03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیرون ممالک کے لوگوں سے کام لینے کے لئے غلط بیانی کا حکم
88178خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میرا ایک دوست ہے ،وہ ایک سافٹ ویئر ہاؤس میں کام کرتا ہے ،اس  کا کام صرف بیرونی ممالک کے لوگوں سے بات کرنا اور  ان کو قائل کرنا ہے کہ وہ لوگ اس سے کام کروائیں،جس میں ڈیجیٹل تصویریں بنوا یا کسی کارٹون کی نقل بنوانا شامل ہے، اگر کوئی تصویر بنوانے کے لئے راضی ہوجاتا ہے تو اس کے بارے میں مکمل تفصیلی معلومات لینا (کہ اس نے کیا پہنا ہوا ہو، آنکھیں کیسی ہوں،خوش مزاج ہو وغیرہ وغیرہ) اس کا کام بس اتنا ہے ،باقی تصویریں بنانا دوسرے بندے کا کام ہے، جس میں وہ ماہر ہے، میرے دوست کا  کام صرف لوگوں(کلائنٹ) کو کام کروانے کے لئے قائل کرکے کام سے متعلق معلومات لینا ہے۔

یہ کام درج ذیل طریقوں سے کیا جاتا ہے:

نمبر 1:- پروفائل آئی ڈی لڑکی کے نام سے بنوانی پڑتی ہے، تاکہ بیرون ممالک کے لوگ ہماری طرف زیادہ متوجہ ہوں۔ (یہ کمپنی کا اصول ہے )

نمبر 2:- ہمیں یہ ظاہر کرنا ہے کے ہم تصویر بنانے والے ہیں اور ماہر ہیں، جبکہ بنانے والا کوئی اور ہے اور یہ بھی  بتانا ہے (کہ میں فلاں  فلاں ملک میں رہتی ہوں اور مجھے اپنے اسکول کی تعلیم یا پھر گھر کا خرچا چلانے کے لیے پیسوں کی ضرورت تو کیا اپ مجھ سے کوئی کام لینا چاہتے ہیں) ۔

نیز فحش تصاویر بنانے پر کمپنی کی طرف سے پابندی ہے۔

نمبر 3:- لوگوں کو ڈھونڈنے کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ ایک ایپ ہے جس میں موبائل کے گیموں اور ان کے کھیلنے کے حوالہ سے مختلف ممالک کے لوگ گروپوں  کے شکل میں باتیں کرتے ہیں تو وہ ان لوگوں کے گروپ میں شامل ہوکر ان سے بات کرتا ہے اور کام کے لیے قائل کرتا ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ غلط بیانی اور دھوکہ دہی شرعا ممنوع ہے،لہذا لوگوں سے کام لینے کے لئے ایسا کوئی طریقہ اختیار کرنا جائز نہیں جو جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مشتمل ہو ،چنانچہ مذکورہ صورت میں لڑکے کا لڑکی کے نام سے پروفائل آئی ڈی بنانا،خود کو ضرورت مند طالب علم ظاہر کرنا اور پاکستان میں رہتے ہوئے خود کو کسی دوسرے ملک کا شہری ظاہر کرنا وغیرہ ایسے امورکا اظہار جائز نہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ،البتہ اس کی وجہ سے آمدن حرام نہیں ہوگی،بشرطیکہ کسی جائز کام کے عوض لی گئی ہو۔

حوالہ جات

"صحيح مسلم "(1/ 99):

"عن أبي هريرة أن رسول ﷲ صلى ﷲ عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول ﷲ! قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني»".

قال الملا علی القاری رحمہ اللہ:" (من غش) أي خان وهو ضد النصح (فليس مني) أي ليس هو على سنتي وطريقتي. قال الطيبي: من اتصالية كقوله - تعالى - {المنافقون والمنافقات بعضهم من بعض} [التوبة: 67] (رواه مسلم) وروى الترمذي الجملة الأخيرة بلفظ " «من غش فليس منا» " ورواه الطبراني في الكبير وأبو نعيم في الحلية عن ابن مسعود بلفظ " «من غشنا فليس منا، والمكر والخداع في النار» ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

25/محرم1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب