03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چھوٹے قصبے میں نماز جمعہ وعیدین شروع کرنے کا حکم
88269نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

میرا تعلق پنجاب کے ضلع لیہ کے ایک چھوٹے سے قصبے سے ہے ۔ ہماری بستی میں ایک چھوٹی سی مسجد ہے جس میں عرصہ دراز سے پانچ اوقات کی نماز با جماعت ادا ہوتی آ رہی ہے ، جبکہ اس مسجد کے بانی ساتھ والی دوسری بستی سے تعلق رکھتے ہیں ( جو کہ عالم تو نہیں بلکہ حافظ قرآن ہیں) جنھوں نے آج سے تقریباً اڑھائی ماہ پہلے مسجد کی تعمیر ( جس کا کچھ کام باقی تھا) مکمل کرائی اور رنگ و روغن کرنے کے بعد اس میں نماز جمعہ اور نماز عید کی ادائیگی کے آغاز کا اعلان کردیا ۔جبکہ اس اعلان سے بستی کے بعض لوگ متفق نہ ہوئے اس وجہ سے کہ اس بستی کے چاروں اطراف تقریباً ایک کلومیٹر یا اس سے کم فاصلے پر جامع مساجد موجود ہیں اور ان مساجد تک پہنچنا بآسانی ممکن ہے ۔ جبکہ اس بستی میں گھروں کی تعداد (31) اور لوگوں کی تعداد تقریباً (50) ہے جو کہ بہت کم ہے ۔ان وجوہات کی بنا پر بستی کے بعض لوگ ( جو پہلے سے ہی متفق نہیں تھے) اب اس مسجد میں نماز جمعہ اور نماز عید ادا کرنے کے لیے نہیں آتے ، ان کا یہ کہنا ہے کہ ان وجوہات کی بنا پر اس مسجد میں نماز جمعہ اور نماز عید ادا کرنا جائز نہیں ہے،لہذا اس مسجد میں نماز جمعہ اور نماز عید کی ادائیگی ( ادائیگی کے آغاز سے پہلے اور اس کے بعد یعنی اب ) کا کیا شرعی حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جہاں جمعہ کی شرائط پائی جاتی ہوں وہاں جائزہے،اور جہاں شرائط موجود نہ ہوں وہاں پڑھنادرست نہیں ہے۔

جہاں شرائط موجود نہ ہوں وہاں پر مجاز آفیسر کی اجازت ضروری ہے۔اور یہ اجازت بھی اس وقت موثر ہے کہ وہاں چاروں آئمہ میں سے کسی کے نزدیک جمعہ پڑھنا جائز ہو۔تو اس آفیسر کے اجازت دینے سے وہاں جمعہ پڑھناجائز ہوگا۔

اگر اس جگہ اتنی آبادی ہو جو امام شافعی یا کسی دوسرے مجتہد کے قول کے مطابق اقامتِ جمعہ کے لیے کافی ہو ،مثلا: امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تقریبا 40 رہائشی نفوس  پر مشتمل آبادی میں جمعہ کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔اور متعلقہ جگہ کے کسی ایسے عہدیدار کی اجازت سے جمعہ شروع کیا گیا ہو جسے اس علاقے میں سرکار کی طرف سے احکامات نافذ کرنے اور لوگوں کے معاملات میں فیصلہ کرنے کامکمل اختیار ہو،جیسے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر وغیرہ تو لوگوں کی جمعہ کی نماز ہوجائے گی،جبکہ مذکورہ شرائط میں سے کسی شرط کے نہ پائے جانے کی صورت میں ان لوگوں کی جمعہ کی نماز صحیح نہیں ہوگی اور ان کے ذمے اس عرصے کی ظہر کی نمازوں کی قضاء لازم ہوگی،یہ احتیاط پر مبنی قول ہے،بعض حضرات کے نزدیک گزشتہ نمازیں نہ لوٹانے کی گنجائش ہے،البتہ آیندہ کے لیے ایسی جگہ جمعہ پڑھنے سے احتراز ضروری ہے یا پھر اوپر ذکرکردہ طریقے کے مطابق کسی آفیسر سے اجازت لے کر جمعہ کی ادائیگی کی جائے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (2/ 138):

 "(قوله وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر، وهذا إذا لم يتصل به حكم، فإن في فتاوى الديناري إذا بني مسجد في الرستاق بأمر الإمام فهو أمر بالجمعة اتفاقا على ما قال السرخسي اهـ فافهم والرستاق القرى كما في القاموس".

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

30/ محرم  1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب