| 88208 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
دو ماہ قبل میری شادی میرے کزن سے ہوئی، پہلی رات سے ہی شوہر نے مجھے نفسیاتی طور پر ٹارچر کرنا شروع کیا کہ میں نے کسی اور لڑکی سے شادی کرنی تھی، تو مجھ سے عمر میں بڑی ہے ،میرے تو اور رشتے تھے ، وقتا فوقتا اس طرح کی باتیں کرتےتھے ۔ ایک مرتبہ میرا بازو مروڑا میرے ہاتھ پر نشان پڑ گیا میری والدہ نے پوچھا میں نے نہیں بتایا، پھر میری بہن کو پتا چلا تو کچھ احوال اس کے پوچھنے پر میں نے بتائے کہ وہ لوگ مجھے ایسا ایسا کہتے ہیں ۔
ایک دن عشاء کے بعد تقریبا 30:/10 10:45بجے میں والد کے گھر سے اپنے گھر واپس گئی، میرے شوہر سورہے تھے، میں بھی جا کر سوگئی ۔اگلے دن صبح شدید غصہ کی حالت میں تھے، پہلے اپنی ماں سے پوچھا کہ یہ رات کس وقت واپس آئی تھی ؟ مجھے معلوم نہیں کہ میری ساس نے ان کو کیا کہا، پھر کمرے میں آکر مجھے شدید غصے کی حالت میں کہا " باپ کے گھر سو جایا کر مجھ سے تو فارغ ہے " مجھے ان الفاظ کا حکم معلوم نہیں تھا ۔
میرے شوہر ان الفاظ سے منحرف ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ الفاظ نہیں تھے ،میں نے کہا تھا کہ ہم رات کے وقت فری ہوتے ہیں وہاں سو جایا کر، جبکہ یہ جھوٹ ہے ، وہ اس وقت شدید غصے میں تھے، مجھے خود کہتے بھی تھے کہ جب میں غصے میں ہوتا ہوں تو مجھے کچھ معلوم نہیں ہوتا ، اب وہ انہی الفاظ پر مصر ہے اور کہتا ہے نیت طلاق کی نہیں تھی اور میرے سسر نے میرے بھائی کو کہا کہ اس نے دھمکی دی ہوگی، خود اس (شوہر) نے میرے بھائی کو کہا کہ جب مسئلہ پوچھنے کی بات آئی تو آپ کی بہن نے مجھے کہا کہ اگر یہ الفاظ نہیں تھے تو قسم اٹھاؤمیں نے قسم نہیں اٹھائی آپ کی بہن نے بھی نہیں اٹھائی جبکہ یہ صراحتا جھوٹ ہے قسم کی بات ہی نہیں ہوئی یہی بات ہوئی تھی کہ جاؤ بھائی سے پوچھو پھر جب میں پوچھ کر گئی تو مجھے کہا کیوں گئی تھی ؟حالانکہ خود پوچھنے کا کہا تھا ۔
میں تو اب بھی اپنے الفاظ پر قسم اٹھارہی ہوں اور میں نے اسی بھائی کے سامنے یہ الفاظ قسم کے ساتھ بولے ،اب 20 دن بعد انہیں پتا چلا تو اب کہتے ہیں چلو میں بھی قسم اٹھالیتا ہوں، ادھر میرے بھائی کو کہتے ہیں مجھے قسم اٹھانے کی عادت نہیں ہے یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر آپ بہن کی بات کو لیتے ہو تو پھر بھی شریعت نے اگلا حل رکھا ہے نکاح کر دو، ہمارے قرب وجوار میں ایک دو جگہ طلاق بائن ہوئی یہ میرے بھائی کو ان کی مثال بھی دیتے ہیں کہ دیکھو ان کا بھی تو دو بار و نکاح ہو گیا کسی کو کہتے ہیں کہ میری نیت نہیں تھی۔
یہ ساری باتیں سامنے ہیں میرے شوہر کے سارے جھوٹ سب خاندان کے سامنے ہیں کوئی ایک بات نہیں ہے، کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ، جبکہ شوہر کے والد کہتے ہیں :اگر اس نے لاعلمی میں کہ بھی دیا تو شریعت نے اگلا حل بھی رکھا ہے ، اس نے اپنے والد اور بہن بھائی کو سب کچھ بتایا ہوا ہے، لیکن معاشرے میں شرمساری کی وجہ سے اب ہیرا پھیری سے کام لے رہے ہیں ، کہیں سے مسئلہ پوچھتے ہیں تو اس میں اپنے الفاظ کے ساتھ غصے کاتذکرہ نہیں کرتے ، جبکہ میں پہلے دن سے ہی اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتی ہوں کہ اپنے الفاظ پر سو فیصد مطمئن ہوں ، ان حالات میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ دو چیزوں میں رہنمائی فرمائیں:
۱۔کہ میری قسم کے مطابق شدید غصے میں ان الفاظ سے " باپ کے گھر سو جایا کر مجھ سے تو فارغ ہے طلاق ہوئی یا نہیں ، اگر ہوئی ہے تو کون سی ؟ تاکہ آئندہ کے لئے کوئی شرعی دشواری نہ ہو۔
۲۔ مذکورہ بالا حقیقت پر مبنی حالات کے بعد شوہر اپنا بیان بدل رہے ہیں، تو شریعت کی روشنی میں میرے لیے کیا حکم ہے ؟ اس حوالے سے بھی راہنمائی فرمائیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔ اگر واقعی شوہرنے اپنی بیوی کوغصہ میں یہ الفاظ" باپ کے گھر سو جایا کر، مجھ سے تو ویسے فارغ ہے "کہے ہےتو اس کا حکم یہ ہے کہ ان الفاظ سے بیوی پر ایک طلاق ِ بائن واقع ہوگئی ہے؛کیونکہ یہ الفاظ ہمارے عرف میں ان کنایاتِ طلاق میں سے ہیں جو صرف جواب کا احتمال رکھتے ہیں،لہٰذا ن الفاظ سے غصے اور مذاکرہ طلاق کے وقت بغیر نیت کے طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے۔
۲۔شوہر نے بیوی کوجس وقت مذکورہ جملہ کہا ،وہاں موقع پر اگر گواہ موجود ہوں ،جو اس بات پر گواہی دیں تو طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی ،گواہوں میں تفصیل یہ ہے کہ عورت کے علاوہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں،اور اگر گواہ نہ ہوں تو شوہر سے قسم لی جائے گی،اگر وہ قسم اٹھانے سے انکار کردے تو طلاق واقع سمجھی جائے گی،اور اگر وہ مذکورہ جملہ کہ نہ کہنے پرقسم اٹھالے تو ظاہراً تو شوہر کے حق میں فیصلہ ہوگا، لیکن دیانۃً طلاق کے ثبوت اور واقع ہونے کے لیے عورت کا خود سننا بھی کافی ہے ،اس معاملے میں وہ خود قاضی کے حکم میں ہے، لہذااگر بیوی کو اس بات کا یقین ہے کہ شوہر نے مذکورہ الفاظ غصے میں کہے ہیں تو چونکہ مذکورہ الفاظ سے ایک طلاق بائن واقع ہوئی ، لہذا دیانت کی رو سےبیوی کا اب شوہر کے ساتھ رہنا شرعا جائز نہیں ،اس کو چاہیئے کہ شوہر کو کچھ دے دلاکر طلاق پر راضی کردے اور اگر وہ طلاق نہ دے اور بیوی راضی ہو تو تجدید نکاح کرلےبغیر تجدید نکاح کے اس ساتھ نہ رہے۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية(1/ 374):
(الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم
الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 305):
قال في الفتح: والتأكيد خلاف الظاهر، وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه.
عمار بن عبد الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
27/محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عماربن عبدالحق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


