| 88241 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میرا نام.......... ہے اور میری زوجہ کا نام ............ ہے۔ ہماری شادی کو سترہ (17) سال گزر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں چار بچوں سے نوازا ہے،تین بیٹیاں اور ایک بیٹا۔میں پچھلے ایک سال سے بے روزگار ہوں، لیکن اس سے پہلے میں ایک اچھا اور کامیاب کاروبار کر رہا تھا اور مالی طور پر مستحکم تھا، تاہم میں کوشش کرکے گھر کے بنیادی اخراجات پورے کر لیتا ہوں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اب میری بیوی روزانہ کسی نہ کسی بات پر مجھے اشتعال دلانے کی کوشش کرتی ہے، مگر میں ہمیشہ صبر اور خاموشی سے برداشت کرتا ہوں۔
29 مارچ 2025ء بمطابق 29 رمضان 1446ھ، چاند رات افطار سے قبل میری بیوی اپنی ایک سہیلی کے گھر جانا چاہتی تھی۔ میں نے انہیں جانے سے منع کیا، جس پر ہمارے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد جب بیوی نے کہا کہ بیٹا ابھی تک گھر واپس نہیں آیا، تو میں فوراً موٹر سائیکل پر اُسے تلاش کرنے نکل گیا۔ جب میں کچھ دیر بعد واپس آیا تو دیکھا کہ بیوی گھر پر موجود نہیں، اور میرے دونوں سالے میرے بچوں کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔جب میں نے بچوں کو لے جانے سے روکا تو بحث ہوئی، مگر میں نے صبر سے کام لیا اور کسی قسم کی لڑائی یا سخت رویہ اختیار نہیں کیا۔ بہرحال، وہ لوگ میرے بچوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔
عید کے فوراً بعد اخبار میں میرے خلاف خلع کے مقدمہ کا اشتہار شائع کروا دیا گیا۔ میں اپنی والد کو ساتھ لے کر سسرال گیا، تو مجھے پیسوں کے طعنے دیے گئے اور میرے والد کو سخت الفاظ میں یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ:"آئندہ ہمارے گھر مت آنا۔"
اس واقعے کے اگلے ہی دن مجھے فیملی کورٹ کی طرف سے خلع کا نوٹس موصول ہوا۔ اب عدالتی کارروائی جاری ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں، پاکستانی عدالتی نظام عمومی طور پر بیوی کو یک طرفہ خلع کی ڈگری جاری کر دیتا ہے، چاہے شوہر راضی ہو یا نہ ہو۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ اگر عدالت کی طرف سے یک طرفہ خلع کی ڈگری جاری کر دی جائے، تو اس عدالتی فیصلے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟کیا شرعی طور پر ہمارا نکاح ختم ہو جائے گا؟ جب کہ میں نہ خلع پر راضی ہوں اور نہ ہی طلاق دینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شریعت میں یک طرفہ خلع کی کوئی حیثیت نہیں ، خلع کے لئے میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہے،اگران میں سے ایک بھی رضامندنہ ہوتوخلع واقع نہیں ہوگا، اس لئےشوہر کی رضامندی کے بغیر اگر عدالت خلع کی ڈگری جاری بھی کردے ،تب بھی وہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہوگا اور زوجین کا نکاح برقرار رہے گا۔
صورتِ مسئولہ میں چوں کہ شوہر کی رضامندی شامل نہیں ہے،اس لئے اسے شرعی خلع قرار نہیں دیا جاسکتا،لہٰذاشرعا نکاح برقرار رہے گا، البتہ اگر شوہر عدالتی خلع کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر دستخط کر دے تو پھر شرعا خلع قرار پائےگااور نکاح ختم ہو جائے گا۔
البتہ شوہر پر شرعاً لازم ہے کہ بیوی کے ساتھ مکمل عدل و انصاف قائم رکھے، خاص طور پر اختیاری معاملات مثلاً: نان و نفقہ، وقت کی تقسیم، شب باشی اور دیگر ازدواجی حقوق کا اہتمام کرے،ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ ہوگا۔بیوی اور ان کے گھر والوں کو حکمت، مصلحت ، نرمی اور محبت سے سمجھائے، تاکہ وہ صبر، برداشت اور دینی بصیرت کے ساتھ ازدواجی زندگی کو خوش اسلوبی سے جاری رکھنے پر آمادہ ہو جائیں۔
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 145):
«وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول بخلاف النوع الأول فإنه إذا قال: خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع الطلاق عليها، سواء قبلت أو لم تقبل؛ لأن ذلك طلاق بغير عوض فلا يفتقر إلى القبول»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 441):
«(قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول، بخلاف ما إذا قال خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
2/ صفر 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


