| 88277 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
اگر کسان گندم دوکاندار کے پاس قرض رکھ دے اور پھر چند مہینوں کے بعد قرض کے بدلے میں موجودہ قیمت لے لے تو ایسا کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کسان نے دوکاندار کو غیر مشروط طور پر گندم بطورِ قرض دی، یعنی دیتے وقت یہ شرط نہ لگائی کہ مقررہ مدت پر وہ گندم کے بدلے اس وقت کی قیمت وصول کرے گا، بلکہ یہ اختیار اپنے پاس رکھا کہ وہ یا تو گندم واپس لے گا یا اس وقت کی قیمت،تو ایسی صورت میں یہ معاملہ شرعاً درست ہے۔ کیونکہ اگر بعد میں کسان موجودہ قیمت لے لیتا ہے تو یہ دین (قرض) کی بیع شمار ہوگی، جو فقہاء کے نزدیک جائز ہے۔ البتہ اگر کسان نے گندم دیتے وقت مشروط طور پر یہ کہا کہ وہ مقررہ مدت پر صرف اس وقت کی گندم کی قیمت ہی وصول کرے گا (یعنی گندم واپس نہیں لے گا)، تو ایسی صورت میں یہ شرعاً ناجائز ہے، اس لیے کہ یہ صورت قرض کی ہے، اور قرض میں اصل چیز کا مثل ہی واپس لینے کا حق ہوتا ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار(ص395):
بيع الدين إنما يجوز من المديون.
الجامع الكبير لمحمد بن الحسن» (ص228):
رجال أقرض كرا من طعام ثم باع من المستقرض الكر الذي عليه جاز.
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص430):
(و) فيها (القرض لا يتعلق بالجائز من الشروط فالفاسد منها لا يبطله ولكنه يلغو شرط رد شئ آخر، فلو استقرض الدراهم المكسورة على أن يؤدي صحيحا كان باطلا) وكذا لو أقرضه طعاما بشرط رده في مكان آخر (وكان عليه مثل ما قبض).
المبسوط» للسرخسي (13/ 7):
وجهالة الثمن مفسدة للبيع.
عمار بن عبد الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
28 /محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عماربن عبدالحق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


