03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رؤیت ہلال کے موقع پر اختلاف کی صورت میں علماء کرام کی ذمہ داری
88299روزے کا بیانرمضان کا چاند دیکھنے اور اختلاف مطالع کا بیان

سوال

رؤیت ہلال کی مختلف فیہ صورت حال میں علماء کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ اور عوام کس فریق کی بات مانیں۔ جب علماء ہی دو گروہوں میں بٹے ہوں؟ رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کی شرعی حیثیت سے لوگوں کوآگاہی دیں اورحکمت وبصیرت کے ساتھ لوگوں کومرکزی کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق عمل کروانے کی کوشش کریں ،غیرسرکاری کمیٹیوں کے فیصلے سےجوملک میں انتشاراورفتنہ فساد ہوتاہے اس کے نقصانات سے لوگوں کوآگاہ کرکے اجتماعیت کی طرف راغب کریں۔عوام بھی علماء کرام پر اعتماد کریں اور انتشار  اور تفرقہ سے بچنے کی خوب کوشش کریں۔  (مستفاد از تبویب جامعۃ الرشید:59024)

حوالہ جات

قال تعالى:

]یا أیھا الذین آمنوا أطیعوا اللہ وأطیعوا الرسول وأولي االأمر منکم[ (النساء: 59)

صحيح البخاري (ج 3 / ص 1080):

 عن ابن عمر رضي الله عنهما : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ( السمع والطاعة حق ما لم يؤمر بالمعصية فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة ) رد المحتار (ج 21 / ص 479): "( قوله : أمر السلطان إنما ينفذ ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله أمرك قاض بقطع أو رجم إلخ التعليل بوجوب طاعة ولي الأمر وفي ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب ا هـ وقدمنا أن السلطان لو حكم بين الخصمين ينفذ في الأصح وبه يفتى

حماد الدین قریشی عفی عنہ

دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

04 /صفر المظفر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب