03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوتیلی ،ماں ،کے ہونٹوں پر بوسہ دینے سے حرمت مصاہر ت کا حکم
88175نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

 سائلہ سے معلومات کے بعد مسئلہ کی وضاحت:

 میرے شوہر کی دو بیویاں ہیں اور وہ زیادہ توجہ دوسری بیوی پر دیتے ہیں۔ مجھے شوہر نے ایک عرصے سے نظر انداز کر رکھا ہے۔ان کی دوسری بیوی سے ایک 16 سال کا بیٹا ہے، جو اکثر میرے کمرے میں آتا رہتا ہے، میری دیکھ بھال کرتا ہے، ہر جگہ میرے ساتھ جاتا ہے، میرے ہاتھ پاؤں دباتا ہے۔کبھی کبھار میں اُسے منع کرتی تھی کہ کمرے میں نہ آیا کرو، کیونکہ الجھن محسوس ہوتی تھی۔ میں نے اپنے شوہر سے بھی یہ بات بیان کی کہ آپ کا بیٹا میرے کمرے میں آتاہے، جس سے مجھے ذہنی پریشانی ہوتی ہے۔ میں شوہر سے الگ گھر کی درخواست بھی کر چکی ہوں، مگر وہ انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں: ’’میں الگ گھر نہیں دوں گا‘‘، حالانکہ وہ مالی طور پر مستحکم ہیں۔

یہ لڑکا مستقل میرے کمرے میں آتا رہتا ہے، ہم ایک دوسرے کے دل کی باتیں کرتے رہتے ہیں ۔ چند روز قبل ہم دونوں ایک ساتھ لیٹ کر کافی دیر تک باتیں کرتے رہے، اسی دوران انہوں نے مجھ سے کہا کہ اُسے مجھ سے محبت ہو گئی ہے۔ میرے دل میں شہوانی خیالات پیدا ہونے لگے۔ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ بوس و کنار کیا اور تقریباً ایک سے دو منٹ تک ایک دوسرے کے ہونٹ چومتے رہے۔ پھر ہمیں اللہ کا خوف آیا اور ہم ایک دوسرے سے الگ ہو گئے کہ کہیں زنا جیسے گناہ میں نہ پڑ جائیں۔اس دوران مجھے رطوبت آئی تھی، البتہ لڑکے کا انزال نہیں ہواتھا۔ لڑکے  کا کہنا ہے کہ اُسے شہوت نہیں آئی تھی، بلکہ اُس نے صرف سہارے کے طور پر ہلکا سا ساتھ دیا تھا۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنے شوہر کے لیے حرام ہو چکی ہوں؟اس پوری صورتِ حال میں شوہر کی شرعی ذمہ داری کیا بنتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ فقہاءِ کرام کی تصریحات کے مطابق ہونٹوں پر بوسہ دینے کی صورت میں مطلقاً حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے ، اس معاملے میں شہوت کے پائے جانے یا نہ پائے جانے کا اقرار یا انکار معتبر نہیں ہوتا۔نیز حرمت مصاہرت ثابت ہونے میں جانبین سے شہوت کا ہونا ضروری نہیں ہوتا ،بلکہ اگر ایک طرف سےبھی شہوت موجود ہوتو حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے ۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ  اورآپ کے سوتیلے بیٹے نے ایک دوسرےکے ہونٹوں کو چوما، تو اس بنا پر آپ اور آپ کے شوہر کے درمیان حرمتِ مصاہرت ثابت ہو چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوچکی ہیں اور آپ دونوں کا ایک ساتھ رہنا شرعاً جائزنہیں ہے۔ چنانچہ فوری طور پر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا واجب ہے۔اسی کے ساتھ، شوہر پر شرعاً لازم ہے کہ وہ آپ کو الفاظِ متارکت (مثلاً: "میں نے تجھے چھوڑ دیا" وغیرہ) کہہ کر علیحدہ کرے۔اس کے بعد عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

نیز یہ بھی واضح رہے کہ  اگر شوہر، آپ کے بیان کی تصدیق کرے تو آپ اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائیں گی۔لیکن اگر شوہر، آپ کی بات کی تصدیق نہ کرے اور ساتھ ہی قسم کھائے کہ "میرا غالب گمان ہے کہ آپ اپنے دعوے میں سچی نہیں ہیں  اور یہ واقعہ میرے دل کو نہیں لگتا" تو ایسی صورت میں قضاءً آپ   اپنےشوہر پر حرام نہیں ہوگی۔البتہ اگر آپ اپنے دعوے میں سچی ہیں کہ واقعتاً  آپ اور لڑکےکے درمیان سوال میں مذکور امور ہوئے ہیں  ، تو آپ  کےلئےیہ جائز نہیں  ہےکہ آپ اپنے شوہر کو اپنے نفس (ہمبستری وغیرہ کےلئے ) پر قدرت دے،بلکہ کسی طرح اپنے شوہر(لڑکے کےوالد )سے طلاق یا خلع لے کر علیحدہ ہوجائے۔

مزید یہ کہ شوہر کی جانب سے دو بیویوں کے درمیان عدل و انصاف نہ برتنا شرعی طور پر سنگین گناہ ہے۔ لہٰذاشوہر پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے گڑگڑاکر توبہ و استغفار کرے۔

حوالہ جات

«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (3/ 222):

«ولو أقر بالتقبيل وأنكر الشهوة ولم يكن انتشار في بيوع الأصل والمنتقى يصدق. وفي مجموع النوازل: لا يصدق لو قبلها على الفم. قال صاحب الخلاصة: وبه كان يفتي الإمام خالي. وقال القاضي الإمام: يصدق في جميع المواضع، حتى رأيته أفتى في المرأة إذا أخذت ذكر الختن في الخصومة فقالت كان عن غير شهوة أنها تصدق اهـ.ولا إشكال في هذا، فإن وقوعه في حالة الخصومة ظاهر في عدم الشهوة، بخلاف ما إذا قبلها منتشرا فإنه لا يصدق في دعوى عدم الشهوة. والحاصل أنه إذا أقر بالنظر وأنكر الشهوة صدق بلا خلاف، وفي المباشرة إذا قال بلا شهوة لا يصدق بلا خلاف فيما أعلم، وفي التقبيل إذا أنكر الشهوة اختلف فيه، قيل لا يصدق لأنه لا يكون إلا عن شهوة غالبا فلا يقبل إلا أن يظهر خلافه بالانتشار ونحوه، وقيل يقبل، وقيل بالتفصيل بين كونه على الرأس والجبهة والخد فيصدق أو على الفم فلا، والأرجح هذا إلا أن الخد يتراءى إلحاقه بالفم.»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 35):

«قال في الذخيرة، وإذا قبلها أو لمسها أو نظر إلى فرجها ثم قال لم يكن عن شهوة ذكر الصدر الشهيد أنه في القبلة يفتى بالحرمة، ما لم يتبين أنه بلا شهوة وفي المس والنظر لا إلا إن تبين أنه بشهوة؛ لأن الأصل في التقبيل الشهوة بخلاف المس والنظر،... ومنهم من فصل في القبلة فقال إن كانت على الفم يفتى بالحرمة، ولا يصدق أنه بلا شهوة، وإن كانت على الرأس أو الذقن أو الخد فلا إلا إذا تبين أنه بشهوة وكان الإمام ظهير الدين يفتي بالحرمة في القبلة مطلقا، ويقول لا يصدق في أنه لم يكن بشهوة .»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 37):

«(وإن ادعت الشهوة) في تقبيله أو تقبيلها ابنه (وأنكرها الرجل فهو مصدق) لا هي (إلا أن يقوم إليها منتشرا) آلته (فيعانقها) لقرينة كذبه أو يأخذ ثديها (أو يركب معها) أو يمسها على الفرج أو يقبلها على الفم قاله الحدادي وفي الفتح يتراءى إلحاق الخدين بالفم،....‌لأنه ‌ينكر ‌ثبوت ‌الحرمة ‌والقول ‌للمنكر، وهذا ذكره في الذخيرة في المس لا في التقبيل كما فعل الشارح فإنه مخالف لما مشى عليه المصنف أو لا من أنه في التقبيل يفتى بالحرمة ما لم يظهر عدم الشهوة،»

 «حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 32):

«(قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: ‌أراد ‌بحرمة ‌المصاهرة ‌الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ.»

«الدر المختار»  (3/ 37) :

وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح، حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة.

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

26/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب