03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹے اور بیٹی کے ہوتے ہوئے باپ شریک بہن کو میراث میں حصہ نہیں ملے گا
88228میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

دوسرا سوال  اس کنواری لڑکی کی سگی بہن (جو صاحبِ اولاد تھی،یعنی اس کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے)  کی میراث کے حوالے سے ہے کہ وہ کیسے تقسیم ہوگی،کیونکہ بعد میں وہ بھی فوت ہوگئی،کیا اس کی باپ شریک بہن کو اس کی میراث میں سے حصہ ملے گا یا نہیں؟ براہ کرم شرعی اصول کے مطابق مکمل اور واضح جواب عنایت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ کا ترکہ کل تین حصوں میں تقسیم ہوگا،جس میں سے دو حصے اس کے بیٹے کو ملیں گے اور ایک حصہ اس کی بیٹی کو ملے گا ،جبکہ اس کی باپ شریک بہن کومذکورہ صورت میں اس کی میرا ث میں سے حصہ نہیں ملے گا۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية" (6/ 448):

"وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في الاختيار شرح المختار وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

27/محرم1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب