| 88229 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک سرکاری ملازم کو بینک لون دیتا ہے جو 10 یا 20 ماہ کی تنخواہوں کے برابر ہوتا ہے۔ پھر بعد میں ہر ماہ کی تنخواہ میں سے کٹوتی کی جاتی ہے۔ لیکن آخر میں جو مجموعی رقم بنتی ہے، اس سے کچھ زیادہ کٹوتی کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر 20 ماہ کی تنخواہ کی رقم 20 لاکھ بنتی ہے، تو وہ 25 لاکھ کاٹتے ہیں۔ آپ سے معلوم کرنا یہ ہے کہ کیا یہ صورت حال جائز ہے؟ یا پھر کوئی جائز متبادل صورت بتائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سرکاری ملازم کا بینک سے 10 یا 20 ماہ کی تنخواہوں کے برابر قرض لے کر اس پر لی ہوئی رقم سے زائد کٹوتی کروانا سودی معاملہ ہے اور جائز نہیں ہے، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت جائز نہیں ہے۔
اس کا متبادل یہ ہو سکتا ہے کہ قرض کا متمنی شخص جو چیز قرض لے کر خریدنا چاہتا ہے، وہ کسی اسلامی بینک سے کہے کہ وہ اس کے لیے مطلوبہ چیز خرید لے، اور پھر قبضہ کے بعد نفع رکھ کر قسط وار اس پر مستقل عقد کے ذریعے فروخت کر دے، اور پھر ہر قسط مقررہ وقت پر اس کی تنخواہ سے متعلقہ بینک کاٹتا رہے، اور کسی قسط کی تاخیر پر جرمانہ نہ لے۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی:
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ" ( البقرہ (2:275)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"( آل عمران 3:130)
وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِندَ اللَّهِ ۖ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُضْعِفُونَ"(الروم (30:39)
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم :
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اجتنبوا السبع الموبقات، قالوا: يا رسول الله وما هن؟ قال: الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق، وأكل الربا، وأكل مال اليتيم، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات. (صحيح البخاري، كتاب البيوع، حديث رقم 2086)
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء." (صحيح مسلم، كتاب المساقاة، حديث رقم 1598)
"عن عبد الله بن حنظلة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: درهم ربا يأكله الرجل وهو يعلم أشد عند الله من ستة وثلاثين زنية." (سنن ابن ماجه، كتاب التجارات، حديث رقم 2279)
عن فضالۃ بن عبید صاحب النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أنہ قال: کل قرض جر منفعۃ فہو وجہ من وجوہ الربا۔ (السنن الکبریٰ للبیہقي، کتاب البیوع، باب کل قرض جر منفعۃ فہو ربا، دارالفکر.
بحوث فی قضایا فقہیة معاصرة: (12/1، ط: مكتبة دار العلوم كراتشي)
" أما الأئمة الأربعة وجمہور الفقہاء والمحدثین فقد أجازوا البیع الموٴجل بأکثر من سعر النقد بشرط أن یبتّ العاقدان بأنہ بیع موٴجل بأجل معلوم بثمن متفق علیہ عند العقد".
المبسوط للسرخسي (22/ 26):
فأما الوكالة بالشراء فجائزة وما اشتري بها يكون لرب المال.
وفی قرارمجمع الفقہ الإسلامی :
أولًا: أن بيع المرابحة للآمر بالشراء إذا وقع على سلعة بعد دخولها في ملك المأمور، وحصول القبض المطلوب شرعًا، هو بيع جائز طالما كانت تقع على المأمور مسئولية التلف قبل التسليم وتبعة الرد بالعيب الخفي ونحوه من موجبات الرد بعد التسليم، وتوافرت شروط البيع وانتفت موانعه.
ثانيًا: الوعد (وهو الذي يصدر من الآمر أو المأمور على وجه الانفراد) يكون ملزمًا للواعد ديانة إلا لعذر، وهو ملزم قضاء إذا كان معلقًا على سبب ودخل الوعود في كلفة نتيجة الوعد، ويتحدد أثر الإلزام في هذه الحالة إما بتنفيذ الوعد، وإما بالتعويض عن الضرر الواقع فعلًا بسبب عدم الوفاء بالوعد بلا عذر.( مجلة مجمع الفقه الإسلامي (5/ 715، بترقيم الشاملة آليا)
وفی فقہ البیوع( 1/94):
واتفافیة التوریدعبارة عن اتفاق بین الجھة المشتریة والجھة البائعة علی أن الجھة البائعة تورد إلی الجھة المشریة سلعا أو موادا محدودة الأوصاف فی تواریخ مستقبلة معینة لقاء ثمن معلوم متفق علیہ بین الفریقین....اتفاقیة البیع لیس ببیع مضافا أو معلقا ، بل ھو وعد من الجابین لإنجاز بیع فی المستقبل ...2۔یجوزان یکون الاتفاقیة مواعدة لإنجاز البیع فی المستقبل ،3۔ إن کا مواعدة فلابد من أن یعقد البیع فی المستقبل بإیجاب وقبول من جدید أو مایقوم مقامھما من التعاطی ولاینعقد البیع تلقائیافی التاریخ المحددفی الاتفاقیة 3۔لایجوز أن یحمل المتخلف عن الوعد تعویضا إلابمقدار الخسائرة الفعلیة.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
30/1/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


