| 88209 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے آپ سے فتوی لیاتھاجس کافتوی نمبر65/87797ہے،آپ کےاس فتویٰ نے ہمیں الجھا دیا ہے، جس میں آپ نے وقاص احمد (جو کہ ہمارا بھانجا ہے) کو 6.380208 اور اس کے والد قاسم علی کو 2.734375 حصہ وراثت میں سے دیا ہے، جیسا کہ فتویٰ کے درج ذیل جدول (ٹیبل) سے واضح ہے۔
|
دیگرتفصیل |
فیصدی حصہ |
مورث اعلی سے رشتہ |
زندہ ورثہ |
نمبر شمار |
|
والد اوروالدہ سے |
25.96726٪ |
بیٹا |
اطہرعالم |
1 |
|
والد اوروالدہ سے |
25.96726٪ |
بیٹا |
اشرف عالم |
2 |
|
والد اوروالدہ سے |
12.98363٪ |
بیٹی |
ریحانہ |
3 |
|
والد اوروالدہ سے |
12.98363٪ |
بیٹی |
شاہین |
4 |
|
والد اوروالدہ سے |
12.98363٪ |
بیٹی |
شگفتہ |
5 |
|
بیوی سے |
2.734375٪ |
داماد |
قاسم |
6 |
|
والدہ سے |
6.380208٪ |
نواسا |
وقاص |
7 |
|
|
100٪ |
ٹوٹل: |
||
مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ان بہنوئی سے، بہن کی وفات کے بعد سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ ہماری بہن کی شادی 1990 میں ہوئی تھی اور 1994 میں ان کا انتقال ہو گیا۔موت تو برحق ہے، اور اپنے وقت پر ہی آتی ہے، مگر ہماری بہن کو زندگی میں بہت تکلیف میں رکھا گیا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کا جہیز اور سونا ہمیں واپس نہیں دیا گیا۔ایک پلاٹ جو ہماری بہن کے نام تھا (تقریباً 3 مرلہ)، وہ ان کے انتقال کے بعد ہماری والدہ کے نام ہو گیا تھا، مگر اس پلاٹ کو بھی زبردستی ہم سے لے کر فروخت کر دیا گیا۔انہی وجوہات کی بنا پر ہمارا ان لوگوں سے تعلق مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا۔اب ہمیں الجھن یہ ہے کہ کیا ہمیں شرعی طور پر ان کے والد (یعنی بہنوئی) کو 2 فیصد اور بھانجے (وقاص) کو 6 فیصد حصہ دینا لازم ہے؟جبکہ بعض علماء کے نزدیک بھانجے کو کوئی حصہ نہیں ملتا۔براہ کرم ہماری اس الجھن سے رہنمائی فرمائیں اور شرعی مسئلہ واضح کریں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ آپ کی والدہ کی وفات کے وقت ان کی بیٹی نصرت زندہ تھیں، جس کی بنا پر وہ اپنی والدہ کی میراث میں حصہ لینے کی حق دار تھیں۔ یہی حصہ آگے چل کر ان کی وفات کی صورت میں ان کے بیٹے وقاص اور شوہر قاسم کی طرف منتقل ہوا۔ لہٰذا یہ ماموں اور بھانجے کی وراثت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ماں سے بیٹی کو، اور پھر بیٹی سے اس کے شوہر اور بیٹے کی طرف میراث منتقل ہونے کا شرعی معاملہ ہے۔لہٰذا سابقہ فتویٰ میں جو وقاص اور قاسم کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے، وہ ان کا شرعی حق ہے۔چاہے بہن کی وفات کے بعد آپ کا ان سے کوئی تعلق رہا ہو یا نہیں، اور چاہے انہوں نے آپ کی بہن کے ساتھ زندگی میں اچھا سلوک کیا ہو یا بُرا—ان امور سےشرعی میراث پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
حضرت سلیمان بن موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:«مَنْ قَطَعَ مِيرَاثًا فَرَضَهُ اللَّهُ، قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ»(سنن سعيد بن منصور، ۱/۱۱۸)’’جس نے اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی (اپنے وارث کی) میراث کو کاٹ دیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کاٹ دے گا۔‘‘
ایک اور حدیث میں ہے: حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جو شخص (کسی کی) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پر ڈالی جائے گی۔ لہٰذا وقاص اور قاسم کا شرعی حصہ ان کو دینا ضروری ہے۔ البتہ اگر وہ اپنا اپنا حصہ لے کر بعد میں دیگر ورثاء کو ہبہ (تحفہ) کر دیں تو شرعاً انہیں اس کا اختیار حاصل ہے، مگر آپ کے لیے ان کا حصہ روکنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
باقی انہوں نے جو آپ کی چیزیں—مثلاً جہیز، سونا، پلاٹ وغیرہ—میں سے آپ کا حق غصب کیا ہے، وہ ناجائز ہے۔ آپ ان سے، بتقدیر ثبوت، وہ چیزیں اپنے حق کےبقدر کسی بھی جائز ذریعہ کو استعمال کرکے واپس لے سکتے ہیں۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو، تو اپنے حق کے بقدر ان کے حصے سے کٹوتی کر سکتے ہیں، لیکن ان کی پوری میراث روک لینا آپ کے لیے جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ .......ۚ....... وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ......"تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰارُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِینٌ"(النساء: 12-14)’’
قال في الفتاوى الهندية:
"وهوأن يموت بعض الورثةقبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي وإذا مات الرجل ،ولم تقسم تركته حتى مات بعض ورثته ......فإن كانت ورثة الميت هم ورثة الميت الأول،ولا تغير في القسمة تقسم قسمة واحدة ؛ لأنه لا فائدة في تكرار القسمة بيانه إذا مات وترك بنين وبنات ثم مات أحد البنين أو إحدى البنات ولا وارث له سوى الإخوة والأخوات قسمت التركة بين الباقين على صفة واحدة للذكر مثل حظ الأنثيين فيكتفي بقسمة واحدة بينهم وأما إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول فإنه تقسم تركة الميت الأول ، أولا ليتبين نصيب الثاني ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته فإن كان يستقيم قسمة نصيبه بين ورثته من غير كسر فلا حاجة إلى الضرب." (ج:51,ص:412, المكتبة الشاملة)
رد المحتار (4/ 94):
"مطلب في أخذ الدائن من مال مديونه من خلاف جنسه (قوله ومثل دينه) أي مثله جنسا لا قدرا ولا صفة كما أفاده ما بعده (قوله ولو دينه مؤجلا) ؛ لأنه استيفاء لحقه والحال والمؤجل سواء في عدم القطع استحسانا؛ لأن التأجيل لتأخير المطالبة والحق ثابت فيصير شبهة دارئة وإن لم يلزمه الإعطاء الآن. ولا فرق بين كون المديون المسروق منه مماطلا أو لا خلافا للشافعي، وتمامه في الفتح".
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
24/01/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


