| 88923 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص کا انتقال ہوا ہے۔ اس کے ورثا میں ایک بیوی، دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ اس نے ترکہ میں 70,00,000 (ستر لاکھ) روپے چھوڑے ہیں۔ یہ رقم مذکورہ ورثا میں کیسے تقسیم ہوگی؟ کس کا کتنا حصہ ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جوکچھ منقولہ و غیر منقولہ مال، جائیداد، سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ سازوسامان چھوڑا ہے، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کاوہ قرض ادا کیا جائے جس کی ادائیگی مرحوم کے ذمہ واجب ہو۔ اس کے بعد اگر مرحوم نے غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو (اور اسی کے حکم میں نمازوں اور روزوں کے فدیہ کے لیے کی جانے والی وصیت بھی ہوگی، اگر وصیت کی ہو) تو بقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی (1/3) تک اس پر عمل کیا جائے۔ اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے، اس کو شرعی ورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔
مذکورہ بالا حقوق (کفن دفن، قرض اور وصیت اگر کی ہو) کی علی الترتیب ادائیگی کے بعد اگر سوال مذکورمرحوم کے انتقال کے وقت صرف یہی ورثاء ہوں جو سوال میں مذکور ہیں، تو کل منقولہ و غیر منقولہ ترکہ میں سے مرحوم کی بیوہ کو %12.5(875000)،ہر بیٹے کو %21.875(1531250)اور ہر بیٹی کو %10.9375(765625)حصہ دیا جائے۔
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ...
(ص:696, المكتبة الشاملة)
قال اللہ تعالی :
یوصیکم اللہ فی أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین.......وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْن [النساء/11]
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 238)
العصبة نوعان نسبية وسببية فالنسبية ثلاثة أنواع عصبة بنفسه، وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى، وهم أربعة أصناف جزء الميت وأصله وجزء أبيه، وجزء جده.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
2/2/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


