه لم يحلف به قبل قوله كذا في المحيط.
حماد الدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
25/محرم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


