03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قادیانی گروپ جائن (Join) کرنے کے بعد احتیاطا تجدیدایمان ور تجدیدِ نکاح کا حکم
88195نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

ایک دن میری فیس بک آئی ڈی پر “Ali Hashmi is member of jamat ahmdiya” لکھا ہوا آر ہا تھا، جبکہ میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے یہ  خودنہیں لکھا تھا، درحقیقت  مجھے مختلف فرقوں کا لٹریچر پڑھنے کا شوق ہے، جس کی وجہ سے میں نے  قادیانیوں کے ایک فیس گروپ کو صرف معلومات لینے کے لیےجائن کیا تو یہ میسج آگیا، پھر جب میں نے گھر والوں اور رشتہ داروں کے کہنے پر اس گروپ کو چھوڑ دیا تو وہ میسج ختم ہو گیا، نیزمیں حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ میں مرزا قادیانی کو جھوٹا، کذاب اور کافر سمجھتا ہوں، میں نے پہلے اس فتنے کے بارے میں کچھ لٹریچر پڑھا تھا، جس کی وجہ سے میرے خیال میں یہ ایک عالمِ دین تھا اور میرے خیال میں ہمارا اس سے اختلاف صرف ختم نبوت کے مسئلہ میں تھا، لیکن جب اس کی کتابیں دکھائی گئیں تو مجھے اس کے کفر کا اور بھی یقین ہو گیا،اس کے علاوہ میں نے ان کی رکنیت لینے کے لیے کسی قسم کا قادیانیوں کا فارم فل نہیں کیا۔ لیکن پھر بھی احتیاطا میں نے ایک مفتی صاحب سے گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کروا لیاہے، سوال یہ ہے کیا اب میرا یہ نکاح درست ہے؟ اس سلسلے میں فتوی جاری کر دیجیے،  تاکہ میں یہ فتوی دوسروں کو دکھا سکوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطورتمہیدجاننا چاہیے کہ قادیانی اوراس طرح کاکوئی بھی فرقہ باطلہ (جس کے غلط عقائد کی بناء پر علمائے کرام نے کفر کا حکم لگایا ہو، جیسے آغا خانی، اسماعیلی اور بوہری وغیرہ) کا لٹریچر پڑھنے یا ان کے بارے میں معلومات لینے کے لیے ان کے گروپ میں شامل ہونا، ان کے بیانات سننا اور ان سے سوالات کرنا وغیرہ ایک عام آدمی کے ایمان کے لیے بہت خطرناک ہے، کیونکہ جب آدمی ان کا لٹریچر پڑھتا ہے یا ان کے بیانات سنتا ہے تو اگر آدمی ان کے کسی ایک ایسے عقیدے کو اپنا لے جو اسلام کے قطی اور یقینی عقائد میں سے ہو، جیسے عقیدہٴ ختمِ نبوت، نزول عیسی علیہ السلام، حضرت مریم علیہا السلام کا پاک دامن ہونا اور حضرت عیسی علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا وغیرہ تو آدمی اس ایک عقیدہٴ کفریہ کی وجہ سے دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے، اگرچہ اس شخص کے بقیہ تمام عقائد قرآن وسنت کے مطابق ہوں۔

یہ بھی یاد رہے کہ کسی قطعی اور یقینی عقیدہ میں شک پیدا ہو جانے سے بھی ایمان چلا جاتا ہے، کیونکہ ایمان  دینِ اسلام کے تمام ضروری اور قطعی عقائد کو دل سے تصدیق کرنے کا نام ہے اور شک پیدا ہو جانے سے تصدیق بالجزم (کسی چیز کو یقین کے ساتھ درست قرار دینا) باقی نہیں رہتی، اس لیے ایمان جیسی عظیم دولت بچانے کے لیے  آئندہ کے لیے اس طرح کے فرقہ باطلہ کا لٹریچر پڑھنے سے حتی الامکان پرہیز کرنا ضروری ہے۔

جہاں تک سوال کے جواب کا تعلق ہے تو اگر یہ بات درست ہے کہ آپ قادیانیوں کے فیس بک گروپ میں شامل ہونے کے باوجود ان کو کافر، زندیق اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے تھے اور اور اب بھی ان کے بارے یہی نظریہ رکھتے ہیں اور آپ نے باقاعدہ ان کی رکنیت اختیار نہیں کی تو اس صورت میں آپ کا ایمان بدستور محفوظ تھا، لیکن اس کے بعد آپ نے احتیاطا گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح بھی کر لیا ہے، اس لیے آپ کا نکاح درست ہے اور آپ دونوں میاں بیوی کا اکٹھے رہنا شرعاً جائز ہے۔

حوالہ جات

العقيدة الطحاوية مع الشرح (ص: 108) مكتبة البشرى:

ونسمي أهل قبلتنا مسلمين مؤمنين، ما داموا بما جاء به النبي - صلى الله عليه وسلم  معترفين، وله بكل ما قاله وأخبر مصدقين.

شرح المقاصد في علم الكلام للتفتازاني (2/ 267) دار المعارف النعمانية، باكستان:

المبحث السادس: الكفر عدم الإيمان عما من شأنه وهذا معنى عدم تصديق النبي صلى الله عليه وسلم في بعض ما علم مجيئه به بالضرورة (بالقطع واليقين) والظاهر أن هذا أعم من تكذيبه صلى الله عليه وسلم في شيء مما علم مجيئه به.

المسايرة في علم الكلام للشيخ ابن الهمام(ص:183) المكتبة الملكية، بمصر:

 وأماما ثبت قطعا ولم يبلغ حد الضرورة (الشهرة العامة) كاستحقاق بنت الابن السدس مع الابن بإجماع المسلمين،فظاهر كلام الحنفية الإكفار بجحده؛ لأنهم لم يشترطوا سوى القطع في الثبوت، ويجب حمله على ماإذا علم المنكر ثبوته قطعا؛ لأن مناط التكفير وهو التكذيب.

إكفار الملحدين في ضروريات الدين للشيخ أنور شاه الكشميري(ص: 49) دار الفكر-بيروت:

وظاهر كلامه: تخصيص الكفر بجحد الضروري فقط، مع أن الشرط عندنا ثبوته على وجه القطع، وإن لم يكن ضروريا، بل قد يكون بما يكون استخفافا من قول أو فعل كما مر، ولذا ذكر في "المسايرة" أن ما ينفى الاستسلام، أو يوجب التكذيب فهو كفر.

الفتاوى الحديثية لشیخ الاسلام أحمد بن محمد بن حجر الهيتمي (973ھ) (ص: 141) دار الفكر، بيروت:

 وقوله فما القدر المعلوم من الدين بالضرورة ؟ جوابه : أنه قد سبق ضابطه وهو أن يكون قطعياً مشهوراً بحيث لا يخفى على العامة المخالطين للعلماء بأن يعرفوه بداهة من غير إفتقار إلى نظر واستدلال ، ولذلك مَثَل منها في الاعتقادبوحدانية الله تعالى وتفرُّده بالألوهية وتنزهه عن الشريك وسمات الحادثات كالألوان ، وتفرده باستحقاق العبودية على العالمين وبإيجاد الخلق وحياته وعِلْمه وقدرته وإرادته وإنزاله الكتب وإرساله للرسل ، وأنَّ له عباداً مكرَّمين وهم الملائكة ، وأنه يحيي الموتى ويحشرهم إلى دار الثواب والعقاب ، وأن المؤمنين مُخلَّدون في الجنة والكافرين مُخلَّدون في النار ، وأن العالَم حادث وأنه تعالى محيط بالجزئيات كالكليات ، وغير ذلك من كل خبر نص عليه القرآن والسنة المتواترة نصَّاً لا يحتمل التأويل ، أو اجتمعتْ الأمة على أن ذلك هو معناه وعُلِم من الدين بالضرورة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

28/محرم الحرام1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب