03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قادیانیوں کے ساتھ میل ملاقات اور کھانا کھانے کا حکم
88251جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ہماری فیملی کے ایک خاندان کی دو بہنیں اور ان کے بچے مرتد ہو چکے ہیں، انہوں نے قادیانی مذہب اختیار کیا ہے، میں نے ان کے ایک بھائی کی بیٹی اپنے بیٹے کے نکاح میں لی ہے، ان کی اپنی بہنوں سے ملنا ملانا ہے، اب وہ گھومنے کے لیے لاہور جا رہے ہیں اور ساتھ میری بہو اور بیٹے کو بھی ساتھ لے جانا چاہ رہے ہیں اور وہ وہاں اپنی بہنوں کے گھر بھی جائیں گے، وہاں کھانا پینا اور میل ملاقات بھی ہو گی، سوال یہ ہے کہ کیا میری بہو اور بیٹے کا ان کے ساتھ ان کی بہنوں کے گھر جا کر میل ملاقات کرنا اور کھانا وغیرہ کھانا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قادیانیوں کا حکم عام کفار کی طرح نہیں، بلکہ آج کے دور کا یہ بہت خطرناک فتنہ ہے، اس لیے  ان کا حکم زندیق (جواپنے کفریہ عقائد کوچھپا کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے) کا ہے، کیونکہ عام کفار اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب نہیں کرتے، جس کی وجہ سے عام مسلمانوں کے ایمان کو ان سے کوئی خطرہ نہیں، اس لیے اسلام نے ان کے ساتھ خریدوفروخت کرنے اور میل ملاقات کی اجازت دی ہے، بشرطیکہ دل سے ان کے ساتھ محبت نہ کی جائے۔ جہاں تک قادیانیوں کا تعلق ہے تو چونکہ یہ لوگ اپنے کفریہ عقائد کو چھپا کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور اپنی نجی مجالس میں یہ لوگ اپنے مذہب کی ترویج بھی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ایک عام مسلمان کے دھوکے میں پڑنے اور اس کا ایمان ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، اس لیے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے ایک مسلمان کو زندیق کے ساتھ خریدوفروخت کرنے، کھانے پینے اور میل ملاقات کی اجازت نہیں دی اور قادیانیوں کے بارے میں پاکستان کے تمام علمائے کرام متفقہ فتوی ہے کہ ان کے ساتھ کھانا پینا اور ان کی خوشی غمی میں شریک ہونا جائز نہیں، چنانچہ مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفا یت اللہ صاحب  رحمہ اللہ  لکھتے ہیں:

"اگر دین کو فتنے سے محفوظ رکھناچاہتے ہو تو(قادیانیوں سے ) قطع تعلق کرلینا چاہیے، ان سے رشتہ ناتا کرنا، ان کے ساتھ خلط ملط رکھنا، جس کا دین اورعقائد پر اثر پڑے ناجائز ہے، اور قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا رکھنا خطرناک ہے۔"

 ( کفایت المفتی ،کتاب العقائد،ج:1،ص:325۔ط:دارالاشاعت)

لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے ذمہ لازم ہے کہ آپ اپنی بہو اور بیٹے کو قادیانیوں کے گھر کھانا کھانے اور ان کے ساتھ میل ملاقات سے منع کریں، بلکہ ان دونوں بہنوں کے بھائی کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ ان دونوں بہنوں اور ان کے بچوں کو سمجھائیں، علمائے کرام سے ان کی بات کروائیں، تاکہ وہ اسلام کی طرف واپس لوٹ آئیں اور اگر بالفرض وہ اپنے اس باطل مذہب پر بضد ہیں تو ان سے تعلقات ختم کریں، تاکہ ان کو اپنے کفریہ عقائد کا احساس ہو۔

حوالہ جات

حاشية رد المحتار على الدر المحتار (4 / 241) دار الفكر-بيروت:

' ثم بين حكم الزنديق فقال: اعلم أنه لا يخلو إما أن يكون معروفاً داعياً إلى الضلال أو لا. والثاني ما ذكره صاحب الهداية في التجنيس من أنه على ثلاثة أوجه إما أن يكون زنديقاً من الأصل على الشرك أو يكون مسلماً فيتزندق أو يكون ذمياً فيتزندق، فالأول يترك على شركه إن كان من العجم أي بخلاف مشرك العرب فإنه لا يترك. والثاني يقتل إن لم يسلم؛لأنه مرتد۔ وفي الثالث يترك على حاله ؛ لأن الكفر ملة واحدة اهـ

إكفار الملحدين في ضروريات الدين (ص: 12) المجلس العلمي – باكستان:

تفسير الزندقة والإلحاد والباطنية وحكمها ثلاثتها واحد وهو الكفر:

قال: التفتازاني في "مقاصد الطالبين في أصول الدين": الكافر إن أظهر الإيمان خص باسم "المنافق"، وإن كفر بعد الإسلام "فبالمرتد"، وإن قال بتعدد الآلهة "فبالمشرك"............. قوله: "المعروف" اهـ. فإن الزنديق يموّه يكفره، ويروج عقيدته الفاسدة، ويخرجها في الصورة الصحيحة، وهذا معنى إبطان الكفر، فلا ينافي إظهاره الدعوى إلى الضلال، وكونه معروفاً بالإضلال اهـ. ابن كمال.

وقيل: لا يقبل إسلامه إن ارتد إلى كفر خفي، كزنادقة، وباطنية، فالمراد بابطان بعض عقائد الكفر ليس هو الكتمان من الناس، بلالمراد: أن يعتقد بعض ما يخالف عقائد الإسلام مع ادعائه إياه وحكم المجموع من حيث المجموع الكفر لا غير.

أحكام القرآن للجصاص (سورة المجادلة (58) : آية 22،ج:17، ص:306، ط: دارالکتب المصریة:

"}إن الذين يحادون الله ورسوله أولئك في الأذلّين} ... الثانية: استدل مالك رحمه الله من هذه الآية على معاداة القدرية وترك مجالستهم. قال أشهب عن مالك: لاتجالس القدرية وعادهم في الله، لقوله تعالى: {لاتجد قومًا يؤمنون بالله واليوم الآخر يوادون من حاد الله ورسوله} قلت: وفي معنى أهل القدر جميع أهل الظلم والعدوان".

الفصل في الملل والأهواء والنحل لأبي محمد علي بن أحمد ابن حزم الظاهري(3/ 142) مكتبة الخانجي، القاهرة:

وصح الإجماع على أن كل من جحد شيئا صح عندنا بالإجماع أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى به فقد كفر وصح بالنص أن كل من استهزأ بالله تعالى أو بملك من الملائكة أو بنبي من الأنبياء عليهم السلام أو بآية من القرآن أو بفريضة من فرائض الدين فهي كلها آيات الله تعالى بعد بلوغ الحجة إليه فهو كافر ومن قال بنبي بعد النبي عليه الصلاة والسلام أو جحد شيئا صح عنده بأن النبي صلى الله عليه وسلم قاله فهو كافر.

إكفار الملحدين في ضروريات الدين (ص: 2) المجلس العلمي، باكستان:

والمراد "بالضروريات على ما اشتهر في الكتب: ما علم كونه من دين محمد - صلى الله عليه وسلم - بالضرورة، بأن تواتر عنه واستفاض، وعلمته العامة، كالوحدانية، والنبوة، وختمها بخاتم الأنبياء، وانقطاعها بعده.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

2/صفرالخیر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب