| 88225 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والد سمیت میرے والد لوگ چھ بھائی تھے ،جن میں سے میرے والد سمیت چاربھائیوں کا انتقال ہو چکا ہے،دو حیات ہیں، جن میں سے ایک صاحب حیثیت ہیں، لیکن دادی کا حصّہ کا مطالبہ صرف ہم سے ہے ،درا صل میری دادی ہم سے اپنا حصہ لے کراپنے ایک بیٹے یعنی میرے چچا اور چچا کے دو بیٹوں کو دینا چاہ رہی ہے،کیا ان کا ایسا کرنا درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے مرحوم والد کے مال میں شرعا ان کی والدہ (آپ کی دادی)کا جو حق بنتا ہے، اس سے متعلق انہیں زندگی میں اختیار حاصل ہے کہ وہ اس میں جس طرح چاہیں تصرف کریں،لہذا ان کا آپ لوگوں سے اپنا حصہ لینے کے بعد کسی اور کو ہبہ کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں،تاہم زندگی میں اولاد کو کچھ دینا ہبہ کے حکم میں ہےاور اس کے حوالے سے تفصیل درج ذیل ہے:
1۔عام حالات میں اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری مستحب ہے ،یعنی سب کو ،چاہے لڑکا ہو یا لڑکی برابر حصہ دیا جائے۔
2۔بغیر کسی معقول وجہ ترجیح کے، محض نقصان پہنچانے کی غرض سے بعض کو کم اور بعض کو زیادہ دینا ناجائز ہے۔
3۔ اگرکمی بیشی کی کوئی معقول وجہ ہو،جیسےاولاد میں سے کسی کا زیادہ تنگدست ہونا، زیادہ عیالدار ہونا،بعض کا خدمت گار ہونا اور بعض کا نافرمان ہوناوغیرہ توایسی صورت میں جو زیادہ تنگدست،عیالدار یا خدمت گار ہو اسے زیادہ دیا جاسکتا ہے،لیکن کسی کو بالکل محروم کردینا جائز نہیں۔
4۔ایسی بے دین اولاد کوجسے دینے کی صورت میں غالب گمان ہو کہ وہ اس مال کو ناجائز کاموں میں صرف کرے گی وقتی ضرورت سے زیادہ نہیں دینا چاہیے،بلکہ ایسی صورت میں سارا ان میں تقسیم کرنے کے بجائےاضافی مال دینی کاموں میں خرچ کردینا مستحب ہے۔
واضح رہے کہ چونکہ زندگی میں جائیداد کی تقسیم ہبہ ہے،اس لیے اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ والد اولاد میں سے جس کو جو مال دے وہ اس کے نام کرکے باقاعدہ اس کے قبضے میں بھی دے،کیونکہ اگر صرف نام کروایا اور قبضہ نہیں دیا تو ایسا ہبہ پورانہیں ہوگا اور والد کے انتقال کے بعد ایسا مال بھی میراث کا حصہ بن کر سب ورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
یہ بھی واضح ہو کہ زندگی میں کسی وارث کو کچھ مال دے کر یہ کہنے سے کہ اب میراث میں تمہارا کوئی حصہ باقی نہیں رہا،اس وارث کا حصہ میراث میں حصہ ختم نہیں ہوتا۔
لہذا مذکورہ صورت میں اگر دادی کسی معقول وجہ کی بناء پر ایک بیٹے کو دے رہی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں،جبکہ بغیر کسی معقول وجہ کے دوسرے بیٹے کو نقصان پہنچانے کی غرض سے ایسا کرنا جائز نہیں،اور پوتوں کے درمیان ہبہ میں برابری ان کے ذمے لازم نہیں،لہذا پوتوں میں سے وہ جسے چاہے اپنی مرضی کچھ دے سکتی ہیں۔
حوالہ جات
"البحر الرائق شرح كنز الدقائق ": (ج 20 / ص 110) :
"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم، كذا في المحيط.
وفي فتاوى وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة, ولو كان ولده فاسقا فأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث, هذا خير من تركه؛ لأن فيه إعانة على المعصية، ولو كان ولده فاسقا لا يعطي له أكثر من قوته".
"الدر المختار للحصفكي ": (ج 5 / ص 265) :
وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الاولاد في المحبة لانها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الاضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم".
"البزازیہ علی ھامش الہندیۃ"(۶/237):
"الافضل فی ھبۃ الابن والبنت التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھوالمختار،ولووھب جمیع مالہ من ابنہ جاز ،وھو آثم ،نص علیہ محمد ،ولو خص بعض اولادہ لزیادۃ رشدہ لاباس بہ ،وان کانا سواءلایفعلہ".
"عمدة القاري شرح صحيح البخاري" (13/ 143):
" وقال المهلب: وفي الحديث دلالة على أنه لا تلزم المعدلة فيما يهبه غير الأب لولد غيره".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
27/محرم1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


