03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مالِ وقف میں بے احتیاطی کے ازالے کی صورت
88166وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

میں محمد مدثر قدیرگزشتہ چھ سال سے جامعۃ الرشید میں زیرِ تعلیم ہوں۔ حال ہی میں میرے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ مدرسے میں استعمال ہونے والی تمام اشیاء وقف کے مال سے ہیں، جن کا استعمال نہایت احتیاط اور امانت داری کا متقاضی ہے۔ اس بات کا بھی ادراک ہوا کہ میں نے ماضی میں ان اشیاء کے استعمال میں بعض بے احتیاطیاں کی ہیں۔

 مثال کے طور پر بعض اوقات جامعہ کی بجلی کا غیر ضروری استعمال کیا ، اسی طرح کھانے کے وقت پیٹ بھرنے کے لیے دو روٹیاں کافی ہوتی تھیں لیکن میں نے بے احتیاطی سے تین روٹیاں لے لیں۔ اس کے علاوہ واشنگ مشین کا ذاتی سہولت کے لیے ضرورت سے زیادہ  استعمال کیا، اور وضو و غسل کے دوران پانی کے استعمال میں بھی اسراف کیا۔اب سوال یہ ہے کہ ایسی کوتاہیوں کے ازالے کی کیا صورت ہو سکتی ہے ؟ کیونکہ یہ تمام اشیاء اموالِ وقف سے تعلق رکھتی ہیں جن میں تمام طلبہ  کا حق شامل ہے، اور شرعی اعتبار سے اس میں کوتاہی گناہ کے زمرے میں آتی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مساجد اور مدارس کے وقف اموال  میں اسراف یا بے احتیاطی کرنا خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں سب سے پہلے   صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور   توبہ کریں اور آئندہ کے لیے وقف کے مال میں مکمل احتیاط سے کام لینے کا عزم کریں  تاکہ دوبارہ کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔ اس کے علاوہ  جو کچھ اسراف یاوقف کی چیزوں کا  بے جا استعمال کیاہےتو  اندازے کے مطابق  کچھ رقم  بطورِ تلافی جامعہ کو ہدیہ یا صدقہ کے عنوان  سے واپس کر دیں۔

حوالہ جات

........

محمد ابراہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

26/محرم الحرام /7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب