| 88285 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
گزارش ہے کہ ایک والد، جن کے پاس وافر مقدار میں مال و جائیداد موجود ہے، انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی بیٹیوں کو نقد رقم (ہر بیٹی کو 20 لاکھ روپے) دے دی اور ان سے اسٹامپ پیپر پر ایک تحریری اقرار نامہ لیا کہ آئندہ کوئی بھی بیٹی اپنے والد کے مال و جائیداد میں کسی بھی قسم کا مطالبہ نہیں کرے گی، خواہ وہ مطالبہ عمومی ہو یا بطورِ میراث ہو۔
اس اقرار کے بعد والد صاحب نے اپنی باقی تمام مال و جائیداد، جو بیٹیوں کو دی گئی رقم کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھی، اپنے بیٹوں کے نام منتقل کر دی اور وہ جائیداد عملاً بیٹوں کےقبضہ و تصرف میں بھی آچکی ہے۔
کیا والد کا اپنی زندگی میں اس طرح جائیداد تقسیم کرنا اور پھر اس میں بیٹیوں کو کم اور بیٹوں کو زیادہ مال و جائیداد دینا، شرعاً درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کوئی شخص اگر اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو شرعًا یہ ہبہ شمار ہوتا ہے۔ اس میں اصل اور بہتر تو یہ ہے کہ تمام اولاد یعنی لڑکوں اور لڑکیوں سب کو برابر برابر حصہ دے، لیکن اگر میراث کے مطابق یعنی لڑکے کو لڑکی سے دگنا حصہ دے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ کسی ایک یا چند بچوں، بالخصوص بیٹیوں کو بالکل محروم کرنا یا بہت معمولی حصہ دینا جائز نہیں، ایسا کرنے سے وہ سخت گناہ گار ہوگا۔
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں، صورتِ مسئولہ میں اگر والد نے بیٹوں کے نام جو جائیداد منتقل کی ہے، وہ بیٹیوں کو دی گئی رقم (یعنی فی بیٹی 20 لاکھ روپے) کے مقابلے میں دگنا یا دگناہ کے قریب ہو،تو یہ تقسیم درست شمار ہوگی۔ لیکن اگر بیٹیوں کو دیا گیا حصہ اس (بیٹوں کے حصہ )کے مقابلے میں بہت کم ہے اور اس میں ظلم یا زیادتی کا پہلو پایا جاتا ہے تو اس کی تلافی شرعاً لازم ہے۔
تلافی کی صورت یہ ہے کہ اگر والد کے پاس ابھی کچھ اور مال یا جائیداد موجود ہو تو وہ بیٹیوں کو بھی اتنا حصہ دے دے جو بیٹوں کو دی گئی جائیداد کے برابر یا اس کا نصف ہو،اور اگر والد کے پاس مزید کوئی مال و جائیداد نہ ہو، تو بیٹوں پر اخلاقاً و شرعاً لازم ہے کہ وہ اپنے والد کو اس گناہ سے بچانے کے لیے اپنی جائیداد میں سے اپنی بہنوں کو حصہ دے دیں، تاکہ کوئی بھی آخرت میں مواخذے کا شکار نہ ہو۔لیکن اگر بیٹے حصہ نہ دیں اور والد کے انتقال کے بعد بہنوں کو شرعی میراث سمجھتے ہوئے جائیداد میں سے ان کا حق دیا جائے اور بہنیں راضی ہو جائیں، تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے والد اُخروی مواخذے سے محفوظ رہیں گے۔
یہ بات بھی واضح رہے کہ جب والد نے اپنی جائیداد اور پیسے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان تقسیم کردیے اور ان کو اس کا قبضہ و تصرف بھی دے دیا تو شرعاً یہ ہبہ(گفٹ) مکمل ہوگیا اور وہ اس کے مالک بن گئے ۔ اب والد ان کی رضامندی کے بغیر ان سے وہ رقم یا جائیداد واپس نہیں لے سکتا۔
حوالہ جات
القرآن الکریم (النساء : ١٢):
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ...
مشکاۃ المصابیح (1/261باب العطایا، ط: قدیمی)
و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني نحلت ابني هذا غلاماً ، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال : لا قال : «فأرجعه» و في رواية قال : «فاتقوا الله و اعدلوا بين أولادكم»'۔اھ
الفتاوى العالمكيرية : (4/377):
ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغاء هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك، والإذن تارة يثبت نصا وصريحا وتارة يثبت دلالة.
شرح المجلۃ (1/264، مادۃ: 97، ط: رشیدیہ)
"لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي".
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
04 /صفر/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


