| 88226 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھانے پینے کے مسائل |
سوال
مجھےیہ معلوم کرناہےکہ اٹلی میں تیارشدہ پرمیسان چیز،جس میں بچھڑےکارینیٹ استعمال ہوتاہے،وہ ہمارےلیےکھانا حلا ل ہے؟یہاں متحدہ عرب امارات میں یہ عام دستیاب ہے،ان کےحساب سےیہ حلال ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال کےمطابق چونکہ اس پروڈکٹ میں رینیٹ استعمال ہوتاہےتورینٹ سےمتعلق شرعی حکم کےمطابق اس کےحلال یاحرام ہونےکاحکم لگایاجائےگا۔
رینیٹ کےبارےمیں شرعی حکم یہ ہےکہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک حلال جانور کے بچھڑے کے معدے سے جو دودھ یا رینٹ حاصل کیا جائے، وہ مطلقاً پاک اور حلال ہے، یعنی ایسا بچھڑا جو اپنی موت آپ مرا ہو یا ذبح کیا گیا ہو، نیز اس کو ذبح کرنے والے مسلمان اور کتابی ہوں یا غیرمسلم، بہرحال بچھڑے کے معدے سے نکالا گیا دودھ ناپاک اور حرام نہیں، چنانچہ انفحہ کے بارے میں امام صاحب کے مذکورہ راجح مسلک کی روشنی میں آج کل جن مصنوعات میں رینٹ استعمال ہو، ان کا استعمال شرعا جائز ہے، البتہ یہ واضح رہے کہ آجکل بعض اوقات رینٹ کو حاصل کرنے کے لئے جانور کے سالم معدے کو کرش Crush کر لیا جاتا ہے، ایسے رینٹ میں چونکہ گوشت کے اجزاء بھی شامل ہو جاتے ہیں، اس لئے ایسی صورت میں اس کے حلال ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ حلال مذبوحہ جانور کے معدے سے ہی حاصل کیا گیا ہو، حرام اور غیر مذبوحہ جانور کے معدے سے حاصل کیا گیا رینٹ امام ابوحنیفہ کے قول کے مطابق بھی حلال نہیں ہوگا، لہذا غیر مسلم ممالک کی بنی ہوئی پنیر کے بارے میں اگر تحقیق سے معلوم ہو کہ اس میں موجود رینٹ کو نکالنے میں اس کے معدے کے اجزاء شامل نہیں ہیں، تو اس پنیر کو استعمال کرنا جائز اور حلال ہے،بصورت دیگر اس کا استعمال ناجائز اور حرام ہوگا۔
مذکورہ بالا تفصیل کےمطابق صورت مسئولہ میں مذکور ہ پروڈکٹ میں استعمال ہونےوالےرینیٹ سےمتعلق حکم یہ ہوگاکہ اگروہاں (متحدہ عرب امارات )کی کسی معتبر حلال تصدیقی ادارےسےیہ پروڈکٹ سرٹیفائیڈ ہےتو اس کےاستعمال کرنےمیں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ یقین ہوگاکہ کسی حرام اورغیرمذبوحہ جانور کےمعدےسےنہیں لیاگیا۔
اوراگرسرٹیفائیڈ نہیں یا کسی غیر معتبرادارےسےتصدیق شدہ ہے،تواگراپنےطورپر تحقیق ہوسکےتو ٹھیک ورنہ یہ دیکھاجائےکہ یہ پروڈکٹ خودمتحدہ عرب امارات کی بنی ہوئی یاباہرکسی غیرمسلم ملک سےامپورٹ ہے، اگروہیں کی بنی ہوئی ہےتوبھی اس کواستعمال کیاجاسکتاہے،ایسی صورت میں حلال اورحرام کی تمییزکاعمومی رجحان اورمسلمان ملک کوحلت کے لئے قرینہ سمجھاجائےگا،لیکن اگر کسی غیرمسلم ملک سےامپورٹ شدہ ہےتوپھراحتیاط اس میں ہوگاکہ استعمال نہ کیاجائے۔
صورت مسئولہ میں یہ پروڈکٹ چونکہ اٹلی میں تیارشدہ ہے،اس لیےاگرکسی معتبرادارےسےسرٹیفائیڈ نہ ہوتوپھراس پروڈکٹ کو استعمال نہ کیاجائے۔
حوالہ جات
"المبسوط للسرخسی" (28/24:
(ألا ترى) أن في الأصل، اللبن إنما يخرج من موضع النجاسة قال الله تعالى {من بين فرث ودم لبنا خالصا سائغا للشاربين} [النحل: ٦٦] وعلى هذا إنفحة الميتة عند أبي حنيفة - رحمه الله - طاهرة مائعة كانت، أو جامدة بمنزلة اللبن، وعند الشافعي نجسة العين، وعند أبي يوسف ومحمد إن كانت مائعة، فهي نجسة بنجاسة الوعاء كاللبن، وإن كانت جامدة، فلا بأس بالانتفاع بها بعد الغسل؛ لأن بنجاسة الوعاءلايتنجس باطنها،وماعلى ظاهرهايزول بالغسل، وأشارلأبي حنيفة- رحمه الله - في الكتاب إلى حرف، فقال؛ لأنها لم تكن إنفحة، ولا لبنا، وهي ميتة، ولا يضرها موت الشاة يعني أن اللبن، والإنفحة تنفصل من الشاة بصفة واحدة حية كانت الشاة، أو ميتة ذبحت، أو لم تذبح، فلا يكون لموت الشاة تأثير في اللبن، والإنفحة۔
"مجمع الانھر"64/1:(وإنفحة الميتة ولبنها طاهر) قال ابن ملك إنفحة الميتة بكسر الهمزة وفتح الفاء مخففة كرش الجدي أو الحمل الصغير لم يؤكل بعد يقال لها بالفارسية " ينيرمايه " يعني: إنفحة الميتة جامدة كانت أو مائعة طاهرة عندالإمام،وكذالبنها۔۔۔
أماالإنفحةالجامدةفإن الحياة لم تحل فيهاوأما المائعة واللبن فلأن نجاسة محلها لم يكن مؤثرة فيهما قبل الموت؛ ولهذا كان اللبن الخارج بين فرث ودم طاهرا فلا تكون مؤثرة بعد الموت انتهى۔۔
"الفتاوى الهندية" 22 / 442:رجل اشترى من التاجر شيئا هل يلزمه السؤال أنه حلال أم حرام؟ قالوا: ينظر إن كان في بلد وزمان كان الغالب فيه هو الحلال في أسواقهم ليس على المشتري أن يسأل أنه حلال أم حرام ويبنى الحكم على الظاهر ، وإن كان الغالب هو الحرام أو كان البائع رجلا يبيع الحلال والحرام يحتاط ويسأل أنه حلال أم حرام۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
25/محرم الحرام 1447ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


