| 88237 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میری دو بیویاں تھیں۔ پہلی بیوی کا انتقال 2021 میں ہو گیا ہے، جبکہ دوسری بیوی سے میرا تقریباً چار سال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ کراچی، گلشنِ اقبال میں رہتی ہے۔اس بیوی سےبھی میرے بچے ہیں — تین بیٹیاں اور چار بیٹے — لیکن وہ بھی مجھ سے نہیں ملتے۔میری عمر اب 80 سال ہو چکی ہے۔ میں سلطنتِ عمان کی نیوی سے ریٹائر ہوں۔ اس وقت میں اپنی مرحومہ (پہلی) بیوی کے بچوں کے ساتھ ایک پورشن میں اکیلارہتا ہوں، اور وہی میرے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ میں نے جو کچھ بھی کمایا، دونوں بیویوں پر خرچ کیا۔میں کئی بار خود جا کراس بیوی اور بچوں سے بات کرنے کی کوشش کر چکا ہوں، حتیٰ کہ میری بہن بھی صلح کے لیے ان کے پاس گئی، مگر دوسری بیوی نے پندرہ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ میری موجودہ مالی حالت ایسی نہیں ہےکہ میں یہ رقم دے سکوں، بلکہ میں تواب خود اپنی اولاد (پہلی بیوی سے) کا محتاج ہوں۔جب بھی میں بچوں اور بیوی سے ملنے گیا، ان کا رویہ میرے ساتھ سخت اور نامناسب رہا۔ میں دونوں بیویوں کا حق مہر ادا کر چکا ہوں۔ایسے حالات میں میرا ان کے ساتھ گزارا ممکن نہیں رہا۔ میں چاہتا ہوں کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں مجھے یہ فتویٰ دیا جائے کہ آیا ان حالات میں میں اپنی دوسری بیوی کو طلاق دے سکتا ہوں یا نہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلام میں نکاح ایک ایسا معاہدہ ہے، جو محبت، سکون، اور باہمی حقوق و فرائض پر قائم ہوتا ہے۔ اگر یہ مقاصد پورے نہ ہوں اور شوہر بیوی کے ساتھ گزارا نہ کر سکے، تو اسلام طلاق کی اجازت دیتا ہے، اگرچہ یہ عمل پسندیدہ نہیں ہے۔
مسئولہ صورت میں، جب آپ دونوں کے درمیان چار سال سے کوئی تعلق نہیں رہا، اور آپ نے صلح کی جو کوششیں کیں وہ بھی ناکام رہیں، نیز بیوی اور بچوں کا رویہ بھی مناسب نہیں ہے، نہ وہ آپ کے پاس آتی ہے، نہ خدمت کرتی ہے، بلکہ اُلٹا آپ کی استطاعت سے زیادہ مال و دولت کا مطالبہ کرتی ہے — تو ایسی بیوی کو طلاق دینا آپ کے لیے شرعاً جائز ہے۔
تاہم، طلاق دینے سے پہلے بہتر یہ ہے کہ ایک بار تحریری طور پر اُسے اطلاع دیں کہ آپ صلح کرنا چاہتے ہیں، اور اُسے کہیں کہ وہ واپس آ کر گھر بسائے، بصورتِ دیگر آپ طلاق دے دیں گے۔
اگر اس کے بعد بھی وہ راضی نہ ہو تو شریعت کے مطابق ایک طلاق واضح الفاظ میں دے دیں۔ یاد رکھیں کہ تین طلاقیں ایک ساتھ دینا خلافِ سنت ہے۔طلاق کے بعد وہ تین ماہواریاں (عدّت) گزارے گی، اور اس عدّت کے بعد وہ آپ کے نکاح سے آزاد ہو جائے گی۔
حوالہ جات
وفی مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء ص: 281 ط: قديمي
"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمرًا أحدًا أن يسجد لأحدٍ لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها». رواه الترمذي".
سنن أبي داود (2 / 255):
عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق.
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 227):
’’ (وإيقاعه مباح) عند العامة لإطلاق الآيات أكمل (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) (أي منعه) (إلا لحاجة) كريبة وكبر والمذهب الأول كما في البحر، وقولهم الأصل فيه الحظر، معناه أن الشارع ترك هذا الأصل فأباحه، بل يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية، ومفاده أن لا إثم بمعاشرة من لاتصلي ويجب لو فات الإمساك بالمعروف ويحرم لو بدعيا. ومن محاسنه التخلص به من المكاره.
(قوله: لو مؤذية) أطلقه فشمل المؤذية له أو لغيره بقولها أو بفعلها ط ... (قوله: ومن محاسنه التخلص به من المكاره) أي الدينية والدنيوية بحر: أي كأن عجز عن إقامة حقوق الزوجة، أو كان لايشتهيها. قال في الفتح: ومنها أي من محاسنه جعله بيد الرجال دون النساء لاختصاصهن بنقصان العقل وغلبة الهوى ونقصان الدين. ومنها شرعه ثلاثا لأن النفس كذوبة ربما تظهر عدم الحاجة إليها ثم يحصل الندم فشرع ثلاثا ليجرب نفسه أولًا وثانيًا اهـ ملخصًا مطلب طلاق الدور.‘‘
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
2/2/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


