03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا وقف شدہ زمین ترکہ میں شمار ہوتی ہے ؟
88216وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

ایک آدمی نے حکومت کو اپنی زمین میں ٹیوب ویل اور اسکول بنانے کی اجازت اس شرط پر دی کہ اس پر میرے بیٹوں کو نوکری دی جائے گی  اور حکومت نے اس کی شرط قبول کر لی ۔ اس واقف کا انتقال ہوگیا ،  اب یہ موقوفہ زمین ترکہ میں شمار ہوگی یا نہیں؟

تنقیح : سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ حکومت نے مفاد عامہ کی خاطر  سکول اور ٹیوب ویل بنانے کے لئے زمین مانگی تھی اور اس شخص نے یہ شرط لگائی کہ میرے بیٹوں کو اس سکول میں نوکری دی جائے اور زمین حوالہ کردی ، سائل کے بقول اس شخص کے بیٹوں کو نوکری بھی دی گئی ہے ، نیز حکومت نے اسکول اور ٹیوب ویل بنادیا ہے جس سے عوام مستفید ہورہے ہیں ۔سائل یہ نہیں بتا سکا کہ وقف کے الفاظ کہے تھے یا نہیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جواب سے پہلے بطورِ تمہید یہ سمجھ لیں کہ اگرچہ حکومت کو زمین دینا بذاتِ خود وقف نہیں کہلاتا، لیکن اگر دینے والے نے زمین کو مستقل طور پر عوامی مفاد کے لیے اس نیت سے دیا ہو کہ وہ رجوع نہیں کرے گا، تو عرف اور قرائن کی بنیاد پر ایسی زمین کو شرعاً وقف مانا جائے گا۔ نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ زمین وقف کرتے وقت اگر وقف کرنے والا وقف سے متعلق کوئی جائز شرط لگانا چاہے، تو شریعت نے اس کی اجازت دی ہے، جیسے: جہتِ وقف کا تعیین، متولی کی شرائط اور اس کی تعیین وغیرہ۔ اور پھر وقف ہو جانے کے بعد متولیِ وقف پر ان شرائط کی پابندی لازم ہو گی، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اصول لکھا ہے: "شرطُ الواقفِ كنصِّ الشارعِ"۔ یعنی واقف کا وقف میں کوئی شرط لگانا، شارع علیہ السلام کے حکم کی طرح ہے۔ جس طرح شارع علیہ السلام کے حکم کی مخالفت جائز نہیں، اسی طرح واقف کی طرف سے وقف میں لگائی گئی شرط کی مخالفت بھی جائز نہیں، بشرطیکہ وہ شرط شریعت کے خلاف نہ ہو۔

صورتِ مسئولہ میں اس شخص نے اپنی زمین حکومت کو دی، جس پر حکومت نے بچوں کی تعلیم کے لیے سکول اور عوام کے فائدے کے لیے ٹیوب ویل تعمیر کیا۔ اگرچہ صراحتاً "وقف" کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا، لیکن زمین مفت تعلیم اور پانی جیسے مفادات کے لیے دی گئی، حکومت نے اس پر قبضہ بھی کر لیا اور مستقل عمارتیں تعمیر کر دیں، اس لیے یہ سب باتیں عرفاً وقف ہی پر دلالت کرتی ہیں۔ لہٰذا یہ زمین وقف شمار ہو گی، اور وقف جب درست اور صحیح ہو جائے تو موقوفہ چیز قیامت تک کے لیے واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کی خرید و فروخت کرنا، ہبہ کرنا، کسی کو مالک بنانا، اور اس کو وراثت میں تقسیم کرنا، یا اس سے کسی بھی قسم کا ایسا فائدہ اٹھانا جو وقف کی جہت کے خلاف ہو، جائز نہیں۔ واقف نے جس جہت اور مقصد کے لیے وقف کی ہو، اس کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جو زمین واقف نے اپنی زندگی میں سکول اور ٹیوب ویل کے لیے وقف کر دی، وہ تاقیامت وقف ہی رہے گی، ترکہ میں شامل نہیں کی جائے گی۔

رہی بات اس میں بیٹوں کے لیے نوکری کی شرط لگانے کی، تو حکومت کی طرف سے اس نوکری کے لیے جو معیار ہے، اگر واقف کے بیٹے اس معیار پر پورے اترتے ہیں، تو ان کے لیے یہ نوکری کرنا اور تنخواہ لینا بھی جائز ہے۔ اور اگر واقف کے بیٹے اس نوکری کے معیار پر پورے نہیں اترتے، تو ان کے لیے یہ نوکری لینا جائز نہیں۔

حوالہ جات

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 265) دار الكتاب الإسلامي: وإنما الكلام الآن في شروط الواقفين فقد أفادوا هنا أنه ليس كل شرط يجب اتباعه فقالوا هنا إن اشتراطه أن لا يعزله القاضي شرط باطل مخالف للشرع وبهذا علم أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع ليس على عمومه قال العلامة قاسم في فتاواه أجمعت الأمة أن من شروط الواقفين ما هو صحيح معتبر يعمل به ومنها ما ليس كذلك ونص أبو عبد الله الدمشقي في كتاب الوقف عن شيخه شيخ الإسلام: قول الفقهاء: نصوصه كنص الشارع يعني في الفهم والدلالة لا في وجوب العمل مع أن التحقيق أن لفظه ولفظ الموصي والحالف والناذر وكل عاقد يحمل على عادته في خطابه ولغته التي يتكلم بها وافقت لغة العرب ولغة الشرع أم لا ولا خلاف أن من وقف على صلاة أو صيام أو قراءة أو جهاد غير شرعي ونحوه لم يصح. اهـ.

وفی الفتاوى الهندية (2/ 350): وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد، فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث، كذا في الهداية. وفي العيون واليتيمة: إن الفتوى على قولهما، كذا في شرح أبي المكارم للنقاية

حاشية ابن عابدين (4/ 348) : (ولا يتم) الوقف (حتى يقبض) لم يقل للمتولي لأن تسليم كل شيء بما يليق به ففي المسجد بالإفراز وفي غيره بنصب المتولي وبتسليمه إياه ابن كمال (ويفرز) فلا يجوز وقف مشاع يقسم خلافا للثاني (ويجعل آخره لجهة) قربة (لا تنقطع) هذا بيان شرائطه الخاصة على قول محمد،» لأنه كالصدقة، وجعله أبو يوسف كالإعتاق واختلف الترجيح، والأخذ بقول الثاني أحوط وأسهل بحر وفي الدرر وصدر الشريعة وبه يفتى وأقره المصنف.

حاشية ابن عابدين (4/ 340) : مطلب قد يثبت الوقف بالضرورة (قوله وركنه الألفاظ الخاصة) وهي ستة وعشرون لفظا على مابسطه في البحر، ومنها ما في الفتح حيث قال: فرع يثبت الوقف بالضرورة وصورته أن يوصي بغلة هذه الدار للمساكين أبدا أو لفلان وبعده للمساكين أبدا فإن الدار تصير وقفا بالضرور.

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

27/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب