| 88169 | خرید و فروخت کے احکام | مرابحہ اور تولیہ کا بیان |
سوال
میرا تعلق مروٹ سے ہے۔ہمارے ہاں کسان غلہ منڈی میں دکانداروں سے کھاد ، اسپرے اور بیج وغیرہ لیتے ہیں۔جو نچلے درجے کا غریب کسان ہوتا ہے وہ فوری طور پر نقدرقم نہیں ادا نہیں کرسکتا، اس لئے وہ دکاندار ادھار پر سامان دے دیتاہے اور ساتھ دونوں (کسان اور دوکاندار) یہ بات طے کر لیتے ہیں کہ پانچ یا چھ مہینے بعد جب فصل تیار ہو جائے گی تو اس کے منافع میں سے سامان کی اصل قیمت میں اس قیمت کا 20 فیصد ملا کر کسان دوکاندار کو ادا کرے گا، مثال کے طور پر اگر کھاد کی ایک بوری کی 13 ہزار نقد قمیت تھی تو اب کسان15600 روپے ادا کرے گا۔ کسان اپنی فصلیں ان دکانداروں کو دیتے ہیں اور وہ آگے بیچتے ہیں اور جو منافع میں سے جو بھی سامان ادھار لیا ہوتا ہے اس کی قیمت کا 20 فیصد ملا کر دوکاندار اپنا ادھار کاٹ لیتے ہیں اور باقی پیسے کسانوں کو دیتے ہیں۔ اس طرح کئی بار کسانوں کو نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے ،کیونکہ سامان کی قیمت پر 20 فیصد پہلے سے طے کیا ہوتا ہے، چاہے فصل اچھی فروخت ہو یا نہ ہو۔اس طرح یہاں پر دکاندار امیر ہوتے جا رہے ہیں اور غریب کسانوں کو بڑی مشکل کا سامنا ہے۔
اب سوال یہ ہے ان دکانداروں کا پہلے سے قیمت میں اضافہ طے کر لینا سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ادھار چیز کو زیادہ قیمت پر فروخت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ خریدو فروخت کے وقت اس کی قیمت متعین کی جائے اور اس کے ساتھ جتنی مدّت کے لیے ادھار پر بیچا ہےوہ مدّت بھی متعین طور پر معلوم ہو۔
اصولی حکم کے بعد صورت مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ دوکاندار جو کھاد، اسپرے اور بیچ وغیرہ کسانوں کو معلوم مدت تک ادھار بیچتا ہے اور اس کی قیمت زیادہ وصول کرتا ہے ، یہ جائز ہے ۔ یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا ،البتہ اس کی شرط یہ ہے کہ اس طرح ادھار اشیاء کی فراہمی میں یہ شرط نہ ہو کہ بعد میں وہ کسان اپنی فصل اسی دوکاندار کو فروخت کرے گا۔نیز ادھار کی وجہ سے مارکیٹ ریٹ سے بہت زیادہ فرق کرنا مروت اور اسلامی اخلاقیات کے خلاف ہے۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال ابن الهمام وتكملته ط الحلبي :(6/ 261):
قال (ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما) لإطلاق قوله تعالى»{وأحل الله البيع} [البقرة: 275] وعنه - عليه الصلاة والسلام - «أنه اشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم ورهنه درعه» . ولا بد أن يكون الأجل معلوما؛ لأن الجهالة فيه مانعة من التسليم الواجب بالعقد، فهذا يطالبه به في قريب المدة، وهذا يسلمه في بعيدها.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
26/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


