03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لفظ” کلما “سے طلاق کا حکم
88231طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

علماء کرام کیا فرماتےہیں اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے یہ الفاظ استعمال کیے : آج کے بعد میں لواطت نہیں کروں گا، اگر میں نے  لواطت کا عمل کیا تو بیوی مجھ پر کلما طلاق ہے۔ اس سے میری  مراد یہ تھی کہ  جب بھی میں نکاح کروں گا مجھ پر طلاق ہوگی،لیکن اس کے بعد  بدبختی سے  مجھ سے لواطت ہوگئی۔  جس وقت یہ الفاظ میں نے استعمال کیے تھے اس وقت میں غیر شادی شدہ تھا۔ کیا اب میں نکاح کرسکتا ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

" کلما  طلاق "طلاق کی کوئی قسم نہیں ،اور طلاق میں نیت اور مراد کا اعتبار نہیں ہوتا ، الفاظ ضروری ہوتے ہیں ۔

لہذا مسؤلہ صورت میں جب آپ نے "جب جب  نکاح کروں الخ کے الفاظ نہیں کہے تو آپ کی طلاق معلق نہیں ہوئی ، لہذا آپ نکاح کرسکتے ہیں ، نکاح کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 230):

ركن الطلاق](قوله وركنه لفظ مخصوص) ‌هو ‌ما ‌جعل ‌دلالة ‌على ‌معنى ‌الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادى  من أمرها بحلق شعرها لا يقع به طلاق وإن نواه.

محمد ابراہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

30/محرم الحرام /7144ھ    

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب