03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدتِ وفات کے بعد بیوہ کہاں رہائش اختیار کرے؟
88245میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 بیوہ ، اس کا مرحوم شوہراور  گود لی ہوئی بچی  ایک کمرے میں رہائش پذیر تھے،جبکہ  مرحوم شوہر کے دو بھائی اپنے بیوی بچوں سمیت  اپنے اپنے کمروں میں رہائش پذیر ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ بیوہ عورت عدت کے بعد کہاں رہے گی ،کیا سسرال کے گھر اسی کمرے میں رہ سکتی ہے یا واپس ماں پاب کے گھر جاناہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر مذکورہ مکان مرحوم شوہر کی ذاتی ملکیت تھا، تو عدتِ وفات مکمل ہونے کے بعد بیوہ اس مکان میں اپنے شرعی حصے کی حق دار ہوگی اور اسے اپنے حصے کے بقدر اس گھر میں رہائش رکھنے کا شرعی حق حاصل ہوگا۔ ایسی صورت میں، جب تک وراثت تقسیم نہ ہو اور بیوہ کو اس کا حصہ عملاً نہ مل جائے، وہ شوہر کے گھر میں رہ سکتی ہے۔ بیوہ کو شوہر کے مکان سے جبراً بے دخل کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر گھر میں غیر محرم مرد (مثلاً دیور وغیرہ) رہتے ہوں تو بیوہ کے لیے شرعی پردے کا اہتمام لازم ہوگا۔

اور اگر وہ مکان شوہر کی ذاتی ملکیت نہ تھا (مثلاً کرایے کا مکان تھا یا کسی اور کا تھا)، تو ایسی صورت میں اگر بیوہ کے پاس خود کا ذاتی مال ہو یا شوہر کی وراثت سے اتنا حصہ ملا ہو کہ وہ اپنی رہائش کا انتظام کر سکے، تو  اپنی رہائش کا بندوبست خود کرنا ہوگا۔اور اگر بیوہ کے پاس وسائل نہ ہوں تو قریبی شرعی رشتہ داروں پر لازم ہوگا کہ وہ اس کی رہائش  کا بندوبست کریں۔

حوالہ جات

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 205):

«وإن كان المنزل لزوجها وقد مات عنها فلها أن تسكن في نصيبها إن كان نصيبها من ذلك ما تكتفي به في السكنى وتستتر عن سائر الورثة ممن ليس بمحرم لها.»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 536):

«(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه، وفي الطلاق إلى حيث شاء الزوج، ولو لم يكفها نصيبها من الدار اشترت من الأجانب مجتبى، وظاهره وجوب الشراء - لو قادرة -، أو الكراء بحر، وأقره أخوه والمصنف.»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

30/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب