| 88202 | خرید و فروخت کے احکام | دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت |
سوال
مشتری نے ایک زمین خریدی، جو کہ 40 فٹ لمبی اور 50 فٹ چوڑی تھی، لیکن بائع نے بعد میں یہ دھوکہ دیا کہ میرے پاس یہاں زمین کچھ کم ہے، لہذا میں آپ کو ایک دوسری جگہ زمین دیتا ہوں، جو کہ بیس فٹ ہے، مشتری نے اس خیال سے اس بیس فٹ زمین کو قبول کیا کہ اس کے پاس اور زمین نہیں ہے(ایک عرصہ کے بعد معلوم ہوا کہ اصل جس زمین کی بیع ہوئی ہے، اسی جگہ بائع کی وہ زمین موجود ہے) بقیہ30فٹ زمین بائع کی طرف باقی تھی، اس میں سے روڈ کی جانب سےبارہ فٹ (بائع نے کہا یہ حکومت کی جگہ ہے، جبکہ اس میں دس فٹ حکومت کی اور دو فٹ بائع کی تھی) چھوڑ کر 18فٹ جگہ بائع نے مشتری کو اسی جگہ سے سپرد کر دی جو اس نے پہلے بیچی تھی، لیکن مشتری نےدوسری جانب اٹھارہ کے ساتھ مزید بتیس فٹ پر قبضہ کر کے اس کو اپنی زمین کے ساتھ ملا لیا، کیونکہ بائع نے یہاں سے بیس فٹ دینے کاوعدہ کیا تھا، جبکہ بائع نے مشتری کو اٹھارہ فٹ دیا اور روڈ کی جانب والی زمین چونکہ کافی مہنگی تھی اور معاہدہ میں روڈ تک زمین کی خریدوفروخت کی تصریح کی گئی تھی، اس لیے مشتری نے اس جانب کے دو فٹ کے عوض دریائے سندھ کی جانب سے بتیس فٹ پر قبضہ کیا اور مشتری نے اس جگہ پر مکان بھی بنا لیا، جس زمانے میں اس نے مکان بنایا تھا اس وقت بائع خود موجود تھا، اس وقت بائع نے کسی قسم کا دعوی نہیں کیا، تقریباً 15، 20سال بعد بائع کے ورثاء اس مذکورہ بتیس فٹ جگہ اور جو روڈ کی طرف خالی جگہ تھی، اس میں دعوی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ روڈ کی طرف والی جگہ ہماری ہے۔ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ خالی جگہ حکومت کی ہے، لہذا یہ ہماری ہونی چاہیے، کیونکہ ہم نے آپ کو یہ جگہ نہیں بیچی، حالانکہ بیع کرتے وقت روڈ تک زمین کی حدود بیان کی گئی تھی، نیز بقیہ دس فٹ زمین ابھی تک مشتری کو نہیں دی گئی اب سوالات درج ذیل ہیں:
- مشتری نے دو فٹ زمین کے عوض جس بتیس 32 فٹ زمین پر قبضہ کیا تھا اس کا قبضہ صحیح ہے یا نہیں؟ جبکہ روڈ کی طرف سے دوفٹ کی قیمت پچھلی جانب والی بتیس فٹ زمین کی قیمت سے بھی زیادہ تھی اور بائع نے اپنی زندگی میں اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
- بائع نے جو دھوکہ دیا کہ بیچی گئی زمین میرے پاس نہیں ہے، حالانکہ زمین اس کے پاس موجود تھی، کیا مشتری
خریدی گئی اصل زمین کا دعوی کر سکتا ہے؟ کیونکہ اس زمین کی قیمت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے، جبکہ مشتری نے پہلی زمین بائع سے وصول کر کے آگے بیچ بھی دی ہے۔
- بعد میں مشتری نے روڈ کی جانب بارہ فٹ زمین پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جس میں دس فٹ حکومت کی اور دو فٹ بائع کی ہے، کیا اس کا یہ قبضہ کرنا شرعاًجائز ہے؟
- جو دس فٹ ابھی تک بائع کے پاس باقی ہیں، مشتری ان کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ بقیہ دس فٹ کے عوض مشتری کو کوئی جگہ نہیں دی گئی۔
وضاحت: مشتری اور بائع دونوں فوت ہو چکے ہیں، البتہ مشتری کے پاس فائل اور اسٹامپ پیپر ہے، جس پر گواہوں کے دستخط بھی ہیں، مگر وہ دونوں گواہ بھی فوت ہو چکے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
-
صورتِ مسئولہ میں اگر روڈ کی جانب سے دو فٹ زمین کی قیمت دریائے سندھ کی جانب سے بتیس (32) فٹ زمین کی قیمت کے برابر تھی تو اس صورت میں مشتری کا اپنے حق کے عوض اس زمین پر قبضہ کرنا درست تھا، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہ اصول لکھا ہے کہ آدمی اپنا حق کسی بھی جائز طریقہ سے وصول کر سکتا ہے، لہذا اب بائع کے ورثاء کا مشتری کے ورثاء سے اس زمین کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 501) الناشر: دار الفكر-بيروت:
في المجتبى لرب المال مسك مال المديون رهنا بلا إذنه، وقيل إذا أيس فله أخذه مكان حقه قضاء عن دينه وأقره المصنف.
قال ابن عابدين:وفي البزازية: صاحب الدين ظفر بغير جنس حقه من مال مديونه لا يحبسه رهنا إلا برضا مديونه اهـ فتأمل.
[فرع] رجل دخل خانا فقال له صاحب الخان لا أدعك تنزل ما لم تعطيني رهنا فدفع إليه ثيابه فهلكت عنده، إن رهنها بأجر البيت فالرهن بما فيه، وإن أخذ منه لأجل أنه سارق أو خفي عليه فإنه يضمن.
قال أبو الليث: وعندي لا ضمان في الوجهين لأنه غير مكره في الدفع خلاصة (قوله وقيل إذا أيس إلخ) كذا عبر في المنح: وظاهره أنه من غير جنس حقه، وإلا فلو من جنسه فله أخذ قدر حقه منه بلا كلام ولا وجه لحكايته بقيل. على أنا قدمنا في كتاب الحجر عن
المقدسي عن بعضهم أن الفتوى اليوم على جواز الأخذ مطلقا.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 193) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:
وظاهر قول أصحابنا أن له الأخذ من جنسه مقرا كان أو منكرا له بينة أو لا ولم أر حكم ما إذا لم يتوصل إليه إلا بكسر الباب ونقب الجدار وينبغي أن له ذلك حيث لا يمكنه الأخذ بالحاكم، وإذا أخذ غير الجنس بغير إذنه فتلف في يده ضمنه ضمان الرهن كما في غصب البزازية ولم أر حكم ما إذا ظفر بمال مديون مديونه والجنس واحد فيهما وينبغي أن يجوز.
-
بائع کا مشتری کو یہ کہہ کر دھوکہ دینا ہرگز جائز نہیں تھا کہ میرے پاس یہاں زمین نہیں ہے یا مطلوبہ مقدار سے کم ہے، کیونکہ جب بائع نے وہ زمین بیچ دی تو وہ مشتری کی ملکیت ہو گئی، اس کے بعد بائع کی ذمہ داری تھی کہ وہی زمین مشتری کے سپرد کرتا، لیکن جب اس نے ایسا نہیں کیا، بلکہ دھوکہ دے کر دوسری جگہ مشتری کو زمین دی تو اگرچہ بائع ایسا کرنے سے شرعاً گناہ گار ہوا، لیکن جب مشتری نے اپنی رضامندی سے بدلے میں دوسری جگہ پر واقع بیس فٹ زمین پر قبضہ کر لیا تو مقاصا (واجب شدہ چیز کے عوض دوسری چیز دینا)کے طور پر اس بیس فٹ زمین میں خریدوفروخت کا معاملہ شرعاً درست ہو گیا، اس لیے اب مشتری کے ورثاء کو اس بیس فٹ کے عوض پہلی زمین کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہے، خصوصا جبکہ مشتری اس بیس فٹ زمین کو آگے فروخت کر چکا ہے۔
یاد رہے کہ اس میں مشتری کے ورثاء کو خیارِ تغریر بھی نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ مشتری کو خیارِ تغریر اس وقت ملتا ہے جب صلبِ عقد معاوضہ میں تغریر کا تحقق ہو، جبکہ یہاں بائع نے خریدوفروخت کا معاملہ مکمل ہوجانے کے بعد صرف اخبارِ کاذب کا ارتکاب کیا ہے، فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات میں اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سے کہے کہ میں غلام ہوں میرے مولی سے مجھے خرید لو، وہ شخص خرید لے اور پھر معلوم ہو کہ یہ تو آزاد شخص تھا تو ایسی صورت میں اگر بائع حاضر ہو یا اس کا علم ہو کہ وہ کہاں ہے؟ تو یہ کہنے والا شخص ضامن نہیں ہو گا اور اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ اس نے محض اخبارِ کاذب کا ارتکاب کیا ہے۔
درر الحكام شرح مجلة الاحكام لعلي حيدر (370/1) دارالجيل، بيروت:
(المادة 358) إذا مات من غرّر بغبن فاحش لا تنتقل دعوى التغرير لوارثه؛ لأن خيار الغبن والتغرير لا يورث سواء كان المغبون البائع وسواء كان المشتري؛ لأن خيار الغبن والتغرير هو من الحقوق المجردة التي تثبت للبائع وللمشتري؛ ولذلك لا تورث ولا تنتقل.
مثال ذلك: إذا باع شخص في صحته داره المعلومة بثمن معلوم وبعد تسليمها للمشتري توفي البائع؛ فلا تسمع دعوى ورثته من أن البيع المذكور وقع بالتغرير والغبن الفاحش.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 67) الناشر: دار احياء التراث العربي – بيروت:
قال: "ومن اشترى عبدا فإذا هو حر وقد قال العبد للمشتري اشترني فإني عبد له، فإن كان البائع حاضرا أو غائبا غيبة معروفة لم يكن على العبد شيء، وإن كان البائع لا يدرى أين هو رجع المشتري على العبد ورجع هو على البائع وإن ارتهن عبدا مقرا بالعبودية فوجده حرا لم يرجع عليه على كل حال". وعن أبي يوسف رحمه الله أنه لا يرجع فيهما لأن الرجوع بالمعاوضة أو بالكفالة والموجود ليس إلا الإخبار كاذبا فصار كما إذا قال الأجنبي ذلك أو قال العبد ارتهني فإني عبد وهي المسألة الثانية. ولهما أن المشتري شرع في الشراء معتمدا على ما أمره وإقراره أني عبد، إذ القول له في الحرية فيجعل العبد بالأمر بالشراء ضامنا للثمن له عند تعذر رجوعه على البائع دفعا للغرور والضرر، ولا تعذر إلا فيما لا يعرف مكانه.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (5/ 507) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:
ذكر شيخ الإسلام في أول صلح «الجامع» إذا قال الرجل لغيره: اسلك هذا الطريق، فإنه آمن فسلك، وأخذه اللصوص؛ لا يضمن، ولو قال: إن كان مخوفا وأخذ. مالك، فأنا ضامن، وباقي المسألة بحالها يضمن.
-
روڈ کی جانب بارہ فٹ کی زمین پر مشتری کے قبضہ کرنے کا حکم یہ ہے کہ اس زمین میں سے دو فٹ زمین چونکہ بائع کی ہے اور یہ وہی زمین ہے جو بائع نے شروع میں مشتری کو بیچی تھی اور اس زمین میں سے دس فٹ کی زمین بائع کے ذمہ باقی تھی، جس کی ادائیگی زندگی میں نہیں کی گئی تھی، اس لیے اگر اس دو فٹ زمین کی قیمت بقیہ دس فٹ زمین کی قیمت کے برابر ہو تو مشتری کا اپنا حق وصول کرنے کے لیے اس دو فٹ کی زمین پر قبضہ کرنا جائز ہے، لیکن اگر اس کی قیمت دس فٹ سے زیادہ ہو تو زائد قیمت مشتری کے ورثاء کے ذمہ بائع کے ورثاء کو ادا کرنا ضروری ہے اور اگر اس کی قیمت کم ہو تو مزید زمین یا اس کے برابر قیمت مشتری کے ورثاء بائع کے ورثاء سے وصول کر سکتے ہیں۔
جہاں تک بقیہ دس فٹ زمین پر قبضہ کرنے کا تعلق ہے تو وہ زمین چونکہ حکومت کی ملکیت ہے، اس لیے اس زمین پر مشتری کا قبضہ کرنا کسی صورت بھی جائز نہیں، اس پر شرعاً غصب کے احکام جاری ہوں گے، جس کی وجہ سے مشتری گناہ گار ہوا ہے، لہذا اب مشتری کے ورثاء کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ دس فٹ زمین پر قبضہ چھوڑ دیں، تاکہ روڈ کے ساتھ پیدل چلنے والوں اور ضرورت کے وقت گاڑیوں کے گزرنے کے لیے جگہ خالی رہے۔ کیونکہ حدیثِ پاک میں زمین پر ناجائز قبضہ کرنے پر سخت وعیدیں آئی ہیں، چنانچہ صحیح بخاری شریف(3/130) کی حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
«من ظلم من الأرض شيئا طوقه من سبع أرضين»
ترجمہ:جس شخص نے کسی كی زمین کے کسی حصے پر ناحق قبضہ کیا تو (قیامت کے دن) سات زمینوں تک اس کا طوق بنا کر اس کے گلے ميں ڈالا جائے گا۔
سنن الدارقطني (3/ 425) مؤسسة الرسالة، بيروت – لبنان:
عن أبي وائل , عن عبد الله , قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «حرمة مال المؤمن كحرمة دمه»
مسند إسحاق بن راهويه (4/ 167) مكتبة الإيمان - المدينة المنورة:
قال معمر وقال قتادة: في قوله: {وتدلوا بها إلى الحكام} [البقرة: 188] قال: «لا تخاصم صاحبك وأنت ظالم له، فإن قضاءه لا يحل لك شيئا حرمه الله عليك»
-
بائع نے چونکہ مکمل پچاس فٹ زمین کے پیسے وصول کیے تھے اس لیے اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ مکمل زمین مشتری کے سپرد کرتا، لیکن چونکہ اس نے زندگی میں یہ دس فٹ زمین مشتری کو نہیں دی تو اب حکم یہ ہے کہ سوال نمبر3کے جواب میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق مشتری نے روڈ کی جانب جس دو فٹ زمین پر قبضہ کیا ہے اگر وہ دیگر اطراف کی جانب میں واقع زمین کے دس فٹ کی مالیت کے برابر ہے تو اس صورت میں مشتری اپنا حق وصول کر چکا ہے، البتہ اگر دوسری جانب کی زمین دیگر اطراف کی زمین سے کم وبیش ہو تو اس کے حساب سے فریقین تصفیہ کر سکتے ہیں۔جیسا کہ سوال نمبر3 کے جواب میں تفصیل گزر چکی ہے۔
مجلة الأحكام العدلية (ص: 240) كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
المادة: (1248) أسباب التملك ثلاثة: الأول , الناقل للملك من مالك إلى مالك آخر كالبيع والهبة. الثاني: أن يخلف أحد آخر كالإرث. الثالث: إحراز شيء مباح لا مالك له.
حوالہ جات
۔۔۔۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
27/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


