| 88218 | پاکی کے مسائل | وضوء کے نواقض یعنی وضوتوڑنے والی چیزوں کا بیان |
سوال
مجھے کافی عرصہ سے ایک مسئلہ درپیش ہے کہ میرے عضو تناسل(Penis) پر 24 گھنٹے مادہ(fluid)رہتا ہے۔ اب مجھے اس بات کا علم نہیں کہ یہ پیشاب کے راستے سے آتا ہے یا پھر جلد سے، لیکن 60 سے 70 فیصد تک لگتا ہے کہ یہ جلد سے خارج ہوتا ہے۔ یہ مادہ کپڑوں کو بھی خراب نہیں کرتا،نیز اس مادہ اور جو احتلام میں مادہ جسم سے خارج ہوتا ہے،دونوں میں فرق ہوتا ہے۔ اس مادہ میں چپکنے کی صلاحیت نہیں ہوتی اور یہ ہر وقت خارج ہوتا رہتا ہے،یہاں تک کہ اگر میں ابھی عضو تناسل کو اچھی طرح سے صاف کروں تو پانچ منٹ کے اندر ہی یہ مادہ جسم پر دوبارہ آ جائے گا۔ اس سلسلے میں میرے لیے کیا احکامات ہیں؟ اور اس حالت میں کیسے میں وضو کروں؟
نوٹ : سائل نے فون پر بتایا کہ یہ رطوبت جلد سے نکلتی ہے اور بہنے کے قابل ہوتی ہے ،دو سے تین گھنٹے کے درمیان مجھے صاف کرنا پڑتا ہے اور اس سے کپڑے خراب نہیں ہوتے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق جب آپ کا غالب گمان یہی ہے کہ یہ مادہ اور رطوبت عضوِ تناسل کی جلد سے نکلتی ہے تو اس صورت میں اس کا حکم یہ ہے کہ نکلنے والا پانی جب اتنا ہےکہ اسے چھوڑ دیا جائے تو وہ بہہ جائے، یا بار بار کسی چیز سے صاف کرنے کی وجہ سے مجموعی طور پر اتنا نکل جائے کہ وہ اپنی جگہ سے بہنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا،اور اس صورت میں چونکہ یہ مادہ و رطوبت ناپاک ہوگی، اس لیے کپڑے یا جسم میں جس جگہ پر یہ لگےتو اسے پاک کرنا ضروری ہوگا، لیکن اگر ایک درہم یا اس سے کم مقدار میں یہ کپڑے یا جسم پر لگا رہ گیا اور نماز ادا کرلی تو نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی،جبکہ معلوم ہوتے ہوئے اور پاکی کا انتظام ہوتے ہوئے اتنی مقدار کو بھی پاک کرلینا چاہیے۔
لہذا صورت ِ مسولہ میں ہرنماز کےلیے طہارت کا مکمل اہتمام کرتے ہوئےنماز پڑھیں ، اور اگر نماز کے درمیان رطوبت نکل جائے تو وضو اور نماز ٹوٹ جائے گی۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (1/ 305):
وصاحب عذر من به سلس بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أواستحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوى.
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
28/محرم الحرام /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


