| 88294 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
میں نے سن2023 میں ایک پلاٹ اوپن فارم کے ساتھ خریدا۔ وہ پلاٹ اگرچہ سوسائٹی میں میرے نام پر رجسٹر نہیں ہوا تھا، لیکن اوپن فارم کی بنیاد پر میں شرعاً اورعرفاً اس پلاٹ کا مالک تھا۔ میرے پاس یہ مکمل اختیار تھا کہ جب چاہوں، سوسائٹی کو مقررہ قبضہ چارجز ادا کر کے پلاٹ کا قبضہ حاصل کر لوں یا اسے آگے فروخت کر دوں۔ چونکہ میرا ارادہ تعمیر کرنے کا نہیں تھا، اس لیے میں نے قبضہ حاصل نہیں کیا۔ اب اس پلاٹ کو خریدے ہوئے دو سال ہو چکے ہیں اور میں نے ابھی تک اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی۔جب زکوٰۃ کی تاریخ آئی تو میں نے دونوں سالوں کے لیے اس پلاٹ کی قیمت کا اندازہ اپنے ڈیلر سے کروایا۔
اس نے دونوں سالوں میں پلاٹ کی مالیت تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے بتائی، لیکن یہ صرف ایک تخمینہ تھا، کیونکہ میں نے پلاٹ کو فروخت کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی تھی جس سے قیمت کا درست اندازہ ہو سکتا،اور ڈیلر نے جو قیمت بتائی وہ صرف بیچنے والوں کی "ڈیمانڈ" پر مبنی تھی، یعنی وہ رقم جو فروخت کنندگان طلب کر رہے تھے۔ خریداروں کی طرف سے کیا پیشکش کی جاتی تھی یا درحقیقت کن قیمتوں پر خرید و فروخت ہو رہی تھی، اس بارے میں میرے پاس کوئی یقینی معلومات نہیں تھیں۔اب میں نے وہ پلاٹ چار کروڑ روپے میں فروخت کر دیا ہے، اور خریدار کو صرف اوپن فارم حوالے کیا ہے۔ سوسائٹی سے قبضے کے لیے اب وہ خود تمام شرائط پوری کرے گا۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پلاٹ کا قبضہ نہ لینا میرا ذاتی فیصلہ تھا، اور اس میں سوسائٹی کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ اگر میں چاہتا تو کسی بھی وقت قبضہ حاصل کر سکتا تھا، اور اس سلسلے میں تمام اختیارات میرے پاس موجود تھے۔
اب رہنمائی فرمائیں کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے اس پلاٹ کی قیمت کا تعین کس بنیاد پر کروں؟ نیز کیا میری طرف سے قبضہ نہ لینے کا کوئی اثر زکوٰۃ کے وجوب پر پڑے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں جو پلاٹ آپ نے اوپن فارم کے ساتھ خریدا ،یہ اگرچہ سوسائٹی میں آپ کے نام سے رجسٹر نہیں ہے لیکن شرعا ا ٓپ اس کے مالک شمار ہوں گے، صرف رجسٹریشن سے شرعی ملکیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ آپ باضابطہ اس کے مالک ہیں اور چونکہ آپ نے اس پلاٹ کو رہائش کے لیے نہیں بلکہ تجارت کی نیت سے خریدا تھا ، تو اس پلاٹ کی زکوٰۃ نکالنا واجب ہوگی ۔ لہذا صورت مسئولہ میں جب آپ نے دوسال سے زکوۃ ادانہیں کی تو اب دونوں سالوں کی زکوۃ موجودہ چارکروڑکے حساب سے نکالی جائے گی، پہلے کل رقم چارکروڑ سے ایک سال کی زکوٰۃ کا حساب کرکے باقی رقم سے دوسرے سال کی زکوۃ کا حساب کیا جائے گا۔یعنی ایک سال کی زکوۃ کی کل مالیت دس لاکھ /1000000روپے ہوگی جوکہ کل رقم چار کروڑ کا ڈھائی فیصد ہے،اور دوسرےسال کی زکوٰۃ کی کل مالیت نو لاکھ پچھتر ہزار ر 975000/ روپے بنتی ہے، جوکہ پہلے سال کی ڈھائی فیصد زکوۃ نکالنے کے بعد باقی رقم کا ڈھائی فیصد ہے۔
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (2/ 22):
«وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا؛ لأن المذهب عندهم أنه إذا هلك النصاب بعد الحول تسقط الزكاة سواء كان من السوائم أو من أموال التجارة.
الموسوعة الفقهية الكويتية (23/ 271):
اتفق الفقهاء على أنه يشترط في زكاة مال التجارة أن يكون قد نوى عند شرائه أو تملكه أنه للتجارة، والنية المعتبرة هي ما كانت مقارنةً لدخوله في ملكه؛ لأن التجارة عمل فيحتاج إلى النية مع العمل، فلو ملكه للقنية ثم نواه للتجارة لم يصر لها، ولو ملك للتجارة ثم نواه للقنية وأن لايكون للتجارة صار للقنية، وخرج عن أن يكون محلاً للزكاة ولو عاد فنواه للتجارة لأن ترك التجارة، من قبيل التروك، والترك يكتفى فيه بالنية كالصوم.
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
02/صفر المظفر /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


