| 88296 | روزے کا بیان | رمضان کا چاند دیکھنے اور اختلاف مطالع کا بیان |
سوال
عرض یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک مسئلہ معرکۃ الآراء بن چکا ہے، جس نے عوام کو بھی پریشان کر رکھا ہے اور علماء کو بھی۔ کوئی واضح فیصلہ سامنے نہیں آتا۔ مسئلہ رمضان اور عید کے چاند کا ہے۔ ہمارے کچھ علماء سعودی عرب کے ساتھ عید کرنے کے اور کچھ حکومتِ پاکستان کے ساتھ عید کرنے کےقائل ہیں ۔ ایک عالمِ دین نے تو یہ رائے ظاہر کی ہے: ’’دنیا میں ایک جگہ رمضان یا عید کا چاند نظر آجائے تو تو اس پر سب کو عمل کرنا واجب ہے۔‘‘اس رائے کے دلائل درج ذیل کتب سے دئے گئے ہیں: دلائل و حوالہ جات:- انعام الباری: 5/493 - فتاوی شامی: 2/104 المقالات الفقہیہ: 147 امداد الفتاوی: 2/108 - فتاوی رحیمیہ: 7/240 - فتاوی حقانیہ: 4/126 - فتاوی مفتی محمود: 3/446 - دارالعلوم مدلل: 6/353 - شرح فتح القدیر: 2/318 - أحسن الفتاوی: 4/481 - فتاوی محمودیہ: 15/36 - آپ کے مسائل اور ان کا حل: 3/330 - الفقہ الاسلامی: 2/610 - البحر الرائق: 1/270 - فتاوی عبد الحیئ: 255 - مجموعہ فتاوی: 5/79 - مراقی الفلاح: 1/540 - فتاوی بینات: 3/57 - فتاوی عالمگیری: 1/218 - اوجز المسالک: 5/5 - کفایت المفتی: 4/198 - فتاوی تتارخانیہ: 2/269 - رشیدیہ: 230
اب دریافت یہ کرنا ہے: 1. کیا سعودی عرب کے ساتھ روزہ اور عید منانا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اگر درست نہیں اور حکومتِ پاکستان کا فیصلہ ماننا ضروری ہے ، تو سوال میں مذکورہ تمام حوالہ جات کا کیا جواب ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سعودی حکومت کے رؤیت ہلال کافیصلہ حنفی مسلک کے خلاف ہونے کے علاوہ بسا اوقات ظاہر کے بھی خلاف ہوتاہے ،لہذا وہاں کافیصلہ غیرسعودی کے لیے حجت نہیں بن سکتا ،خصوصاً اہلِ پاکستان کے لیے ،اس لیے کہ یہاں حنفی مسلک کے مطابق مستند علماء کرام کی اورماہرین ِفلکیات کی بنائی ہوئی کمیٹی کی نگرانی میں پوری ذمہ داری کے ساتھ ملک بھرمیں متعددسرکاری رؤیت ہلال کمیٹیاں اوربعض غیر سرکاری کمیٹیاں رؤیت ِہلال کااہتمام کرتی ہیں ،اس کے بعد حکومت کی طرف سے چاند نظرآنے کا اعلان ہوتاہے ،لہذاپاکستان میں رہنے والوں پر مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق روزہ رکھنا اورعید کرنالازم ہے ،لہذا اگر کوئی پاکستان میں رہتے ہوئی سعودیہ کے اعلان کے مطابق روزہ وعید کرتاہے تووہ شریعت اورفنِ فلکیات کے اصولوں کے خلاف کررہاہے ،اُسے اس سے اجتناب اورگزشتہ پر توبہ واستغفارکرناچاہیے ،تاہم چونکہ مسئلہ اجتہادی ہے، اس لیے ایسےشخص پرروزہ توڑنےکی صورت میں کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھانوی رحمہ اﷲتعالیٰ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: ’’ حکومتِ سعودیہ میں رؤیتِ ہلال کا فیصلہ مسلکِ حنفیہ کے خلاف ہونے کے علاوہ بداہت کے بھی خلاف ہوتا ہے، اس لیے وہ پاکستان والوں کے لیے حجت نہیں۔‘‘(احسن الفتاویٰ: ۴/۶۲۴) حضرت والانے ایک استفتاء کے جواب میں سعودی ذمہ داروں کو بھی اس طرف توجہ دلائی تھی۔ چنانچہ سعودی ذمہ داروں کی طرف سے موصول ہونے والے ایک استفتاء کو نقل فرما کر لکھتے ہیں:’’اس کے جواب میں بندہ نے لکھا تھا کہ آپ کی رؤیتِ ہلال کا فیصلہ خلافِ ظاہر ہوتا ہے اور اس کی وجوہ تحریر کی تھیں، مگر پھر کوئی جواب نہ ملا۔‘‘
سعودی حکومت کے اعلان کے خلافِ ظاہر ہونے کی وجوہ:
1۔بحالتِ صحو(یعنی جب مطلع صاف ہو) جب رؤیت سے کوئی امر مانع نہیں ہوتا، پوری مملکت میں سے صرف ایک یادو افراد کا دیکھنا اور ان کے سوااور کسی کو بھی چاند نظر نہ آنا محالِ عادی ہے۔
2۔وہاں شہادت سے دوسرے روز بھی رؤیتِ عامہ نہیں ہوتی، یعنی دوسری رات کا چاند بھی عوام کو دکھائی نہیں دیتا۔
3۔چودھویں یا پندرہویں شب کو بدرِ کامل ہونا لازم ہے، مگر شہادت کے لحاظ سے سولہویں یا سترہویں کو بدرِ کامل ہوتا ہے۔
4۔جس روز مشرق کی طرف بوقتِ صبح چاند نظر آئے ، اس روز بلکہ اس سے ایک روز بعد بھی رؤیت محال ہے، کیونکہ ان ایام میں غروبِِ شمس سے قبل ہی قمر غروب ہوجاتا ہے اور سعودیہ میں بسااوقات اسی روز ہی رؤیت کا اعلان ہوجاتا ہے جس روز بوقتِ صبح مشرق میں چاند دیکھا گیا۔
5۔حجۃ الوداع کا بروزِ جمعہ ہونا تواتر سے ثابت ہے اور قمر کا دورِ صغیر وکبیر بھی مشاہد ومسلّم ہے، لہذا کسی ایسے دن کو غرّۃالشھر (مہینے کا پہلا دن) قرار دینا باطل ہے، جس کے حساب سے حجۃ الوداع یومِ جمعہ سے قبل ثابت ہو۔
6۔جہاں رؤیت پر شہادت ہوئی، اس کے سوا دنیا میں کہیں بھی حتی کہ مغربِ بعید میں بھی اس روز کہیں رؤیت نہیں ہوتی۔
7۔شہادت کی رُو سے چاند کی عمر کا پہلا دن پہلی تاریخ قرار پارہاہے،یہ بدیہی البطلان ہے، اس لیے کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہلال پیدائش سے قبل بھی نظر آسکتاہے۔‘‘ (احسن الفتاوی، ج ۴ ص ۴۲۷،۴۲۸)
تنبیہ: واضح رہے کہ سعودی عرب کی حدود میں ادا کی گئی عبادات (وقوف عرفہ، طوافِ زیارت، عمرہ، قربانی وغیرہ) حکم الحاکم رافع للخلاف، دفعِ حرج اور حدیث (الصوم یوم تصومون والفطر یوم تفطرون والا ضحی یوم تضحون) وغیرہ دلائل کی بنیاد پر صحیح ہیں، تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ سعودیہ اور دیگر بلادِ عرب کے ممتاز علماء کے فتویٰ میں اس بات کی تصریح ہے کہ ہر ملک کے باشندوں کو (سعودیہ وغیرہ کی بجائے) مقامی ہلال کمیٹی کے فیصلے کی پابندی کرنی چاہیے۔(مستفاد از تبویب جامعۃ الرشید:56860)
جہاں تک مذکورہ حوالہ جات کی بات ہے تو وہ اس بات کی تایید نہیں کرتے کہ سعودی عرب کے فیصلے کو ہمارے یہاں بھی نافذ العمل ہونا چاہئے بلکہ وہ فقہاء کرام کے عام قول پر اختلاف مطالع کے عدم اعتبار کے مؤید ہیں۔رہی یہ بات کہ بالخصوص سعودی عرب کا فیصلہ کیوں معتبر نہیں ہوسکتا،اس کا جواب تفصیل کے ساتھ سامنے آچکا ہے۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی:
]فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ[ (البقرة: 105)
الصحیح لمسلم 🙁762/2)
عن أبي ھریرة رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: "صوموا لرؤیتہ وأفطروا لرؤیتہ، فإن غمي علیکم فأکملوا العدد." متفق علیہ واللفظ لمسلم.
صحيح البخاري (ج 3 / ص 1080):
عن ابن عمر رضي الله عنهما : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ( السمع والطاعة حق ما لم يؤمر بالمعصية فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة ) رد المحتار (ج 21 / ص 479): "( قوله : أمر السلطان إنما ينفذ ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله أمرك قاض بقطع أو رجم إلخ التعليل بوجوب طاعة ولي الأمر وفي ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب ا هـ وقدمنا أن السلطان لو حكم بين الخصمين ينفذ في الأصح وبه يفتى ."
حماد الدین قریشی عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
04 /صفر المظفر 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


