| 88176 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
میری شادی کو تقریباً 15 سال ہو چکے ہیں۔ الحمدللہ، میں اور میری اہلیہ خوشی و محبت کے ساتھ زندگی گزار رہے تھےاور اللہ تعالیٰ نے ہمیں چار بچے بھی عطا فرمائے ہیں۔چند مواقع پر میں نے اپنی اہلیہ کو شرعی نقطۂ نظر سے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ "نیاز" کا عمل شرعاً درست نہیں، لہٰذا وہ اس سے اجتناب کرے۔ لیکن میری اہلیہ نے میری بات کو سنجیدگی سے نہ لیا اور وہ اس عمل کو جاری رکھتی رہی۔بالآخرمجبور ہوکر میں نے اپنی زوجہ کوصرف تنبیہ کرنے اور ڈرانے کی نیت سے، اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے، ظاہری طور پر تین بار کہا: "طلاق، طلاق، طلاق"۔ اس موقع پر میری نیت حقیقتاً طلاق دینے کی نہیں تھی، بلکہ محض ڈراوا مقصود تھا۔ اس وقت نہ کوئی گواہ موجود تھا، نہ ہی میں نے بیوی کا نام لے کر یہ الفاظ کہے، بلکہ عمومی انداز میں صرف "طلاق" کا لفظ تین بار کہا۔
اس وقت میری اہلیہ اپنے والدین کے گھر مقیم ہےاور وہ بھی واپس میرے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہشمند ہے۔ ہم دونوں اس رشتے کو بحال رکھنا چاہتے ہیں اور دوبارہ خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔لہٰذا گزارش ہے کہ اس صورتِ حال میں ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں،ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ طلاق کے صریح الفاظ استعمال کرنے کی صورت میں طلاق کے نیت کا ہونا ضروری نہیں ہوتا، شوہر نے نیت کے بغیر بھی یہ الفاظ کہے ہوں، تب بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔اسی طرح طلاق دیتے وقت بیوی کا نام لینا بھی ضروری نہیں اور نہ ہی گواہوں کی موجودگی شرط ہے،بلکہ بیوی کی طرف معنوی نسبت (یعنی یہ الفاظ اسی کے لیے کہے گئے ہوں) پائی جائے، تو طلاق شرعاً واقع ہو جاتی ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، تین طلاقیں واقع ہونے کی وجہ سے میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے حلال نہیں رہے،موجودہ حالت میں رجوع بھی نہیں ہوسکتا اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے ،البتہ اگر عدت گزرنے کے بعد بیوی دوسری جگہ شادی کرےاور دوسرا شوہرہمبستری کے بعدکسی وجہ سے اس کو طلاق دےدے یاشوہر فوت ہوجائے تواس کی عدت گزارنے کےبعد پہلےشوہرسےنئےمہرکے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 248):
«ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. اهـ.»
القرآن الکریم(سورۃ البقرہ:230):
فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَراجَعا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُها لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ.
»مسند أحمد» (41/ 195 ط الرسالة):
»عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في رجل طلق امرأته ثلاثا، ثم تزوجها آخر، ثم طلقها من قبل أن يمسها، قال: " لا ينكحها الأول حتى تذوق من عسيلته، ويذوق من عسيلتها »
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 473):
«وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
26/ محرم الحرام 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


