| 88227 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص کی دو بیویاں تھیں، پہلی بیوی سے اس کی دو بیٹیاں تھیں اور دوسری بیوی سے بھی دو بیٹیاں تھیں،اس شخص کے انتقال کے بعد اس کی جائیداد (مثلاً چار ایکڑ زمین) شرعی اصول کے مطابق اس کی تمام بیٹیوں میں تقسیم ہوئی، یعنی اس کی دوسری بیوی کی دو بیٹیوں کو بھی حصہ ملا اور پہلی بیوی کی دو بیٹیوں کو بھی۔
اب دوسری بیوی کی جو ایک بیٹی تھی (یعنی اس شخص کی دوسری بیوی کی بیٹی) وہ کنواری حالت میں فوت ہوگئی،اس کی والدہ اس سے پہلے ہی فوت ہو چکی تھی، اس کے والد بھی پہلے ہی فوت ہو چکے تھے، اس کا کوئی بھائی نہیں تھا،اس کی وفات کے وقت اس کی ایک سگی بہن زندہ تھی (جو اسی ماں اور باپ کی تھی)،اس کے علاوہ اس کی دو باپ شریک بہنوں (یعنی پہلی بیوی کی بیٹیوں) میں سے بھی ایک زندہ تھی اور اس کی زندہ سگی بہن صاحبِ اولاد تھی۔
سوال یہ ہے کہ اس کنواری لڑکی کی جائیداد (یعنی والد سے ملی ہوئی زمین میں اس کا حصہ) اس کی وفات پر کس کس کو ملے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں فوت ہونے والی لڑکی کو والد کی جائیداد میں سے ملنے والا حصہ اور اس کے علاوہ وفات کے وقت جو سونا،چاندی،نقدی وغیرہ اس کی ملکیت میں تھا سب چار حصوں میں تقسیم ہوگا،جس میں سے تین حصے (75%)اس سگی بہن کو ملیں گے ،جبکہ ایک حصہ (25%)اس کی باپ شریک بہن کو ملے گا۔
واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں ابتداءً سگی بہن کو نصف(50%) مل رہاہے،جبکہ باپ شریک بہن کو چھٹا حصہ (16.666%)مل رہا ہے،لیکن ان دونوں کو مذکورہ حصےملنے کے بعد جو مال(33.333%) بچ رہا ہے،چونکہ وہ بھی انہیں دونوں کو ان کے حصوں کے تناسب سے ملے گا،یعنی بقیہ مال کے بھی چار حصے ہوں گے ،جن میں سے تین حصے سگی بہن کو ملیں گے اور ایک حصے باپ شریک بہن کو،اس لئے اس کی وجہ سے دونوں کے فیصدی حصوں میں اضافہ ہواہے۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" (6/ 450):
"السادسة - الأخوات لأب وهن كالأخوات لأبوين عند عدمهن، كذا في الاختيار شرح المختار فللواحدة النصف وللأكثر الثلثان عند عدم الأخوات لأب وأم، ولهن السدس مع الأخت لأب وأم تكملة للثلثين ولا يرثن مع الأختين لأب وأم إلا أن يكون معهن أخ لأب فيعصبهن فيكون للأختين لأب وأم الثلثان، والباقي بين أولاد الأب للذكر مثل حظ الأنثيين، ولهن الباقي مع البنات أو مع بنات الابن، كذا في الكافي".
"الدر المختار " (6/ 788):
"ثم مسائل الرد أربعة أقسام، لأن المردود عليه إما صنف أو أكثر وعلى كل إما أن يكون من لا يرد عليه أو لا يكون. (ف) الأول (إن اتحد جنس المردود عليهم) كبنتين أو أختين أو جدتين (قسمت المسألة من عدد رءوسهم) ابتداء قطعا للتطويل (و) الثاني (إن كان) المردود عليه (جنسين) أو ثلاثة لا أكثربالاستقراء (فمن عدد سهامهم)".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
27/محرم1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


