| 88219 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
میں نے نشہ سے جان چھڑانے کے لئے کہا: "میں قسم کھاتا ہوں کہ آج کے بعد نشہ نہیں کروں گا، اگر میں نے نشہ کیا تو میری بیگم کو طلاق، طلاق، طلاق"۔ اس کے بعد میں نے نشہ کر لیا، اب طلاق کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب یہ الفاظ کہے " میں قسم کھاتا ہوں کہ آج کے بعد نشہ نہیں کروں گا، اگر میں نے نشہ کیا، تو میری بیگم کو طلاق، طلاق، طلاق "تو ان الفاظ سے قسم بھی منعقد ہوگئی اورتین طلاقیں بھی معلق ہوگئی تھیں۔
لہٰذا چونکہ سائل نے یہ قسم کھانے کے بعد نشہ کر لیا ہے، اس لیے وہ اپنی قسم میں حانث ہو چکا ہے اور اس کی بیوی پر تین طلاقیں بھی واقع ہو چکی ہیں۔ بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے، اب نہ رجوع کر سکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح (تجدیدِ نکاح) کی گنجائش باقی ہے۔ مطلقہ اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہیں ہے اور اگر حمل ہے تو بچے کی پیدائش تک) گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کر نے میں آزاد ہوگی۔البتہ اگر مطلقہ عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرے اور اس دوسرے شوہر کے ساتھ صحبت (جسمانی تعلق) بھی قائم ہوجائے اس کے بعد وہ اس کو طلاق دے یا اس کا انتقال ہو جائے، تو اس کی عدت گزارنے کے بعد مطلقہ کا سائل کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔
باقی قسم توڑنے کی وجہ سے سائل پر کفارہ ادا کرنا لازم ہےاور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دووقت کا کھانا کھلایا جائے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کے بقدر گندم (سوا دو كلو)یا اس کی قیمت دے دے، یا دس فقیروں کو ایک ایک جوڑا کپڑا دےدےاور اگر کوئی شخص نہ کھانا کھلا سکتا ہے اور نہ کپڑا دے سکتا ہے تو وه مسلسل تین روزے رکھے ۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 356):
«متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق۔
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (4/ 116):
وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق) وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 187):
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 702):
(اليمين) لغة القوة. وشرعا (عبارة عن عقد قوي به عزم الحالف.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 725):
(وكفارته) ........(تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين) .......(أو كسوتهم بما) يصلح للأوساط وينتفع به فوق ثلاثة أشهر، و (يستر عامة البدن) .......(وإن عجز عنها) كلها (وقت الأداء) ....(صام ثلاثة أيام ولاء).
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
30 /محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


