| 88295 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
ہمارے یہاں ایک بندے کا ڈیری فارم ہے اور اس نے گائیں کی دیکھ بھال اور چارہ کھلانے کیلئے مزدور بھی رکھا ہوا ہے ۔جیسے کہ فتاوی محمودیہ وغیرہ میں بھی یہ مسئلہ مذکور ہےکہ ڈیری فارم کی گائیں پر زکوٰۃ نہیں ہے بلکہ اس کی آمدنی پر ہے۔اب یہ مسئلہ دریافت کرنا ہےکہ اگر ڈیری فارم والے سال کے درمیان میں گائیں میں سے چار پانچ کو فروخت کردیتا ہے اور وہ پیسے بھی خرچ ہو جاتے ہیں تو کیا اس صورت میں جو گائیں فروخت کی ہیں اس پر زکوٰۃ ہو گی یا نہیں؟اگر زکوٰۃ ہے تو کیا عروضِ تجارت کی طرح ان پیسوں پر جو فروخت کرنے سے حاصل ہوا ہے حولان حول شرط ہے یا یہ کہ ان پیسوں کو ڈیری فارم کی مجموعہ آمدنی کے ساتھ ضم کیا جائےگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح رہے کہ نقد رقم بہر حال مالِ زکوٰۃ ہے،لہٰذا ڈیری فارم کے کاروبار میں گائیں یا ان کا دودھ بیچ کر جو نقد آمدنی حاصل ہواس پربقدر نصاب ہونے اور سال گزرنے کی شرط پر زکوۃ لازم ہوتی ہے،بذات خود گائیں اگر دودھ ہی کے لئے خریدی ہو،بیچنے کے لئے نہ خریدی ہوتو ان پر زکوٰۃ نہیں۔
صورت مسئولہ میں جو گائیں فروخت ہوتی ہیں چونکہ وہ تجارت یعنی بیچنے کی غرض سے نہیں خریدی گئیں بلکہ ان کو بانجھ پن یا بیماری کی وجہ سے بیچنا پڑ جاتا ہے ،لہٰذاایسے میں خود ان گائیں پر زکٰوۃ نہیں ہوگی۔البتہ جو رقم بیچنے سے حاصل ہوتی ہے اور دوسری نقدی سے مل کرمجموعی آمدنی کا حصہ بن جاتی ہے اس پر زکٰوۃ ہے۔ پھر اگر نقد آمدن پہلے سے بقدر نصاب ہو تو اس رقم پر الگ سال گزرنا شرط نہیں اور اگر اس رقم کے ملنے سے نصاب پورا ہو تو زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہونے کے لئے ایک پورا سال گزرنا لازم ہوگا۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 178):
لا شيء في الخيل، وهذا عندهما، وهو المختار للفتوى إلا أن تكون للتجارة كذا في الكافي. فإن كانت للتجارة فحكمها حكم العروض يعتبر أن تبلغ قيمتها نصابا سواء كانت سائمة أو علوفة.
حماد الدین قریشی عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
4/صفر المظفر/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


