03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لے پالک کے حقیقی والدین کا اپنے بیٹے کو واپس لینے کا حکم
88244نکاح کا بیاننسب کے ثبوت کا بیان

سوال

گود لی ہوئی بچی  کی عمر ۱۴ سال ہے،جبکہ اس کے حقیقی والدین حیات ہیں اور وہ اپنی بچی کو واپس لینا چاہتے ہیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا حقیقی والدین کو شرعی طور پر اپنا بچہ واپس لینے کا حق حاصل ہے؟  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 واضح رہے کہ کسی بچے کو گود لینے سے وہ گود لینے والے کا حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا، بلکہ وہ بدستور اپنے اصل والدین ہی کا بیٹا شمار ہوتا ہے۔ شریعت کی رو سے گود لینے والے کو صرف پرورش اور کفالت کا حق حاصل ہوتا ہے ،لے پالک بچے کا نسب، پرورش، نکاح کا اختیار اور وراثت وغیرہ جیسے تمام شرعی احکام اس کے حقیقی والدین سے ہی متعلق ہوتے ہیں،اس لئے حقیقی والدین کبھی بھی اپنا بچہ واپس لینا چاہیں تو انہیں یہ پورا شرعی حق حاصل ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں، مذکورہ بچی کے اصل والدین کو اپنی بیٹی کو واپس لینے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اگر وہ اپنی بیٹی کا مطالبہ کریں، تو لازم ہے کہ بچی ان کے حوالے کی جائے۔

حوالہ جات

«القرآن الکریم » (الأحزاب آیة: 4،5):

«وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَھْدِي السَّبِيلَ  (4) ادْعُوهُمْ لِآبَا ئِھِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيما(5) »

«التفسير المظهري» (7/ 284):

«فلا ‌يثبت ‌بالتبني شىء من احكام النبوة (الْبُنُوَّةِ) من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

30/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب